NationalPosted at: Jun 9 2026 8:20PM غزہ کی 12 فی صد آبادی شہید یا لاپتہ ہو چکی ہے : فلسطینی سفیر

نئی دہلی، 9 جون (یو این آئی) آل انڈیا مسلم انٹلیکچوئل سوسائٹی (اے آئی ایم آئی ایس) کے ایک وفد نے نئی دہلی میں تعینات فلسطینی سفیر عزت مآب عبداللہ ایم ابو شاوَش سے سفارت خانے میں خصوصی ملاقات کی اس اہم نشست کے دوران غزہ، مغربی کنارے، بیت المقدس (یروشلم) اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی تیزی سے بدلتی ہوئی تشویشناک صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا سفیر عبداللہ ابو شاوَش نے وفد کو زمین پر جاری بدترین انسانی بحران کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات کے دوران جب ای آئی ایم آئی ایس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عمار انیس نگرامی نے ان حالیہ رپورٹوں کا حوالہ دیا، جن کے مطابق غزہ کی 10 فی صد آبادی لاپتہ ہو چکی ہے تو سفیر نے ان اعداد و شمار کی تصحیح کرتے ہوئے مزید ہولناک حقیقت سے پردہ اٹھایا۔
انھوں نے کہا کہ "اب یہ تعداد 10 فی صد تک محدود نہیں رہی۔ موجودہ زمینی حقائق کے مطابق غزہ کی کل آبادی کا حیران کن طور پر 12 فی صد حصہ یا تو جامِ شہادت نوش کر چکا ہے یا پھر مسلسل لاپتہ ہے۔"
انہوں نے غزہ میں موجود انتہائی کرب ناک حالات کے بارے میں بتایا کہ عام شہری اس وقت مکمل طور پر بے یار و مددگار ہیں۔ پورا سول انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، بجلی کی سہولت ناپید ہے اور لوگ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں خیموں کے اندر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ طبی سہولیات کے تقریباً مکمل خاتمے کے باعث اب تک 11,000 سے زائد بڑے اور ضروری آپریشن ملتوی یا منسوخ ہو چکے ہیں۔
سفیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری اس سنگین صورتحال سے کسی بھی صورت نظریں نہیں چرا سکتی:
انھوں نے کہا کہ "دنیا کو کسی بھی قیمت پر فلسطینی کاز کو پسِ منظر میں دھکیلنے یا فراموش کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ہمیں وہاں کی صورتحال پر مسلسل اور گہری نظر رکھنی ہوگی۔"
تاریخی تناظر پر گفتگو کرتے ہوئے سفیرِ فلسطین نے ہندوستان اور فلسطین کے درمیان نوآبادیاتی جبر کے خلاف استقامت اور طویل جدوجہد کی مشترکہ تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایک گہرا موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ "جو حقِ آزادی ہندوستان نے 1947 میں حاصل کیا تھا، فلسطینی عوام آج 2026 میں بھی اسی بنیادی حق کے حصول کے لیے برسرِپیکار ہیں۔"
انہوں نے ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے ہندوستان کی دیرینہ اور تاریخی سفارتی حمایت کی بھرپور تعریف کی۔
اس اہم ملاقات میں آل انڈیا مسلم انٹلیکچوئل سوسائٹی کے وفد میں معروف سائنس داں پروفیسر عباس علی مہدی، جنرل سکریٹری، اے آئی ایم آئی ایس ڈاکٹر عمار انیس نگرامی اور کنوینر اے آئی ایم آئی ایس احمد نگرامی شامل تھے۔
عزت مآب سفیر عبداللہ ابو شاوَش نے اے آئی ایم آئی ایس کی علمی، سماجی اور فکری خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم ہندوستان میں فلسطینی کاز سے متعلق شعور بیدار رکھنے اور سنجیدہ فکری مکالمے کو زندہ رکھنے میں قابلِ قدر کردار ادا کر رہی ہے۔
آخر میں اے آئی ایم آئی ایس کے وفد نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور فلسطین میں امن، انصاف اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کے حق میں بیداری پیدا کرتے رہنے کے عزم کو دہرایا۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف