Science TechnologyPosted at: Jan 25 2026 8:15PM ہندوستان کے خلائی شعبے کا نیا دور: نئے اسپیس ایکٹ، مراعات اور انفراسٹرکچر کی ضرورت

خصوصی مضمون: محمد کونین حیدر
نئی دہلی (محمد کونین حیدر/یو این آئی) ہندوستان میں خلائی سرگرمیوں کا آغاز 1962 میں انکو اسپار(آئی این سی او ایس پی اے آر) کے قیام سے ہوا، جس نے آگے چل کر 1969 میں خلائی تحقیق کے ہندوستانی ادارے کی شکل اختیار کی، جسے عام طور پر اسرو کہا جاتا ہے,اس سفر کا بنیادی مقصد خلائی ٹیکنالوجی کو قومی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے استعمال کرنا تھا۔ آج ہندوستان کا خلائی پروگرام ایک ایسی بلندی پر ہے جہاں یہ نہ صرف مواصلات، زراعت، آفات کے بندوبست اور نیویگیشن جیسے شعبوں میں خود کفیل ہے، بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی خلائی قوت بن چکا ہے۔
ہندوستانی خلائی ڈھانچہ اب محکمۂ خلا کے زیرِ نگرانی ایک وسیع نیٹ ورک پر مشتمل ہے۔ جہاں اسرو تحقیق اور ترقی کا ذمہ دار ہے، وہاں این ایس آئی ایل جیسے تجارتی ادارے اور ان اسپیس (IN-SPACe) جیسے انضباطی ادارے نجی شعبے کی شرکت کو یقینی بنا رہے ہیں۔ پی ایس ایل وی اور جی ایس ایل وی جیسے قابلِ بھروسہ راکٹس کی بدولت ہندوستان کی رسائی خلا تک آسان ہوئی ہے۔ اب ہندوستان چندریان-3، شمسی مشن آدتیہ-L1 اور انسانی خلائی مشن گگن یان کے ذریعے کائنات کے نئے رازوں کو جاننے اور انسانی پرواز کی صلاحیت حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔
ہندوستان کا خلائی سفر اب محض راکٹوں کی لانچنگ اور سیٹلائٹس تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک قومی شناخت اور کروڑوں عوام کے خوابوں کی تعبیر بن چکا ہے۔ آج خلا محض ایک سائنسی تجربہ گاہ نہیں بلکہ ایک ’عوامی ضرورت‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کا فائدہ عام شہری تک پہنچ رہا ہے۔
ہندوستان کے خلائی پروگرام میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والی تبدیلی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ جون 2025 میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ہندوستانی خلا باز شبھانشو شکلا نے ترنگا لہرایا۔اس تاریخی لمحے کو وزیراعظم نریندر مودی نے ’امرت کال‘ کا ایک اہم باب قرار دیا۔
23 اگست 2023 وہ دن تھا جب ہندوستان چاند کے قطب جنوبی پر قدم رکھنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا۔ چندریان-1 نے جہاں چاند پر پانی کی موجودگی کی تصدیق کی تھی، وہیں چندریان-3 نے ہندوستان کی تکنیکی مہارت کا لوہا منوایا۔ اس کامیابی نے نہ صرف سائنسدانوں بلکہ اسکول کے بچوں اور دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو بھی یہ یقین دلایا کہ مستقبل اب ہندوستان کا ہے۔
ہندوستان کی کامیابیاں صرف چاند تک محدود نہیں۔ 2014 میں پہلی ہی کوشش میں مریخ تک پہنچنا (منگلیان مشن) اور پھر 2023 میں سورج کے مطالعے کے لیے ’آدتیہ-L1‘ کا کامیاب آغاز ہندوستان کے بڑھتے قدموں کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایکسپوسیٹ اور اسپیڈیکس جیسے مشن بلیک ہولز کی تحقیق اور مستقبل کے خلائی اسٹیشنوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہندوستان نے اپنے لیے انتہائی جرات مندانہ اہداف مقرر کیے ہیں۔ ’گگن یان‘ مشن کے تحت 2027 تک ہندوستانی خلا بازوں کو خلا میں بھیجنے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ یہی نہیں بلکہ2035 تک ہندوستان اپنا ’بھارتیہ انترکش اسٹیشن‘قائم کرے گا۔2040 تک چاند کی سطح پر انسان بردار ہندوستانی خلائی جہاز بھیجنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ان عظیم الشان اہداف کے حصول کے لیے جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے، وہیں اب اس شعبے کو مالی تعاون، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور نجی شراکت داری کی ضرورت ہے تاکہ خلائی ترقی کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔
خلائی منصوبے بہت زیادہ سرمائے کے متقاضی ہوتے ہیں اور ان کا منافع حاصل کرنے کی میعاد 5 سے 7 سال تک طویل ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر خلائی اثاثوں کو اسٹریٹجک انفراسٹرکچر مانا جاتا ہے، لیکن ہندوستان میں اب تک اسے باضابطہ انفراسٹرکچر کا درجہ حاصل نہیں ہے۔
آئی ایس پی اے نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپیس اور سیٹلائٹ انفراسٹرکچر کو وزارت خزانہ اور آر بی آئی کی جانب سے ہارمونائزڈ ماسٹر لسٹ میں شامل کیا جائے۔لانچ وہیکلز، اسپیس پورٹس، سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ یونٹس اور گراؤنڈ اسٹیشنز کے لیے ایک علیحدہ سب-سیکٹر بنایا جائے۔انفراسٹرکچر کا درجہ ملنے سے سرمائے کی لاگت میں 2 سے 3 فیصد کمی آئے گی اور کمپنیوں کو طویل مدتی اور سستے قرضے ملنا ممکن ہو سکے گا۔
آئی ایس پی اے نے تجویز دی ہے کہ حکومت خلائی خدمات، ہارڈویئر اور مشنز کے لیے اپنی کُل خریداری کا کم از کم 50 فیصد نجی ہندوستانی اداروں (این جی ای) سے حاصل کرے۔ اس میں سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ، ارتھ آبزرویشن ڈیٹا اور لانچ سب سسٹمز شامل ہونے چاہئیں۔ مختلف سرکاری وزارتوں کو ’’اینکر کسٹمرز‘‘ کے طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ مقامی صنعت کو ابتدائی سہارا مل سکے۔
خلائی شعبے میں تحقیق و ترقی(آر اینڈ ٹی) کو فروغ دینے کے لیے آئی ایس پی اے نے کئی مالیاتی مطالبات پیش کیے ہیں۔ سیٹلائٹس، لانچ وہیکلز اور اہم سب سسٹمز کے لیے پی ایل آئی اسکیم شروع کی جائے تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنایا جا سکے۔ خلائی مینوفیکچرنگ اور لانچ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے پانچ سالہ ٹیکس ہالیڈے کی تجویز دی گئی ہے۔تحقیق پر ہونے والے اخراجات پر 20-30 فیصد ٹیکس کریڈٹ دیا جائے۔ جی ایس ٹی کے ڈھانچے کو بہتر بنانا تاکہ کمپنیوں کو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کا مکمل فائدہ مل سکے۔
جیسے جیسے سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال حکومتی اور تجارتی کاموں میں بڑھ رہا ہے، ڈیٹا کی سکیورٹی اور معیار کو برقرار رکھنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ آئی ایس پی اے کا کہنا ہے کہ خریداری کا ایک منظم فریم ورک نہ صرف ملکی صنعت کی مدد کرے گا بلکہ قومی مفادات اور حساس جیو اسپیشل ڈیٹا کی حفاظت بھی یقینی بنائے گا۔
ہندوستان کے خلائی شعبے کو عالمی ویلیو چین کا حصہ بنانے کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے، خاص طور پر آٹومیٹک روٹ کے تحت۔ اس سے عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ ہندوستان آئے گا، جو ملکی ترقی کی رفتار کو تیز کرے گا۔
ہندوستان کے خلائی سفر میں یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ مرکزی بجٹ 2026-27 ان تجاویز پر عمل درآمد کر کے حکومت کے کردار کو محض ایک ’’سہولت کار‘‘ سے بدل کر ایک ’’شراکت دار‘‘ میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اسپیس کو انفراسٹرکچر کا درجہ دینا، ٹیکس میں چھوٹ اور نجی شعبے کی لازمی شرکت وہ اقدامات ہیں جو ہندوستان کو خلائی دوڑ میں صفِ اول میں لا کھڑا کریں گے۔ اگر ان سفارشات کو تسلیم کر لیا جاتا ہے، تو نہ صرف دفاعی اور سائنسی طور پر ہندوستان مضبوط ہوگا بلکہ یہ شعبہ لاکھوں اعلیٰ درجے کی ملازمتیں پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنے گا۔
ہندوستان کی خلائی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ 2013 میں خلائی بجٹ 5,615 کروڑ روپے تھا جو اب بڑھ کر 13,416 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ 350 سے زائد نجی اسٹارٹ اپس اس شعبے میں شامل ہو چکے ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ توقع ہے کہ ہندوستان کی خلائی معیشت آنے والے سالوں میں 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
ہندوستان ’وسودھیوا کٹمبکم‘ (پوری دنیا ایک خاندان ہے) کے فلسفے پر عمل پیرا ہے۔ ناسا، جاپان اور فرانس کے ساتھ مشترکہ طور پر ہونے والے مشن اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ دوسری طرف، خلائی ٹیکنالوجی آج ایک عام ہندوستانی کی زندگی کو آسان بنا رہی ہے۔ چاہے وہ ماہی گیروں کے لیے سمندری اطلاعات ہوں، کسانوں کے لیے فصلوں کا تخمینہ یا قدرتی آفات سے پہلے وارننگ—خلا اب ہر شہری کی خدمت کر رہا ہے۔
ہندوستان کا خلائی پروگرام صرف چند سائنسدانوں کی کامیابی نہیں بلکہ 1.4 ارب عوام کا سفر ہے۔ یہ ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جو اب ستاروں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ رکھتی ہے اور خلا کے اس نئے دور میں دنیا کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی - م ک