NationalPosted at: Jan 13 2026 5:34PM بنگلہ دیش انتخابات: خوف، شکوک وشبہات اور غیر یقینی صورتحال کے سائے میں

تحریر: نعیم نظام
نئی دہلی، 13 جنوری (یو این آئی) بنگلہ دیش کے اگلے عام انتخابات کیا مقررہ وقت پر ہو پائیں گے؟ یہ سوال اس وقت پورے ملک میں تشویش اور بے چینی کا باعث بنا ہوا ہے،اگر موجودہ روڈ میپ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تو انتخابات 12 فروری کوہونگے تاہم، جیسے جیسے تاریخ قریب آ رہی ہے، عوامی خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، اس کی بنیادی وجوہات میں امن و امان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال اور ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے منظم طریقے سے باہر رکھنا شامل ہے۔
محمد یونس کی زیر قیادت حکومت قانون کی حکمرانی بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اقلیتی برادریوں اوراقتدارسے بے دخل عوامی لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں پر حملوں کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔
حالیہ دنوں میں تشدد پر اکسانے کے الزامات میں گرفتار دو طالب علم رہنماؤں کو چند ہی دنوں میں رہا کر دیا گیا، جنہوں نے باہر آکر میڈیا دفاتر پر حملوں کی دھمکیاں دیں۔ ان میں سے ایک نے پولیس حراست میں مبینہ طور پر تفصیل سے بتایا تھا کہ جولائی کی تحریک کے دوران پولیس اہلکاروں کو کیسے قتل کیا گیا اور سب انسپکٹر سنتوش چوہدری کو کیسے زندہ جلایا گیا، لیکن ان سنگین الزامات کے باوجود اسے رہا کر دیا گیا۔ اسی طرح تاوان وصولنے کے الزام میں گرفتار ایک خاتون کوآرڈینیٹر کو بھی رہا کر دیا گیا جس نے میڈیا کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
دریں اثنا، ڈھاکہ میں بی این پی کے یوتھ ونگ کے ایک لیڈر کا قتل کر دیا گیا۔ یہ تمام واقعات ملک میں قانون کے ٹوٹتے ہوئے ڈھانچے کی نشاندہی کرتے ہیں، جس نے انتخابی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ایک اور بڑا خدشہ انتخابی میدان سے 'عوامی لیگ' کا مکمل خاتمہ ہے۔ اس وقت بی این پی اور جماعت اسلامی کی قیادت میں دو اتحاد انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں، جس سے سیاسی میدان صرف ان دو قوتوں تک محدود ہو گیا ہے۔ عوامی لیگ کو کھلے عام کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اورمین اسٹریم میڈیا خاموش ہے۔
عوامی لیگ کے 300 سے زائد سابق وزراء اور اراکین پارلیمنٹ جیل میں ہیں۔ پارٹی کے مطابق تقریباً 10,000 رہنما اور کارکن بغیر کسی ٹرائل کے زیر حراست ہیں ۔ صحافیوں ،اساتذہ ،مصنفوں،ججوں اور سول اور فوجی اہلکاروں کوبھی نہیں بخشاگیا۔ بٹری تعدادمیں عوامی لیگ کے رہنما اور کارکن مقدمات اور ہجومی تشدد کی وجہ روپوش ہوگئے ہیں۔ تقریباً 19,000مبینہ طوپرہندوستان سمیت بیرونی ممالک میں رہ رہے ہیں،بہت سے پناہ حاصل کرناچاہتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا تخمینہ ہے کہ عوامی لیگ کا ووٹ بینک اب بھی 35 سے 40 فیصد کے درمیان ہے، اور یونس حکومت کی مبینہ ناکامی کے بعد عوامی ہمدردی میں اضافہ ہوا ہے۔
خالدہ ضیا کی غیر موجودگی میں بی این پی اب مکمل طور پر طارق رحمان کی قیادت میں ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل رابطوں کے ذریعے پارٹی کو منظم کیا ہے۔ لیکن اس وقت ان کا سب سے بڑا مقابلہ ’جماعت اسلامی‘ سے ہے، جو 5 اگست 2024 کے بعد تیزی سے ابھری ہے۔
رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی نے سول اور فوجی انتظامیہ میں اپنی جگہ بنا لی ہے اور یونیورسٹیوں پر اس کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔ جماعت کا طلبہ شاخ ’اسلامی چھاترا شبیر‘ سرکاری یونیورسٹیوں کے انتخابات جیت کر حاوی ہو چکی ہے۔ نوجوان ووٹرز، جو انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، ان کا ایک بڑا حصہ اب 'شبیر' کے زیر اثر ہے۔
اب سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا انتخابات ہوں گے بھی ۔ عبوری حکومت کے کچھ حلقے اور بین الاقوامی سطح پراثرورسوخ رکھنے والے افراد مبینہ طور پر چاہتے ہیں کہ یونس انتظامیہ ہی برقرار رہے۔ افواہیں یہ بھی ہیں کہ ڈاکٹر یونس بی این پی اور جماعت اسلامی کی حمایت سے صدر بن کر طویل عرصے تک اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف، بی این پی ہر صورت انتخابات چاہتی ہے کیونکہ زمینی سروے ان کی برتری ظاہر کر رہے ہیں۔ ترقی پسند قوتیں، جو کبھی طارق رحمان کی مخالف تھیں، اب انتہا پسندی کے ڈر سے ان کی حمایت کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی نہ صرف ملک بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
یواین آئی۔ایف اے