RegionalPosted at: Sep 13 2025 7:27PM سیاسی ، ثقافتی اور معاشی واقعات زبان کی تشکیل اور اس کے ارتقاء پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں:راجیورنجن

اعظم گڑھ ،13 ستمبر(یواین آئی) سیاسی ، ثقافتی اور معاشی واقعات زبان کی تشکیل اور اس کے ارتقاء پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں اسی طرح جب دو مختلف قومیں اور ثقافتیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو ایک نئ زبان وجود میں آتی ہے اس کی روشن مثال اردو ہے ان خیالات کااظہار ہریانہ پولیس میں اعلی عہدے پر فائز اور اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے مسٹر راجیورنجن نے یہاں شبلی نیشنل کالج کے شعبہ تاریخ میں" بھاشا اور زبان" کے موضوع پراپنے خطاب میں کیا۔ انہوں نے زبان کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوۓ تاریخی دستاویز ،ثقافتی تسلسل اور سماجی وسیاسی تبدیلیوں پر زبان کے اثرات کس طرح پڑتے اس پر زور دیا۔مسٹر راجیورنجن نے مزید کہا کہ زبان کے مطالعہ سے تاریخ کے مختلف ادوار کو سمجھا جا سکتا ہے۔اس پس منظر میں اردو اور ہندی کی اہمیت کو بھی انہوں اجاگر کیا اور دونوں زبانوں کے فوائد گنائے۔انہون نے کہا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہمیں ہر زبان سیکھنی اور پڑھنی چاہئے ۔
پروگرا م کی صدارت شعبہ کے صدر پروفیسر علاءالدین خان نے کی انہوں نے کہا کہ زبان اور تاریخ کا گہرا تعلق ہے زبان کسی قوم کی تاریخ ،تہذیب اور سماجی وسیاسی ارتقاء کی عکاسی کرتی ہے جبکہ تاریخ زبان کی تشکیل اور ارتقاء پر اثر انداز ہوتی ہے۔تاریخ کی بدولت زبانوں کی اصل اس کی وسعت اور دوسری زبانوں سے اس کا تعلق واضح ہوتا ہے۔
انہوں نے طلباء وطالبات کو یہ تاکید کی کہ وہ مختلف زبانوں کو سیکھیں یہ ان کی معاشی ترقی کا باعث بھی ہوگا اور وہ اپنے اور دیگر ممالک کی تاریخ وثقافت کو بھی بآسانی سمجھ سکیں گے۔۔۔۔۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر شہر یار نے کی مہمان کا تعارف ڈاکٹر تبریز عالم نے کرایا اور ڈاکٹر سدھارتھ سنگھ نے شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر شعبہ تاریخ کے طلبا و طالبات کثیر تعداد میں حاضر رہے۔
یواین آئی۔ایف اے