NationalPosted at: Oct 11 2025 8:42PM حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں، کمزوروں اور مظلوموں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے: مولانا مجددی

نئی دہلی، 11اکتوبر (یو این آئی) ملک میں آئین کی پاسداری کی اپیل کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہاکہ ہمارا ملک ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے، جمہوریت میں حکومت ہو، انتظامیہ ہو یا عدلیہ ہو اس کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں، کمزوروں اور مظلوموں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے دہلی کے جنتر منتر پر آج وقف ترمیمی قانون کے خلاف ایک احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں قانون اس لئے لائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کے حقوق محفوظ کئے جا سکیں، قانون اس لئے بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ لیکن پہلی بار ہے جب حکومت میں ایسے لوگ بر سر اقتدار ہیں جو قانون اس لئے لاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے حقوق کو چھینا جانا سکے، مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو کم کیا جا سکے، وقف ایکٹ بھی مسلمانوں کی مذہبی جائداد کو ہڑپنے، چھیننے اور اس کو ختم کرنے کے لئے لایا گیا ہے، یہ وقف قانون وقف کے تحفظ نہیں وقف کو برباد کرنے کے لئے لایا گیا ہے، یہ وقف قانون مسلمانوں سے ان کی مساجد، مدارس، د ر گاہ اور امامباڑوں کو چھیننے اور ختم کرنے کے لئے پاس کیا گیا ہے، یہ وقف قانون جمہوریت اور سیکولرزم کی جڑ کیو کھودنے والا ہے، اس قانون سے وقف کا تحفظ نہیں ہوگا، اس کی ہر دفعہ ملک کی جمہوریت، اتحاد، اور سیکولرزم کو کمزور کرنے والی ہے، حکومت ہند نے تمام آئینی و دستوری اصول اور روایات کو پسِ پشت ڈال کر یہ قانون پاس کیا ہے، یہ قانون اس دعوے کے ساتھ لایا گیا کہ یہ مسلمانوں کے فائدہ کے لئے ہے لیکن ہم یہ اعلان کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ یہ قانون مسلمانوں کے حق میں نہیں ان کے خلاف ہے، یہ قانون ہماری مسجدوں اور قبرستانوں کو ختم کرنے والا ہے، یہ قانون ہم مسلمانوں کو ہمارے دستوری حق سے محروم کرنے والا ہے، یہ قانون ہم مسلمانوں کو ہماری تہذیب سے دور کرنے والا ہے، ہمیں یہ قانون قطعا منظور نہیں ہے، جب مسلمانوں کے لئے یہ قانون بنا تھا اور مسلمان ہی اس کو نہیں چاہتے تو حکومت کو اپنا جمہوری فریضہ ادا کرتے ہوئے فوری طور پر یہ قانون واپس لینا چاہئے، ہمارا مطالبہ ہے کہ وقف قانون واپس لیا جائے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ وقف اسلامی معاشرہ کا ایک لازمی جزء ہے، دنیا میں مسلمان جہاں کہیں بھی آباد ہوئے انہوں نے اپنی جائدادیں وقف کیں،دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں ہے جہاں مسلمان رہے ہوں اور وہاں وقف کی جائداد نہ ہو، وقف کا جہاں ایک مذہبی اور دینی تصور ہے وہیں اس کے سماجی اور معاشرتی فائدے بھی ہیں، اوقاف کے تحفظ کے لئے سب سے پہلے قوانین اور اصول سلطان محمد غور ی نے مرتب کئے اسی لیئے یہ غلط فہمی بھی پھیلائی جاتی ہے کہ ہندوستان میں سلطان محمد غوری کے دور میں وقف کی شروعات ہوئی، انگریزوں کے دور حکومت میں رفتہ رفتہ اوقاف کو ہڑپنے کی کوشش ہوئی اور وقف کو ختم کرنے اور کمزور کرنے کی کوشش ہوئی، ۵۷۹۱ میں باقاعدہ اوقاف کے تحفظ کی مسلمانوں نے تحریک چلائی، اور مسلمانوں کے احتجاج کے بعد ۳۱۹۱ میں انگریزوں کو پہلا وقف قانون پاس کرنا پڑا، اس کے بعد بھی مسلمان ان قوانین میں ترمیم اور اصلاح کی کوشش کے لئے تحریک چلاتے رہے، آزادی کے بعد مسلسل کوششیں ہوئیں اور بلا ٓخر ۳۱۰۲ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں سے ایک جامع وقف قانون پاس ہوا تھا، اور اب صرف ایک انخلاء وقف کے قانون کی ضرورت تھی جس کے لئے بورڈ نے بہت کوششیں کیں مگر کامیابی نہ مل سکی تھی،آج بدقسمتی سے وہی انگریزوں والے حالات کا سامنا پھر سے کرنا پڑ رہا ہے، موجودہ حکومت نے پرانے قانونِ وقف کو منسوخ کرکے ایک ایسا قانون وقف پاس کردیا جو اوقاف کی جائداد کو ہڑپنے کے ساتھ ساتھ وقف کے تصور کو ہی ختم کرنے والا ہے، اس قانون کو پاس کرنے میں مکمل ہٹلر شاہی سے کام لیا گیا آئین اور پرلیمانی نظام کی دھجیاں اڑائی گئیں۔
اس قانون کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے زمینی سطح پر عوامی تحریک چلائی جو اب تک جاری ہے اور انشاء اللہ اس قانون کی واپسی تک جاری رہے گی، تو وہیں بورڈ نے دوسری طرف سپریم کورٹ میں مظبوطی کے ساتھ قانونی لڑائی بھی لڑی اور الحمد للہ سپریم کورٹ نے عبوری راحت دیتے ہوئے اس قانون کی چند خطرناک دفعات پر پابندی لگا دی، جو ہم سب کے لئے ایک راحت ضرور ہے لیکن یہ قابل اطمینان نہیں ہے،کیونکہ اس قانون کی تمام ۸۴ ترمیمات وقف کے لئے خطرناک ہے اس لئے ہمارا مطالبہ بدستور وہی ہے کہ اس پورے قانون کو واپس لیا جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔