Wednesday, Apr 15 2026 | Time 22:52 Hrs(IST)
Science Technology

پیر س معاہدے کے پس منظر میں کاربن کریڈٹس کی منظوری

پیر س معاہدے کے پس منظر میں کاربن کریڈٹس کی منظوری

خصوصی مضمون: ظفر اقبال
اقوام متحدہ کی جانب سے پیرس معاہدے کے تحت قائم کردہ کاربن مارکیٹ میں پہلی بار کاربن کریڈٹس جاری کرنے کی منظوری عالمی ماحولیاتی سفارت کاری میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے یہ پیش رفت نہ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کو نئی سمت دیتی ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا اب محض وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی میکانزم کو فعال بنانے کی طرف گامزن ہے۔گزشتہ چند دہائیوں کے دوران زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ چکا ہے۔ شدید گرمی کی لہریں، تباہ کن سیلاب، جنگلاتی آگ، خشک سالی اور سمندری طوفان اب غیر معمولی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک نئی معمول کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اس بحران کی بنیادی وجہ گرین ہاؤس گیسوں، خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ کا بے تحاشہ اخراج ہے، جو زیادہ تر فوسل فیول کے استعمال، جنگلات کی کٹائی اور صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں عالمی برادری نے 2015 میں تاریخی Paris Agreement طے کیا تھا، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2 ڈگری سیلسیس سے کم اور ترجیحاً 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنا ہے۔ اس معاہدے نے پہلی بار تقریباً تمام ممالک کو ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت اپنے قومی سطح پر طے شدہ اہداف (این ڈی سی) پیش کرنے کا پابند کیا۔
پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت ممالک کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ اخراجات میں کمی کے لیے باہمی تعاون اور کاربن کریڈٹس کی تجارت کر سکتے ہیں۔ کاربن کریڈٹ دراصل ایک ایسا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے جو ایک میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ یا اس کے مساوی گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر کوئی ملک یا کمپنی اپنی مقررہ حد سے زیادہ اخراج کر رہی ہو، تو وہ کسی دوسرے ملک میں اخراج کم کرنے والے منصوبے میں سرمایہ کاری کر کے کریڈٹس حاصل کر سکتی ہے۔
یہ نظام نظری طور پر دو بڑے فوائد فراہم کرتا ہے۔ اول، یہ اخراج میں کمی کو معاشی طور پر مؤثر بناتا ہے، کیونکہ بعض ممالک میں اخراج کم کرنا نسبتاً سستا ہوتا ہے۔ دوم، یہ ترقی پذیر ممالک میں ماحول دوست منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا ذریعہ بنتا ہے۔
حالیہ پیش رفت میں اقوام متحدہ نے پیرس معاہدے کے تحت قائم کردہ نئے کریڈٹنگ میکنزم کے ذریعے پہلی بار کاربن کریڈٹس جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ نظام اقوام متحدہ کی نگرانی میں چلایا جا رہا ہے تاکہ شفافیت، احتساب اور اخراج میں حقیقی کمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے نے اعلان کیا کہ پہلا منظور شدہ منصوبہ میانمار میں صاف ستھرا پکانے (Clean Cooking) سے متعلق ہے۔ اس منصوبے کے تحت مؤثر چولہے تقسیم کیے جا رہے ہیں جو لکڑی پر مبنی ایندھن کو زیادہ مؤثر طریقے سے جلاتے ہیں، جس سے کم ایندھن درکار ہوتا ہے اور دھوئیں کا اخراج بھی کم ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ ایک جنوبی کوریائی کمپنی کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے، اور اس سے حاصل ہونے والے کریڈٹس جنوبی کوریا اور میانمار دونوں کے ماحولیاتی اہداف میں شمار ہوں گے۔
دنیا بھر میں دو ارب سے زائد افراد اب بھی روایتی طریقوں سے کھانا پکاتے ہیں، جس میں لکڑی، کوئلہ یا دیگر ٹھوس ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ ان طریقوں سے پیدا ہونے والا دھواں گھریلو فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے، جو سانس کی بیماریوں، دل کے امراض اور قبل از وقت اموات کا سبب بنتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی سربراہ سائمن اسٹائل نے اس حوالے سے کہا کہ صاف پکانے سے صحت کی حفاظت ہوتی ہے، جنگلات کا تحفظ ہوتا ہے اور خواتین و لڑکیوں کو بااختیار بناتی ہے، جو عام طور پر گھریلو فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ ان کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ سماجی اور صحت کے پہلوؤں سے بھی اہم ہے۔اس سے مختلف فوائد حاصل ہوں گے۔
اول: جنگلات کا تحفظ:کم لکڑی کے استعمال سے جنگلات پر دباؤ کم ہوگا۔
دوم: کاربن اخراج میں کمی:ایندھن کی بچت سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوگا
سوم: صحت میں بہتری: گھروں کے اندر دھوئیں میں کمی سے بیماریوں میں کمی آئے گی۔
چہارم: خواتین کو بااختیاربنانا: ایندھن جمع کرنے میں کم وقت صرف ہوگا، جس سے تعلیم اور معاشی سرگرمیوں کے مواقع بڑھیں گے۔
تاہم موجودہ رفتار کے مطابق 2030 تک صرف 78 فیصد آبادی کو صاف پکانے تک رسائی حاصل ہو سکے گی، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہدف تک پہنچنے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔
کاربن مارکیٹ کے نئے قواعد و ضوابط 2024 میں آذربائیجان میں منعقد ہونے والی COP29 کانفرنس میں طے کیے گئے۔ ان اصولوں کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ کاربن کریڈٹس حقیقی، قابلِ تصدیق اور اضافی اخراج میں کمی کی نمائندگی کریں۔
اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق نئے پیرس ایگریمنٹ کریڈٹنگ میکنزم (پی اے سی ایم) کے تحت اخراجات میں کمی کا حساب پچھلے نظام کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ محتاط انداز میں لگایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کریڈٹس کے اجرا سے پہلے اخراج میں کمی کی تصدیق زیادہ سخت معیارات کے تحت کی جائے گی۔
اگرچہ یہ پیش رفت امید افزا ہے لیکن ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کاربن مارکیٹ کو گرین واشنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گرین واشنگ سے مراد وہ عمل ہے جس میں کمپنیاں یا ممالک اپنے ماحولیاتی اقدامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں یا حقیقی اخراج میں کمی کیے بغیر خود کو ماحول دوست ظاہر کرتے ہیں۔
بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم Greenpeace (گرین پیس) نے COP29 کے بعد کہا تھا کہ نئے معاہدے میں ایسے خلا موجود ہیں جو فوسل فیول کمپنیوں کو آلودگی جاری رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بنیادی سطح پر فوسل فیول کے استعمال میں کمی نہ کی گئی تو محض کریڈٹس کی تجارت سے موسمیاتی بحران حل نہیں ہوگا۔
دوسری جانب کئی ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظام مکمل نہیں، لیکن یہ کاربن کریڈٹس کے عالمی ضابطے میں وضاحت فراہم کرتا ہے۔ پہلے کے رضاکارانہ کاربن مارکیٹس میں شفافیت اور معیار کے حوالے سے شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔ نئے نظام کے تحت اقوام متحدہ کی نگرانی میں منصوبوں کی منظوری اور تصدیق کا عمل زیادہ منظم اور قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مالی وسائل کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر کاربن مارکیٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کا بہاؤ بڑھتا ہے تو یہ قابلِ تجدید توانائی، جنگلات کے تحفظ اور صاف ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد دے سکتا ہے۔
کاربن مارکیٹ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی اور جغرافیائی سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک، جو تاریخی طور پر زیادہ اخراج کے ذمہ دار ہیں، ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے اہداف پورے کر سکتے ہیں۔ اس سے ایک طرح کی موسمیاتی سفارت کاری جنم لیتی ہے، جہاں اخراج میں کمی مالی لین دین سے منسلک ہو جاتی ہے۔
تاہم اس میں طاقت کے عدم توازن کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اگر قواعد شفاف نہ ہوں تو کمزور معیشتیں سستے کریڈٹس فراہم کرنے والے مراکز بن سکتی ہیں، جبکہ اصل اخراج کرنے والے ممالک اپنی صنعتی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے پیرس معاہدے کے تحت کاربن مارکیٹ میں پہلی بار کریڈٹس کے اجرا کی منظوری موسمیاتی حکمرانی کے ارتقا کی علامت ہے۔ میانمار میں صاف پکانے کا منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک ماحولیاتی اقدام صحت، جنگلات کے تحفظ اور خواتین کی بااختیاری جیسے وسیع تر سماجی فوائد بھی فراہم کر سکتا ہے۔
تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس کی شفافیت، سخت معیارات اور سیاسی عزم پر ہوگا۔ اگر کاربن مارکیٹ کو مؤثر نگرانی اور جوابدہی کے ساتھ چلایا گیا تو یہ عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول میں ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر، گرین واشنگ اور سطحی اقدامات کے باعث یہ اعتماد کے بحران کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔
دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، اور وقت محدود ہے۔ ایسے میں پیرس معاہدے کے تحت قائم کاربن مارکیٹ جیسے اقدامات امید کی کرن تو فراہم کرتے ہیں، مگر اصل امتحان ان کے عملی نفاذ اور حقیقی نتائج میں پوشیدہ ہے۔ اگر عالمی برادری سنجیدگی، دیانت داری اور تعاون کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھی تو یہ نظام نہ صرف اخراج میں کمی بلکہ زیادہ منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔(یواین آئی)
٭٭٭

خاص خبریں
سمراٹ چودھری نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف  لیا

سمراٹ چودھری نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا

پٹنہ، 15 اپریل (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے قانون ساز پارٹی کے لیڈرسمراٹ چودھری نے آج بہار کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ اور رازداری کا حلف لیا مسٹر چودھری بہار کے ایسے 24 ویں شخص ہیں، جنہیں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کا موقع ملا ہے۔

...مزید دیکھیں
پون کھیڑا کو سپریم کورٹ سے جھٹکا: آسام کیس میں عبوری ضمانت پر روک لگا دی گئی

پون کھیڑا کو سپریم کورٹ سے جھٹکا: آسام کیس میں عبوری ضمانت پر روک لگا دی گئی

نئی دہلی، 15 اپریل (یو این آئی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز کانگریس لیڈر پون کھیڑا کو ٹرانزٹ قبل از گرفتاری ضمانت دینے کے تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔

...مزید دیکھیں
جے ڈی وینس کا پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات میں زبردست پیش رفت کا اعتراف

جے ڈی وینس کا پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات میں زبردست پیش رفت کا اعتراف

جارجیا، 15 اپریل (یو این آیہ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جارجیا یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ امریکی وفد نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں زبردست پیش رفت کی ہے اور اسی پیش رفت کی وجہ ہی سے جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے جے ڈی وینس نے کہا ٹرمپ ایران کے ساتھ کوئی چھوٹی موٹی نہیں بلکہ بڑی ڈیل چاہتے ہیں، مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی لیکن جوہری ہتھیاروں پر ڈیڈ لاک ہوا، ٹرمپ نے کہا ایران نارمل ملک کی طرح رویہ رکھے تو ہم بھی اس کے ساتھ معاشی طور پر ایک عام ملک کی طرح سلوک کریں گے۔

...مزید دیکھیں
تیجسوی یادو کی سمراٹ چودھری کو وزیر اعلی بننے پرالبیلے انداز میں مبارکباد

تیجسوی یادو کی سمراٹ چودھری کو وزیر اعلی بننے پرالبیلے انداز میں مبارکباد

پٹنہ، 15 اپریل (یو این آئی) بہار میں اپوزیشن کے لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی کارگزار صدر تیجسوی یادو نے بدھ کو سمراٹ چودھری کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد البیلے انداز میں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر چودھری نے 2025 کے انتخابات میں عوام کی پسند سے وزیر اعلیٰ بننے والے نتیش کمار کو اقتدار سے ہٹا کر اپنی برسوں پرانی قسم پوری کر لی ہے اس کے لیے انہیں ڈھیروں مبارکباد اور نیک خواہشات!
مسٹر یادو کا طنز اس واقعے کی طرف تھا جب تین سال پہلے بی جے پی اور جے ڈی یو کی علیحدگی کے دنوں میں مسٹر چودھری نے پگڑی باندھ کر کہا تھا کہ اب وہ اسے نتیش کمار کو وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا کر ہی اتاریں گے۔

...مزید دیکھیں
اسرائیل اور لبنان کے درمیان تین دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات

اسرائیل اور لبنان کے درمیان تین دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات

واشنگٹن، 15 اپریل (یو این آئی) لبنان اور اسرائیل نے تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد اپنی پہلی سفارتی بات چیت کی ہے  بی بی سی کی بدھ کی رپورٹ کے مطابق، یہ ملاقات اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کو ختم کرنے کے مقصد سے کی گئی ہے مذاکرات کی اہم تفصیلات کے مطابق اس بات چیت کی ثالثی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کی، جنہوں نے اسے حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا ایک تاریخی موقع قرار دیا۔

...مزید دیکھیں
ایران کا جوہری بم حاصل کرنا قطعی طور پر ناقابلِ قبول : ٹرمپ

ایران کا جوہری بم حاصل کرنا قطعی طور پر ناقابلِ قبول : ٹرمپ

واشنگٹن، 15 اپریل (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پوپ لیو کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دینا چاہیے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کوئی پوپ لیو کو بتائے کہ ایران نے گزشتہ 2 ماہ میں کم از کم 42 ہزار نہتے اور معصوم مظاہرین کو قتل کیا ہے اور ایران کا جوہری بم حاصل کرنا قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

...مزید دیکھیں
گریٹر نوئیڈا میں شیو نادر یونیورسٹی کے ملازمین کا احتجاج، تنخواہ میں اضافہ اور اوور ٹائم کی دگنی ادائیگی کا مطالبہ

گریٹر نوئیڈا میں شیو نادر یونیورسٹی کے ملازمین کا احتجاج، تنخواہ میں اضافہ اور اوور ٹائم کی دگنی ادائیگی کا مطالبہ

گریٹر نوئیڈا، 15 اپریل (یواین آئی) اتر پردیش کے ضلع گوتم بدھ نگر میں واقع گریٹر نوئیڈا کے شیو نادر یونیورسٹی کے ملازمین نے بدھ کے روز یونیورسٹی کیمپس کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرہ کرنے والے ملازمین نے تنخواہ میں اضافے اور اوور ٹائم کے بدلے دگنی ادائیگی کا مطالبہ کیا ملازمین کا الزام ہے کہ طویل عرصے سے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

...مزید دیکھیں

پاکستان نے نیپال کو 3-0 سے شکست دے دی

15 Apr 2026 | 10:42 PM

اسلام آباد،15 اپریل ( یو این آئی) پاکستان نے آئی ٹی ایف ایشیا 12 اینڈ انڈر ٹیم مقابلہ (ساؤتھ ایشیا) 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان نیپال کو 3-0 سے شکست دے دی۔پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف) کے مطابق کٹھمنڈو میں جاری ایونٹ میں پاکستان بوائز ٹیم گروپ بی میں مالدیپ اور میزبان نیپال کے ساتھ شامل ہے۔ .

آشا بھونسلے: طویل کریئر، ہزاروں نغمے، خاندانی ورثہ اور مسلم سوشل فلموں میں مستند خدمات

15 Apr 2026 | 4:59 PM

ممبئی،15اپریل ( یواین آئی) برصغیر کی نامور پلے بیک سنگر آشا بھونسلے کا شمار عالمی سطح پر اُن ممتاز گلوکاراؤں میں ہوتا ہے ،جنہوں نے نصف صدی سے زائد طویل کریئر میں ہزاروں نغمے گا کر ایک منفرد اور باوقار مقام حاصل کیا۔ مختلف مستند اندازوں کے مطابق انہوں نے بارہ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے، جب کہ بعض غیر رسمی دعوؤں میں یہ تعداد بیس ہزار سے بھی زیادہ بیان کی جاتی ہے۔ 1940 کی دہائی کے اواخر میں اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والی آشا بھونسلے آج بھی موسیقی کی دنیا میں ایک معتبر اور زندہ روایت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ .

باگھوں کے مسکن میں 'خوف کا راج': بیماری اور زخموں نے ترائی مغربی بیلٹ کو گھیر لیا

15 Apr 2026 | 10:33 PM

رام نگر، 15 اپریل ( یو این آئی)اتراکھنڈ کے رام نگر میں واقع ترائی مغربی ون پربھاگ میں جنگلی حیات، خصوصاً ٹایئگرس پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ گزشتہ چار دنوں کے دوران جہاں ایک باگھ مرچکا ہے، وہیں آج ایک اور باگھن کو انتہائی تشویشناک حالت میں بچا کر ریسکیو سینٹر منتقل کیا گیا ہے، جس سے محکمہ جنگلات کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔.