image
Wednesday, Aug 12 2020 | Time 12:01 Hrs(IST)
  • پولیس سب انسپکٹر سے 11 لاکھ روپے برآمد
  • پولیس کا بانڈی پورہ میں ایک جنگجو کو گرفتار کرنے کا دعویٰ
  • ایک دن میں کورونا سے 56،110 افراد شفایاب ، مجموعی تعداد 16 40 لاکھ ہوگئی
  • نیمچ میں کورونا کے 18 نئے کیسز
  • سری نگر میں سی آر پی ایف افسر نے خود کو گولی مار کر زخمی کر دیا
  • تلنگانہ میں کورونا کے 1897نئے معاملات درج
  • بالی ووڈ اداکارہ یوگیتابالی گمنامی کے اندھیرے میں
  • وینکیا نے جنم اشٹمی کے موقع پر مبارکباد دی
  • قابل اعتراض پوسٹ پرکرناٹک میں تشدد،پولیس کی فائرنگ سے 3 افراد ہلاک،ڈیڑھ سو سے زائد گرفتار
  • ایکسپریس وے پر کھڑی بس میں کینٹرکی ٹکر،4 افراد ہلاک ،10 زخمی
  • گہلوت نے جنم اشٹمی پر مبارکباد دی
  • پلوامہ میں تصادم، ایک جنگجو اور ایک فوجی جوان ہلاک
  • صدرکووند نےعوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
  • جوبائیڈن نے کملا ہیرئس کو نائب صدارتی امیدوار بنایا
Entertainment » Celebrity Brithday

اپنی آواز سے سامعین کو دیوانہ بنانے والے مکیش اداکار بننا چاہتے تھے

اپنی آواز سے سامعین کو دیوانہ بنانے والے مکیش اداکار بننا چاہتے تھے

(27اگست برسی کے موقع پر)
ممبئی، 26 اگست (یو این آئی) پلے بیک گلوکاری سے تقریباً 3 دہائیوں تک اپنی آواز سے سامعین کو اپنا دیوانہ بنانے والے مکیش دراصل ہندی فلموں میں ایک اداکار کے طور پر اپنی شناخت بنانا چاہتے تھے۔
لیکن ان کی یہ حسرت پوری نہ ہوسکی۔
قسمت ان سے کچھ اور ہی کرانا چاہتی تھی۔
کوشش تو بہت کی، ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے اداکاری نہیں کی ، کئی فلموں میں انہوں نے اداکاری بھی کی لیکن ناظرین نے ان کی اداکاری کو قبول نہیں کیا۔
ان کا خواب تھا کہ اداکاری کے ذریعہ فلم انڈسٹری میں اپنی منفرد شناخت بنائیں لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

مکیش چند ماتھر کی پیدائش 22 جولائی 1923 کو دہلی میں ہوئی تھی۔
ان کے والد لالہ زورآور چند ماتھر ایک انجینئر تھے اور وہ چاہتے کہ مکیش ان کے نقش قدم پر چلیں لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
وہ اس زمانے کے مشہور گلوکار و ادکار کندن لال سہگل کےبڑے پرستار تھے اور انہیں کی طرح گلوکاری کے ساتھ ساتھ اداکاری کرنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔

مکیش نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسکول کو خیرباد کہہ دیا تھا اور دہلی پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ سرویئر کی نوکری کرلی تھی جہاں انہوں نے سات مہینوں تک کام کیا۔
اسی دوران اپنی بہن کی شادی میں گیت گاتے وقت ان کے دور کے رشتے دار اور مشہور اداکار موتی لال نے ان کی آواز سنی اوروہ ان سے کافی متاثر ہوئے۔
موتی لال 1940 میں مکیش کو بمبئی لے آئے اور اپنے ساتھ رکھ کر پنڈت جگن ناتھ پرساد سے انہیں گلوکاری کی تعلیم دلانے کا انتظام کیا۔

اسی دوران 1940 میں خوبرو مکیش کو ایک ہندی فلم ’نردوش‘ میں اداکاری کرنے کا موقع ملا۔
اس فلم میں انہیں موسیقار اشوک گھوش کے ہدایت کاری میں اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کرنے کا بھی موقع ملا اور انہوں نے ’دل ہی بجھا ہوا ہو تو‘ اپنا پہلا گیت گایا۔
یہ فلم باکس آفس پر بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔
اس کے بعد مکیش نے ’دکھ سکھ‘ اور ’آداب عرض ‘ جیسی دیگر فلموں میں بھی کام کیا لیکن وہ کوئی شناخت بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

جاری۔
یو این آئی۔
شا پ۔
1157

image