Science TechnologyPosted at: Feb 13 2026 5:56PM ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت میں مصنوعی ذہانت ایک نئے انقلاب کا پیش خیمہ

نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی) موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت محض ایک تکنیکی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ تخلیقی صلاحیتوں سے لے کر ضابطہ بندی تک، ترقی کے تمام مروجہ اصولوں کو یکسر تبدیل کر رہی ہے ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت، سرمایہ کاری اور روزگار کے شعبوں میں اے آئی ملک کو ایک روشن مستقبل کی سمت گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ہندوستان کے مسابقتی کمیشن (سی سی آئی) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر اے آئی کی مارکیٹ جو 2020 میں 103.6 ارب ڈالر تھی، 2024 تک بڑھ کر 288.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اسی تناظر میں، ہندوستانی مارکیٹ نے بھی غیر معمولی نمو درج کی ہے، جہاں اس کا حجم 2.97 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7.63 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ 42.2 فیصد کی سالانہ شرحِ نمو کے ساتھ، 2032 تک ہندوستان میں اے آئی مارکیٹ کا حجم 131.31 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
ہندوستان دنیا کی سب سے جوان افرادی قوت کے حامل ممالک میں شامل ہے، جہاں 65 فیصد سے زائد آبادی 35 سال سے کم عمر ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر اے آئی کو افرادی قوت کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ہندوستان کے لیے یہ سب کی شمولیت والی ترقی اور اختراع کا ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔
جنوبی ایشیا میں جنوری 2023 سے مارچ 2025 کے درمیان اے آئی سے متعلقہ ملازمتوں کے اشتہارات میں دو گنا سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے (2.9فیصد سے بڑھ کر 6.5فیصد)۔ اس عرصے میں اے آئی کی مہارتوں کی طلب دیگر شعبوں کے مقابلے میں 75 فیصد زیادہ رہی ہے، جس کا زیادہ تر رجحان شہری علاقوں اور اعلیٰ تنخواہ والی 'وائٹ کالر' ملازمتوں میں پایا گیا۔
اسٹینفورڈ اے آئی انڈیکس رپورٹ 2025 کے مطابق، ہندوستان اے آئی ٹیلنٹ کے حصول میں دنیا بھر میں پیش پیش ہے۔ اس شعبے میں ہندوستان کی سالانہ شرح تقریباً 33 فیصد ہے۔
نیتی آیوگ نے اپنی رپورٹ 'تیز رفتار اقتصادی ترقی کے مواقع' میں واضح کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے ہندوستان 2035 تک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ 'مہارت کے فرق' کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق، ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہر 20 میں سے ایک ملازمت کے لیے کم از کم ایک نئی تکنیکی مہارت کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جو مارکیٹ میں تیزی سے ہوتی تبدیلیوں کا عکاس ہے۔
ہندوستان اس وقت اے آئی کے زیرِ اثر تبدیلیوں کے ہراول دستے میں شامل ہے۔ مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، نوجوان افرادی قوت اور حکومت کی ترقی پسندانہ پالیسیاں اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ ٹیکنالوجی کو شمولیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ حکومت کا مربوط نقطہ ٔنظر نہ صرف روزگار کی فراہمی کو بہتر بنا رہا ہے بلکہ ایک ایسی افرادی قوت تیار کر رہا ہے جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر لیس ہے۔
علاوہ ازیں، عالمی سطح پرہندوستان کی اس بڑھتی ہوئی ساکھ کی توثیق اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی 'گلوبل اے آئی وائبرینسی رینکنگ 2025' سے بھی ہوتی ہے، جس میں ہندوستان نے دنیا بھر میں تیسرا نمایاں ترین مقام حاصل کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کے حصول اور ان کے عملی استعمال کی شرح عالمی اوسط کے مقابلے میں 2.5 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جوہندوستان کی افرادی قوت کی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تکنیکی انقلاب کی بنیادوں میں ملک کا مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر، ابھرتی ہوئی کاروباری صلاحیت اور منفرد آبادیاتی خصوصیات کلیدی محرکات کے طور پر کارفرما ہیں۔ 'نیسکام اے آئی ایڈاپشن انڈیکس' کے تازہ ترین اعداد و شمار اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ ہندوستان کے 87 فیصد کاروباری ادارے اس وقت عملی طور پر اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ملک مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں ایک عالمی قوت بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
یو این آئی۔ م ک