image
Wednesday, Aug 12 2020 | Time 12:58 Hrs(IST)
  • بلندشہر:سدیکشا بھاٹی کی موت کی رپورٹ 3دنوں میں
  • ۔۔۔۔۔
  • بہار، آسام اور اتر پردیش میں ایک دن میں کورونا کے سب سے زیادہ فعال کیسز
  • بستی:ایم ایل اے کے فون پر وزیراعظم کو دھمکی، مقدمہ درج
  • سیل فون یا کمپیوٹر کا گھنٹوں تک مسلسل استعمال آنکھوں کے لئے ضرر رساں: ماہرین امراض چشم
  • حیدرآباد میں کورونا وائرس سے ایک پولیس کانسٹیبل کی موت
  • انقلابی انداز، نئی جہت، نیا پیغام،کلام راحت کا ایک خاص اثر۔راحت اندوری کو مشہور شاعر سردار سلیم کا خراج
  • وزیر اعظم کل ’شفافیت پر مبنی ٹیکس- ایماندار کا احترام ‘ پلیٹ فارم لانچ کریں گے
  • پولیس سب انسپکٹر سے 11 لاکھ روپے برآمد
  • پولیس کا بانڈی پورہ میں ایک جنگجو کو گرفتار کرنے کا دعویٰ
  • ایک دن میں کورونا سے 56،110 افراد شفایاب ، مجموعی تعداد 16 40 لاکھ ہوگئی
  • نیمچ میں کورونا کے 18 نئے کیسز
  • سری نگر میں سی آر پی ایف افسر نے خود کو گولی مار کر زخمی کر دیا
Entertainment » Celebrity Brithday

لفظ ’کے‘ سے فلم بنانا خوش قسمتی سمجھتے ہیں راکیش روشن

لفظ ’کے‘ سے فلم بنانا خوش قسمتی سمجھتے ہیں راکیش روشن

چھ ستمبر سالگرہ کے موقع پر جاری
ممبئی، 5 ستمبر (یو این آئی) بالی وڈ میں راکیش روشن کا نام ایک ایسے فلمساز کے طور پر شمار کیا جاتا ہے جو اپنی تخلیق کردہ فلموں سے کئی دہائیوں سے بھی زائد عرصہ سے ناظرین کو مسحور کررہے ہیں ۔

راکیش روشن کی پیدائش چھ ستمبر 1949ممبئی میں ہوئی ، ان کے والد روشن فلم انڈسٹری کے مشہور موسیقار تھے۔
انہوں نے اپنی فلمی کیرئیر کا آغاز 1970 میں فلم گھر گھر کی کہانی سے کیا تھا۔
بطور ہیرو 1971میں ریلیز فلم ’پرایا دھن ‘ ان کی پہلی فلم تھی جو سپرہٹ رہی۔
بعدازاں انہوں کئی فلموں میں کام کیا لیکن کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔

اداکاری کے شعبے میں متوقع کامیابی حاصل نہیں کرپانے کے بعد راکیش روشن نے 1980 میں فلم ’آپ کے دیوانے‘ کے ذریعے فلم سازی کے میدان میں قدم رکھا ۔
اس کے بعد 1982 میں انہوں نے فلم کام چور بنائی ۔
انہوں نے ان دونوں فلموں میں اداکاری بھی کی۔
کے وشوناتھ کی ہدایت میں بنی اس فلم کے سپرہٹ ہونے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا کہ لفظ ’کے‘ ان کے لئے باعث خوش قسمتی ہے اور انہوں نے اپنی آئندہ سبھی فلموں کے نام ’کے‘ سے رکھنے شروع کردیئے۔

جاری۔
یو این آئی۔
شا پ۔
1151

image