NationalPosted at: Apr 16 2026 8:07PM خواتین ریزرویشن ایک سیاسی ڈھونگ: اکھلیش یادو کا بی جے پی پر ووٹ بینک کی سیاست کا سنگین الزام

نئی دہلی،16 اپریل (یواین آئی) سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار میں بنے رہنے کے لیے 'آئینی 131ویں ترمیمی بل' کا سہارا لے رہی ہے انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کے نام پر اصل میں حد بندی سے متعلق قانون کو نافذ کرنا حکومت کا اصل سیاسی ایجنڈا ہے لوک سبھا میں بل پر بحث کے دوران اکھلیش یادو نے حکومت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہاکہ بی جے پی الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر 'ایس آئی آر' کے ذریعے مخالفین کے ووٹ کٹوا رہی ہے۔ اتر پردیش کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں ووٹ کاٹنے کے لیے جعلی دستخطوں والے فارم استعمال کیے گئے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت خواتین کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے یہ بل لائی ہے، لیکن ملک کی خواتین مہنگائی اور ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں سے پریشان ہیں، اس لیے بی جے پی کا یہ "سیاسی حربہ" ناکام ہو جائے گا۔
سماج وادی پارٹی کے رہنما نے خواتین ریزرویشن کے اندر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور اقلیتوں کے لیے کوٹے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ جب تک ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری نہیں ہوتی، ریزرویشن کی حقیقی تقسیم ممکن نہیں ہے۔ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ حکومت اقلیتوں بالخصوص مسلم خواتین کو ریزرویشن کے ثمرات سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ اور اقلیتی خواتین کو شامل کیے بغیر یہ بل محض ایک "دھوکہ" ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مودی حکومت واقعی خواتین کے حقوق کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے میرٹھ اور نوئیڈا میں احتجاج کرنے والی خواتین کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے بل کو پیچیدہ بنانے کے بجائے اسے خواتین کے مفاد میں سادہ اور ہمہ گیر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اکھلیش یادو نے واضح کیا کہ سماج وادی پارٹی خواتین کے حقوق کی حامی ہے لیکن وہ ریزرویشن کے نام پر حد بندی کرنے اور مخصوص طبقات کو محروم رکھنے کی حکومتی حکمت عملی کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
یو این آئی۔م ا ع