NationalPosted at: Jul 20 2026 7:02PM لوک سبھا میں مانسون سیشن کا پہلا دن پیپر لیک معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کی نذر

نئی دہلی، 20 جولائی (یواین آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن پیر کو قومی اہلیت و داخلہ ٹیسٹ (نیٹ) کے پیپر لیک ہونے کے معاملے پر زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے کوئی کام کاج نہ ہو سکا اور بار بار کے التوا کے بعد ایوان کی کارروائی منگل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن ارکان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بھی لگا رہے تھے۔
ایوان میں آج صبح سے ہی نعرے بازی اور ہنگامے کی وجہ سے بار بار کارروائی ملتوی کی جاتی رہی، اور دن میں آخری بار دوپہر تین بجے ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر بھی ہنگامے کا سلسلہ جاری رہنے پر پریذائیڈنگ آفیسر جگدمبیکا پال نے کارروائی کو کل صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔ آج دوپہر تین بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر کانگریس، ڈی ایم کے، سماج وادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے کئی ارکان ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔ وہ نیٹ پیپر لیک معاملے اور وزیر تعلیم پردھان کے استعفے کے مطالبے پرزوردے رہے تھے۔ ان میں سے کچھ کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھیں جن پر نیٹ پیپر لیک کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے۔
پریذائیڈنگ آفیسر پال نے ارکان سے اپنی اپنی نشستوں پر جانے اور ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کی اپیل کی۔ اس اپیل کے باوجود ہنگامہ نہ رکنے پر مسٹر پال نے کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔ اس سے قبل لنچ بریک کے بعد بھی کارروائی ٹھیک سے نہیں چل سکی اور پریذائیڈنگ آفیسر کو ایوان کی کارروائی تین بجے تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ کھانے کے وقفے کے بعد جیسے ہی ڈھائی بجے کارروائی شروع ہوئی، پریذائیڈنگ آفیسر نے ارکان سے رول 377 کے تحت اپنے مسائل اٹھانے کے لیے کہا، لیکن اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پلے کارڈز لے کر ایوان کے وسط میں آ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔
مسٹر پال نے کہا کہ عوام نے ارکانِ پارلیمنٹ کو اپنی امیدوں کے ساتھ لوک سبھا میں بھیجا ہے۔ ایوان میں پلے کارڈز اور بینر لے کر آنا اور نعرے بازی کرنا مناسب نہیں ہے اور اس کی اجازت نہیں ہے۔ کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس کے کے سی وینوگوپال نے کورم کا مسئلہ اٹھایا۔ اپوزیشن کے کچھ ارکان نے الزام لگایا کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو ایوان میں آنے سے روکا جا رہا ہے، لیکن مسٹر پال نے اس الزام کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ایسا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پریذائیڈنگ آفیسر نے اپوزیشن ارکان سے ہنگامہ بند کر کے اپنی اپنی نشستوں پر لوٹنے کی اپیل کی، لیکن ہنگامہ جاری رہنے پر انہوں نے ایوان کی کارروائی تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔
سیشن کے پہلے دن صبح 11 بجے کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔ اسپیکر اوم برلا نے وقفہ سوالات چلانے کی کوشش کی اور کچھ ارکان کو سوال پوچھنے کی اجازت بھی دی۔
تاہم ہنگامے کی وجہ سے کچھ بھی سنائی نہیں دیا۔ مسٹر برلا نے ہنگامہ کرنے والے ارکان سے کہا کہ مانسون سیشن کا آج پہلا دن ہے، وہ ہنگامہ نہ کریں اور ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلنے دیں۔ وہ تمام ارکان کو قواعد کے مطابق اپنی بات کہنے کا پورا وقت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامہ اور شور شرابے کا عوام میں اچھا پیغام نہیں جاتا۔ یہ ایوان لوگوں کے مسائل اور مشکلات پر بحث کرنے اور ان کا حل نکالنے کے لیے ہے۔ وہ اپنی اپنی نشستوں پر جائیں اور وقفہ سوالات چلنے دیں۔ اپوزیشن ارکان پر مسٹر برلا کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ ہنگامہ کرتے رہے۔ اس پر اسپیکر نے کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
اس کے بعد بھی نیٹ پیپر لیک اور وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن ارکان کا ہنگامہ جاری رہا اور ایوان کی میٹںگ دن بھر کے لیے ملتوی کرنے سے پہلے کارروائی کئی بار ملتوی کرنی پڑی۔
یواین آئی۔الف الف