image
Thursday, Sep 24 2020 | Time 16:21 Hrs(IST)
  • ہائیڈروجن ایندھن سیلس گاڑیوں کے لئے اسٹینڈرڈ نوٹیفائڈ
  • تری پورہ-آسام سرحد پر تین نائجیریائی گرفتار
  • منی پور میں تین وزرا کو ہٹایا گیا
  • 'آیا آغا حسن نظر بند ہیں یا آزاد': جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا حکام سے جواب طلب
  • پرائیویٹائزیشن کے خلاف 25ستمبر سے شروع ہوگی تحریک
  • پی ایم سوانیدھی میں 15 لاکھ سے زیادہ درخواستیں
  • دہلی کے خلاف میچ میں ناقدین کو خاموش کرنے اتریں گے دھونی
  • مرکز کویوپی ای سی پری امتحان ملتوی کرنے سے متعلق درخواست پر نوٹس
  • گورکھپور میں کورونا وائرس کے 208 نئے معاملے
  • پاکستانی ٹیم کا انتخاب کارکردگی کی بنیاد پر
  • آسٹریلیا،ویسٹ انڈیز ٹی ٹوئنٹی سیریز ملتوی
  • اسٹرتھویٹ کا میلبورن رینیگڈز کے ساتھ دوبارہ معاہدہ
  • کینیڈا کی اسٹار بیانکا آندرسکو فرنچ اوپن سے دستبردار
  • استقلال کی اے ایف سی چمپئنز لیگ میں پیشرفت
Entertainment » Art and Theatre

بھارت رتن شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان

بھارت رتن شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان

(21مارچ پیدائش کے موقع پر)
نئی دہلی، 20 اگست (یو این آئی) دُنیا بھر میں شہنائی کو شناخت دلانےاور اسے خاص و عام میں مقبول بنانے والے معروف شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان کی پیدائش21 مارچ 1916 کو بہار کے گاؤں (دمراؤں) ضلع بکسر کے پیغمبربخش اور والدہ مٹھاں کے گھر ہوئی تھی۔
بسم اللہ خان کے آباؤ اجداد بھوج پور ضلع بہار کے شاہی دربار میں نقار خانہ میں ملازم بھی تھے۔
ان کے والد پیغمبر بخش خان مہاراجہ جودھ پور کے دربار میں شہنائی نواز تھے۔
اس سے پہلے ان کےپردادا استاد سالار حسین خان اور دادا رسول بخش خان بھی دمراؤں کے شاہی دربار میں گاتےتھے۔
ماں باپ نے اُن کانام امیرالدین خان رکھا تھا لیکن دادا نے امیرخان کو بسم اللہ میں بدل دیا اور ہاتھ میں شہنائی تھما دی۔
چونکہ موسیقی انہیں میراث میں ملی تھی اسی لیے بچپن سے ہی موسیقی میں دلچسپی رکھنے والے بسم اللہ خان نے اپنے ماموں علی بحش سےشہنائی نوازی کی تعلیم حاصل کی اور پھر بعد میں بسم اللہ خان انہی کے ساتھ کاشی کے وشوناتھ مندر میں شہنائی بجانےلگے۔
چار یا پانچ برس کی عمر میں بنارس آ گئے تھے۔

انہوں نے پہلی مرتبہ 14 برس کی عمر میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تو اہلِ فن نے ان کے کمالِ فن کی پیش گوئی کر دی تھی۔
جواہر لعل نہرو نے انہیں پہلی مرتبہ(استاد) کہہ کر پکارا تھا اور پھر تا حیات وہ استاد بسم اللہ کے نام سے ہی پکارے گئے۔
استاد بسم اللہ خان کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ انہوں نے ہی پندرہ اگست 1947کی نصف شب لال قلعہ میں شہنائی بجا کر ہندوستان کی آزادی کا خیر مقدم کیا تھا۔

جاری۔
یو این آئی۔
شا پ۔
1026

image