Tuesday, Jun 16 2026 | Time 21:19 Hrs(IST)
National

حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں، کمزوروں اور مظلوموں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے: مولانا مجددی

حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں، کمزوروں اور مظلوموں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے: مولانا مجددی

نئی دہلی، 11اکتوبر (یو این آئی) ملک میں آئین کی پاسداری کی اپیل کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہاکہ ہمارا ملک ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے، جمہوریت میں حکومت ہو، انتظامیہ ہو یا عدلیہ ہو اس کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں، کمزوروں اور مظلوموں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے دہلی کے جنتر منتر پر آج وقف ترمیمی قانون کے خلاف ایک احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں قانون اس لئے لائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کے حقوق محفوظ کئے جا سکیں، قانون اس لئے بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ لیکن پہلی بار ہے جب حکومت میں ایسے لوگ بر سر اقتدار ہیں جو قانون اس لئے لاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے حقوق کو چھینا جانا سکے، مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو کم کیا جا سکے، وقف ایکٹ بھی مسلمانوں کی مذہبی جائداد کو ہڑپنے، چھیننے اور اس کو ختم کرنے کے لئے لایا گیا ہے، یہ وقف قانون وقف کے تحفظ نہیں وقف کو برباد کرنے کے لئے لایا گیا ہے، یہ وقف قانون مسلمانوں سے ان کی مساجد، مدارس، د ر گاہ اور امامباڑوں کو چھیننے اور ختم کرنے کے لئے پاس کیا گیا ہے، یہ وقف قانون جمہوریت اور سیکولرزم کی جڑ کیو کھودنے والا ہے، اس قانون سے وقف کا تحفظ نہیں ہوگا، اس کی ہر دفعہ ملک کی جمہوریت، اتحاد، اور سیکولرزم کو کمزور کرنے والی ہے، حکومت ہند نے تمام آئینی و دستوری اصول اور روایات کو پسِ پشت ڈال کر یہ قانون پاس کیا ہے، یہ قانون اس دعوے کے ساتھ لایا گیا کہ یہ مسلمانوں کے فائدہ کے لئے ہے لیکن ہم یہ اعلان کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ یہ قانون مسلمانوں کے حق میں نہیں ان کے خلاف ہے، یہ قانون ہماری مسجدوں اور قبرستانوں کو ختم کرنے والا ہے، یہ قانون ہم مسلمانوں کو ہمارے دستوری حق سے محروم کرنے والا ہے، یہ قانون ہم مسلمانوں کو ہماری تہذیب سے دور کرنے والا ہے، ہمیں یہ قانون قطعا منظور نہیں ہے، جب مسلمانوں کے لئے یہ قانون بنا تھا اور مسلمان ہی اس کو نہیں چاہتے تو حکومت کو اپنا جمہوری فریضہ ادا کرتے ہوئے فوری طور پر یہ قانون واپس لینا چاہئے، ہمارا مطالبہ ہے کہ وقف قانون واپس لیا جائے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ وقف اسلامی معاشرہ کا ایک لازمی جزء ہے، دنیا میں مسلمان جہاں کہیں بھی آباد ہوئے انہوں نے اپنی جائدادیں وقف کیں،دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں ہے جہاں مسلمان رہے ہوں اور وہاں وقف کی جائداد نہ ہو، وقف کا جہاں ایک مذہبی اور دینی تصور ہے وہیں اس کے سماجی اور معاشرتی فائدے بھی ہیں، اوقاف کے تحفظ کے لئے سب سے پہلے قوانین اور اصول سلطان محمد غور ی نے مرتب کئے اسی لیئے یہ غلط فہمی بھی پھیلائی جاتی ہے کہ ہندوستان میں سلطان محمد غوری کے دور میں وقف کی شروعات ہوئی، انگریزوں کے دور حکومت میں رفتہ رفتہ اوقاف کو ہڑپنے کی کوشش ہوئی اور وقف کو ختم کرنے اور کمزور کرنے کی کوشش ہوئی، ۵۷۹۱ میں باقاعدہ اوقاف کے تحفظ کی مسلمانوں نے تحریک چلائی، اور مسلمانوں کے احتجاج کے بعد ۳۱۹۱ میں انگریزوں کو پہلا وقف قانون پاس کرنا پڑا، اس کے بعد بھی مسلمان ان قوانین میں ترمیم اور اصلاح کی کوشش کے لئے تحریک چلاتے رہے، آزادی کے بعد مسلسل کوششیں ہوئیں اور بلا ٓخر ۳۱۰۲ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں سے ایک جامع وقف قانون پاس ہوا تھا، اور اب صرف ایک انخلاء وقف کے قانون کی ضرورت تھی جس کے لئے بورڈ نے بہت کوششیں کیں مگر کامیابی نہ مل سکی تھی،آج بدقسمتی سے وہی انگریزوں والے حالات کا سامنا پھر سے کرنا پڑ رہا ہے، موجودہ حکومت نے پرانے قانونِ وقف کو منسوخ کرکے ایک ایسا قانون وقف پاس کردیا جو اوقاف کی جائداد کو ہڑپنے کے ساتھ ساتھ وقف کے تصور کو ہی ختم کرنے والا ہے، اس قانون کو پاس کرنے میں مکمل ہٹلر شاہی سے کام لیا گیا آئین اور پرلیمانی نظام کی دھجیاں اڑائی گئیں۔
اس قانون کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے زمینی سطح پر عوامی تحریک چلائی جو اب تک جاری ہے اور انشاء اللہ اس قانون کی واپسی تک جاری رہے گی، تو وہیں بورڈ نے دوسری طرف سپریم کورٹ میں مظبوطی کے ساتھ قانونی لڑائی بھی لڑی اور الحمد للہ سپریم کورٹ نے عبوری راحت دیتے ہوئے اس قانون کی چند خطرناک دفعات پر پابندی لگا دی، جو ہم سب کے لئے ایک راحت ضرور ہے لیکن یہ قابل اطمینان نہیں ہے،کیونکہ اس قانون کی تمام ۸۴ ترمیمات وقف کے لئے خطرناک ہے اس لئے ہمارا مطالبہ بدستور وہی ہے کہ اس پورے قانون کو واپس لیا جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔

خاص خبریں
مودی کو سلوواکیہ کے اعلی ترین سرکاری اعزاز سے نوازا گیا

مودی کو سلوواکیہ کے اعلی ترین سرکاری اعزاز سے نوازا گیا

نئی دہلی، 16 جون (یو این آئی) سلوواکیہ نے وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کو ملک کے اعلیٰ ترین سرکاری اعزاز "دی آرڈر آف دی وائٹ ڈبل کراس، فرسٹ کلاس" سے نوازا ہے سلوواکیہ کے تین روزہ دورے پر گئے مسٹر مودی کو صدر پیٹر پیلیگرینی نے پیر کی رات ایک خصوصی تقریب میں سلوواکیہ کے اعلیٰ ترین سرکاری اعزاز "دی آرڈر آف دی وائٹ ڈبل کراس، فرسٹ کلاس" سے نوازا  وزیر اعظم نے اس خصوصی اعزاز کے لیے صدر، سلوواکیہ کی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

...مزید دیکھیں
حکومت نے نیٹ کی دوبارہ امتحان کے پیشِ نظر ٹیلیگرام ایپ پر عارضی پابندی عائد کر دی

حکومت نے نیٹ کی دوبارہ امتحان کے پیشِ نظر ٹیلیگرام ایپ پر عارضی پابندی عائد کر دی

نئی دہلی، 16 جون (یواین آئی) حکومت نے نیشنل ایلیجیبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ- یو جی) کے دوبارہ امتحان کے پیشِ نظر فوری پیغام رسانی کی ایپ ٹیلیگرام پر 22 جون تک عارضی پابندی عائد کر دی ہے یہ اقدام نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی سفارش پر وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی (میٹی) نے اٹھایا ہے حکومت کے اس فیصلے کے بعد کوئی بھی صارف 22 جون تک اس ایپ کا استعمال نہیں کر سکے گا۔

...مزید دیکھیں
چین کی سبسڈی برتری ہندوستان میں حکمتِ عملی پر مبنی پالیسی کی ازسرِ نو تشکیل کا تقاضا کرتی ہے

چین کی سبسڈی برتری ہندوستان میں حکمتِ عملی پر مبنی پالیسی کی ازسرِ نو تشکیل کا تقاضا کرتی ہے

(یو این آئی اسپیشل)ابھجیت مکھوپادھیائے
نئی دہلی، 16 جون (یو این آئی) اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی جون 2026 کی میجک ڈیٹا بیس رپورٹ ایک ایسی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے جس پر اکثر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی، صنعتی سبسڈیز اب عالمی مسابقت کا ایک مستقل اور ساختیاتی حصہ بن چکی ہیں، کوئی استثنا نہیں  جب یہ سبسڈیز بڑی، مسلسل اور مخصوص شعبوں کو ہدف بنا کر دی جائیں تو یہ منڈیوں میں نمایاں بگاڑ پیدا کر سکتی ہیں، رپورٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2005 سے 2024 کے دوران ہندوستانی کمپنیوں کو اپنی چینی ہم منصب کمپنیوں کے مقابلے میں حکومت کی جانب سے کہیں کم مالی معاونت حاصل ہوئی۔

...مزید دیکھیں
گجرات سے عمان اور دیگر خلیجی ممالک کو جوڑنے والی توانائی پائپ لائن سے متعلق خبریں جھوٹی ہیں: حکومت

گجرات سے عمان اور دیگر خلیجی ممالک کو جوڑنے والی توانائی پائپ لائن سے متعلق خبریں جھوٹی ہیں: حکومت

نئی دہلی، 16 جون (یواین آئی) وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے ان میڈیا رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہندوستان گہرے سمندر میں گجرات کو عمان اور دیگر خلیجی ممالک سے جوڑنے والی ایک توانائی پائپ لائن تعمیر کر رہا ہے وزارت نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے ان میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ ہند سرگرمی کے ساتھ ایک گہرے سمندر کی توانائی پائپ لائن تعمیر کر رہی ہے، جسے ’’مغربی ایشیا-ہندوستان ڈیپ واٹر پائپ لائن‘‘ (ایم ای آئی ڈی پی) کا نام دیا جا رہا ہے۔

...مزید دیکھیں
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا

جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا

اسلام آباد،16 جون (یو این آئی) جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔

...مزید دیکھیں
معیاری تعلیم  عالمی ترقی کی بنیاد ،سابق طلبہ معاشرے کی خدمت کے لیے متحد ہوں: ڈاکٹر ظہیر قاضی

معیاری تعلیم عالمی ترقی کی بنیاد ،سابق طلبہ معاشرے کی خدمت کے لیے متحد ہوں: ڈاکٹر ظہیر قاضی

ممبئی ،16جون (یواین آئی) انجمن اسلام ایلومنائی ایسوسی ایشن نے برامپٹن، کینیڈا میں "کینیڈا الومنائی میٹ 2026" کا کامیاب انعقاد کیا، جس میں کینیڈا کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے سابق طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی، انجمن اسلام شعبہ اطلاعات کے مطابق اس پروقار تقریب کا مقصد سابق طلبہ کو ایک دوسرے سے جوڑنا، باہمی روابط کو مضبوط بنانا، رہنمائی اور تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنا اور انجمن اسلام کی مشترکہ تعلیمی و سماجی وراثت کا جشن منانا تھا۔

...مزید دیکھیں
امریکہ۔ایران تاریخی معاہدہ عالمی امن کی جانب اہم پیش رفت: ڈاکٹر عمار رضوی

امریکہ۔ایران تاریخی معاہدہ عالمی امن کی جانب اہم پیش رفت: ڈاکٹر عمار رضوی

لکھنؤ، 16 جون (یو این آئی) تنظیم برائے جوہری تخفیفِ اسلحہ، عالمی امن اور ماحولیات کے صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے تاریخی معاہدے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

...مزید دیکھیں

سی بی آئی نے 75.34 کروڑ روپے کے کریسٹ فنڈز میں خرد برد کے معاملے میں پہلی چارج شیٹ داخل کی

16 Jun 2026 | 8:57 PM

نئی دہلی، 16 جون (یو این آئی) سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے چنڈی گڑھ رینیوبل انرجی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروموشن سوسائٹی (سی آرایس ایس ٹی) کے فنڈز کے مبینہ خرد برد کے سلسلے میں چنڈی گڑھ میں خصوصی عدالت کے سامنے پہلی چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے عہدیداروں، سی آرای ایس ٹی کے عہدیداروں اور نجی افراد کو شامل کیا گیا ہے۔سی بی آئی ذرائع نے منگل کو بتایا کہ مجموعی طور پر 13 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے، جن میں آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے پانچ افسران، کریسٹ کے دو سرکاری ملازمین، دو شیل کمپنیاں اور چار نجی افراد شامل ہیں۔ تمام ملزمان فی الحال عدالتی تح.

دامبولا میں جھڑپ کے لیے کھلاڑیوں پر کارروائی ہوئی

16 Jun 2026 | 8:58 PM

دامبولا، 16 جون (یو این آئی) سری لنکا کرکٹ (ایس ایل سی) نے پیر کے روز دامبولا میں سہ رخی سیریز میچ کے دوران ڈسپلن توڑنے والے کھلاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ 'کرک بز' کو معلوم ہوا ہے کہ سری لنکا اے اور انڈیا اے کے درمیان ہونے والے کشیدہ میچ کے ریفری پردیپ جے پرکاش نے اس واقعے میں ملوث کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ وشال ہالامباگے کو سب سے سخت سزا ملی ہے۔.

’رانابالی‘ میں ہالی ووڈ اسٹار آرنلڈ ووسلو کی انٹری

16 Jun 2026 | 7:22 PM

ممبئی، 16 جون (یواین آئی) ہالی ووڈ اداکار آرنلڈ ووسلو ہندستانی سنیما میں فلم ’رانا بالی‘ کے ذریعے ڈیبیو کرنے جا رہے ہیں۔ فلم سازوں نے آرنلڈ ووسلو کی سالگرہ کے موقع پر فلم سے ان کا کریکٹر پوسٹر جاری کیا ہے، جس میں انہیں ’دی ڈیمن آف ڈراٹ‘ یعنی سر تھیوڈور ہیکٹر کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔.

پنجاب علاقے میں گنگ نہر سے پانی کی چوری اور شدید قلت پر کسان برہم

16 Jun 2026 | 8:42 PM

شری گنگانگر، 16 جون ( یو این آئی ) راجستھان کے ضلع شری گنگانگر میں گنگ نہر میں پنجاب کے علاقے میں مبینہ طور پر مسلسل پانی کی چوری اور ناکافی آبی فراہمی کے باعث کسانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔کاشت کے عروج کے موسم میں نہر میں پانی کی مقدار گھٹ کر صرف ایک ہزار کیوسک رہ جانے سے فصلیں سوکھنے کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں، جس سے کسانوں کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔منگل کو سنیکت کسان مورچہ کی قیادت میں سیکڑوں کسانوں نے ضلع کلکٹریٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور انتظامیہ سے فوری مداخلت اور مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو یکم جولائی کو کلکٹ.