NationalPosted at: Jan 12 2026 6:47PM آرٹیفیشیل انٹلی جنس صحافت کا معاون ہے متبادل نہیں

نئی دہلی، 12 جنوری (یو این آئی) دنیا کے تمام شعبہ حیات پر حاوی ہوتے آرٹیفیشیل انٹلی جنس (اے آئی) کے امکانات اور خدشات پر روشنی ڈالتےہوئے معروف صحافی اسد مرزا نے کہا کہ اے آئی صحافت کا معاون ہے متبادل نہیں, یہ بات انہوں نے گزشتہ شام عالمی کتاب میلہ میں 'کونسل آف مسلم ایلڈرس'کے زیر اہتمام 'اے آئی فور ہیومنٹی: ریلیجیس پریسپکٹیوآن ایتھیکل آرٹیفیشیل انٹلی جنس' کے عنوان سے منعقدہ مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہی۔
انہوں نےکہا کہ جہاں تک صحافت میں مصنوعی ذہانت کا تعلق ہے، جب مصنوعی ذہانت منظرعام پر آئی تو شدید خدشات پیدا ہوئے کہ یہ خاص طور پر تحریری شعبے اور مواد کی تیاری میں ملازمتوں کو ختم کردے گی۔ یہ خدشات کسی حد تک درست بھی ثابت ہوئے لیکن ایک حد تک ہی۔ گزشتہ برس مارچ میں معروف اطالوی اخبار ایل فولجیو نے پہلی مرتبہ چار صفحات پر مشتمل ایک ضمیمہ شائع کیا جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا تھا—خبروں کا انتخاب، صفحہ سازی، خبر کی ترتیب، ایڈیٹنگ، سب کچھ اے آئی نے کی تھی۔اس میں سب کچھ تھا لیکن انسانی جذبات جو خبروں نمایاں ہوتے ہیں، غائب تھے۔
مسٹر اسد مرزا جو یو این آئی اردو سروس کے ایڈیٹر بھی ہیں، نے مزید بتایا کہ اگلے دن برطانوی اخبار دی گارڈین نے اس ضمیمے کو اپنے اے آئی ٹول کو دے کر اس کے معیار کا تجزیہ کروایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خبروں کا انتخاب اچھا تھا، ایڈیٹنگ تیز اور درست تھی، مگر انسانی عنصر غائب تھا۔ خبریں محض کمپیوٹر سے پیدا شدہ محسوس ہو رہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اے آئی مواد تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے لیکن اس مواد پر انسانی نگرانی ناگزیر ہے۔ انسانی لمس کے بغیر خبر قاری سے جڑ نہیں پاتی، اس کی توقعات پوری نہیں کر سکتی۔ لہٰذا مصنوعی ذہانت صحافت میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، مگر مکمل متبادل نہیں اور نہ ہی صحافت پر مکمل طور پر غالب نہیں آسکتی، کم از کم فی الحال نہیں۔
انہوں نے قرآنی حوالوں سے یہ بات ثابت کی کہ ایسے شواہد کہیں موجود نہیں ہیں جن میں اے آئی کی مخالفت یا ممانعت اسلام میں کی گئی ہو۔ درحقیقت قرآن اس بات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ لوگ اپنے وسائل کو اپنی زندگی بہتر بنانے اورفائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی پر اسلام کا موقف یہ ہے کہ عبادت کے علاوہ ہر نئی چیز کا استمعال اس وقت تک جائزقرار دیتا ہے جب تک کہ وہ ممانعت کے دائرے میں داخل نہیں ہوتی۔
معروف صحافی اور ایڈیٹر گلڈزآف انڈیا کے صدر سنجے کپور نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ رپورٹنگ وہ چیز ہے جو اے آئی کے مقابلے میں سب سے بڑی طاقت رکھتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادارے اب رپورٹنگ پر کم خرچ کر رہے ہیں اور انٹرنیٹ پر زیادہ انحصار ہے۔
ایلون مسک نے کہا تھا کہ مستقبل میں پلمبر کی نوکری محفوظ رہے گی، لیکن صحافی کی نہیں، خاص طور پر اگر وہ صرف سوال پوچھنے تک محدود ہو جائے۔ لیکن درحقیقت اس طرح وہ رپورٹر خود اے آئی کو مضبوط بنا رہا ہوتا ہے۔
انہوں نے اے آئی کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں میڈیا برادری کواے آئی کے خطرات کا مکمل ادراک نہیں۔ اے آئی، مثلاً چیٹ جی پی ٹی، دو سال پرانی ہونے کے باوجود عام صحافی سے بہتر تحریر لکھ سکتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملازمتیں ختم ہوں گی۔ اگر صحافت میں جذباتی وابستگی، زمینی رپورٹنگ اور انسانی تجربہ شامل نہ ہوا تو اے آئی صحافیوں کی جگہ لے لے گی اور لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوگی کہ یہ کب اور کیسے ہوا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے۔ اے ائی کو قابو میں رکھنے کے لیے ضابطے اور نگرانی کی سخت ضرورت ہے اور جب تک ڈویلپرز اور ادارے اخلاقیات اور صحافتی اقدار کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، غلط معلومات پھیلتی رہیں گی۔
جواہرلا نہرویونیورسٹی میں اسسٹنٹ پرفیسر ڈاکٹر مدثر قمر نے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے۔ آج اے آئی کے ایسے ٹولز موجود ہیں جو حوالہ جاتی فہرست، لٹریچر ریویو، گرامر چیکنگ وغیرہ سب کچھ کر دیتے ہیں۔ بعض طلبہ مکمل طور پر اے آئی پر انحصار کرنے لگے ہیں، جس سے تحقیق غیر انسانی اور غیر تخلیقی ہورہی ہے لیکن اس کے مثبت پہلو بھی ہیں، مثلاً زبان میں کمزوری رکھنے والے طلبہ کے لیے مددگار ہونا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور طلبہ دونوں کو اے آئی کے استعمال میں احتیاط اور سمجھ بوجھ کا توازن قائم کرنا ہوگا۔
مباحثے کی نظامت ڈاکٹر ذکرالرحمان نے کی۔ اہم شرکاء میں مشہور صحافی سہیل انجم، معصوم مرادآبادی، جاوید اختر، عابد انور وغیرہ شامل تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔