image
Saturday, Feb 24 2024 | Time 12:30 Hrs(IST)
Entertainment

شہنشاہ جذبات دلیپ کمار

(11 دسمبر یوم پیدائش کے موقع پر)
ممبئی، 10 دسمبر (یو این آئی) ہندی سینما کے لازوال فنکار دلیپ کمار 11 دسمبر 1922 کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں پھلوں کے تاجر غلام سرور خان کے ہاں یوسف خان کے نام سے پیدا ہوئے۔
دلیپ کمار کے بقول ان کا تعلق ہندکو بولنے والی اعوان برادری سے ہے۔

چونکہ ان کے والد کے پھلوں کے باغات ناسک (مہاراشٹر) کے قریب بھی تھے اس لیے ان کی ابتدائی تعلیم کا آغاز ناسک کے قریب دیو لالی کے برنس اسکول سے ہوا۔
غالباً 1932میں ان کے خاندان نے ہمیشہ کے لئے ممبئی کو اپنا ٹھکانہ بنالیا۔
انجمن اسلام اسکول سے میٹرک اور خالصہ کالج سے بی اے کرنے کے بعد انہیں پونا کے ملٹری کینٹین میں مینیجر کی نوکری مل گئی۔

وہ 1942کا پرآشوب سال تھا جب پورے ہندوستان میں آزادی اور تقسیم کے نعرے گونج رہے تھے، نوجوان یوسف خان اپنے والد کے ایک دوست کے ہمراہ شوٹنگ دیکھنے بمبئے ٹاکیز پہنچے۔

ہندی سینما کی خاتون اول اور بامبے ٹاکیز کی شریک سربراہ دیویکا رانی کو مردم شناس مانا جاتا ہے اور اس مردم شناس کی نظر شوٹنگ دیکھنے والے پشاوری نوجوان پر پڑی۔
انہوں نے نوجوان سے پوچھا، کیا آپ کو اردو آتی ہے؟ ہاں میں جواب سن کر خاتون نے دوسرا سوال داغا، اداکاری کروگے؟ نوجوان نے جو جواب دیا سو دیا مگر اس جواب کی گونج آج تک سنائی دیتی ہے اور نجانے کب تک سنائی دیتی رہے گی۔
جب یوسف خان سے دلیپ کمار بنتے فنکار کی بات ہوگی تب تب دیویکارانی کا ذکر بھی آئے گا۔

انہوں نے بامبے ٹاکیز کی ملازمت اختیار کرکے تین فلموں کے معاہدے کیے۔
اس زمانے کے فلمی چلن کے مطابق ان کے سامنے تین فلمی نام رکھے گئے واسو دیو، جہانگیر خان اور دلیپ کمار۔
انہوں نے جہانگیر خان کا نام پسند کیا مگر معروف مصنف بھگوتی چرن ورما نے دلیپ کمار پر اصرار کیا بعد ازاں اس اصرار کے پلڑے میں دیویکا رانی نے بھی اپنا وزن ڈال دیا، بالآخر یوسف خان دلیپ کمار بن گئے۔

1944 میں امیہ چکرورتی کی ہدایت میں ان کی پہلی فلم “جواربھاٹا” ریلیز کی گئی۔
یہ ایک میوزیکل ڈرامہ ہے جس میں دلیپ کمار کی اداکاری انتہائی بھونڈی اور بکواس ہے۔

اس کے بعد 1945ءاور 1947کو بامبے ٹاکیز کے بینر تلے ان کی دو فلمیں بالترتیب پرتیما اور ملن آئیں۔
یہ فلمیں بھی عوام کو متوجہ کرنے میں ناکام رہیں البتہ ملن میں اس دلیپ کمار کی جھلک ضرور ملتی ہے جس نے بعد میں ہندی سینما کو ایک نئی پہچان دی۔

سال 1947 کے ہنگامہ خیز سال میں جہاں “ملن” نے ناکامی کا منہ دیکھا وہاں شوکت حسین رضوی کی ہدایت میں ان کی چوتھی فلم “جگنو” نے دھماکہ خیز انٹری کی۔
اس فلم کی ہیروئن شوکت رضوی کی شریک حیات اور بعد میں ملکہ ترنم کا خطاب پانے والی نورجہاں تھیں۔
فلم کی کامیابی سمیٹتے سمیٹتے شوکت رضوی اور نورجہاں نوزائیدہ پاکستان ہجرت کرگئے تاہم وہ جاتے جاتے ہندی سینما کو وہ تحفہ دے گئے جس نے جگنو جیسی ہی روشنی پائی۔

سال 1948ءکو آزاد ہندوستان کی فضاؤں میں ان کی پانچ فلمیں سینما کی زینت بنیں مگر کامیابی صرف “شہید” کو ملی، گو کہ شہید بھی کچھ خاص نہیں ہے مگر جدوجہد آزادی کے مناظر اور خوبصورت گیتوں کے باعث جذبہ قوم پرستی سے سرشار عوام نے اسے خوب پذیرائی بخشی۔
دلیپ کمار انڈسٹری میں جگہ بنا چکے تھے مگر ان کی حیثیت تاحال دوسرے درجے کی تھی۔

جاری۔
یو این آئی۔
این یو۔
image