Friday, Feb 13 2026 | Time 03:26 Hrs(IST)
Science Technology

ہندوستان کے خلائی شعبے کا نیا دور: نئے اسپیس ایکٹ، مراعات اور انفراسٹرکچر کی ضرورت

ہندوستان کے خلائی شعبے کا نیا دور: نئے اسپیس ایکٹ، مراعات اور انفراسٹرکچر کی ضرورت

خصوصی مضمون: محمد کونین حیدر
نئی دہلی (محمد کونین حیدر/یو این آئی) ہندوستان میں خلائی سرگرمیوں کا آغاز 1962 میں انکو اسپار(آئی این سی او ایس پی اے آر) کے قیام سے ہوا، جس نے آگے چل کر 1969 میں خلائی تحقیق کے ہندوستانی ادارے کی شکل اختیار کی، جسے عام طور پر اسرو کہا جاتا ہے,اس سفر کا بنیادی مقصد خلائی ٹیکنالوجی کو قومی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے استعمال کرنا تھا۔ آج ہندوستان کا خلائی پروگرام ایک ایسی بلندی پر ہے جہاں یہ نہ صرف مواصلات، زراعت، آفات کے بندوبست اور نیویگیشن جیسے شعبوں میں خود کفیل ہے، بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی خلائی قوت بن چکا ہے۔
ہندوستانی خلائی ڈھانچہ اب محکمۂ خلا کے زیرِ نگرانی ایک وسیع نیٹ ورک پر مشتمل ہے۔ جہاں اسرو تحقیق اور ترقی کا ذمہ دار ہے، وہاں این ایس آئی ایل جیسے تجارتی ادارے اور ان اسپیس (IN-SPACe) جیسے انضباطی ادارے نجی شعبے کی شرکت کو یقینی بنا رہے ہیں۔ پی ایس ایل وی اور جی ایس ایل وی جیسے قابلِ بھروسہ راکٹس کی بدولت ہندوستان کی رسائی خلا تک آسان ہوئی ہے۔ اب ہندوستان چندریان-3، شمسی مشن آدتیہ-L1 اور انسانی خلائی مشن گگن یان کے ذریعے کائنات کے نئے رازوں کو جاننے اور انسانی پرواز کی صلاحیت حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔
ہندوستان کا خلائی سفر اب محض راکٹوں کی لانچنگ اور سیٹلائٹس تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک قومی شناخت اور کروڑوں عوام کے خوابوں کی تعبیر بن چکا ہے۔ آج خلا محض ایک سائنسی تجربہ گاہ نہیں بلکہ ایک ’عوامی ضرورت‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کا فائدہ عام شہری تک پہنچ رہا ہے۔
ہندوستان کے خلائی پروگرام میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والی تبدیلی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ جون 2025 میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ہندوستانی خلا باز شبھانشو شکلا نے ترنگا لہرایا۔اس تاریخی لمحے کو وزیراعظم نریندر مودی نے ’امرت کال‘ کا ایک اہم باب قرار دیا۔
23 اگست 2023 وہ دن تھا جب ہندوستان چاند کے قطب جنوبی پر قدم رکھنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا۔ چندریان-1 نے جہاں چاند پر پانی کی موجودگی کی تصدیق کی تھی، وہیں چندریان-3 نے ہندوستان کی تکنیکی مہارت کا لوہا منوایا۔ اس کامیابی نے نہ صرف سائنسدانوں بلکہ اسکول کے بچوں اور دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو بھی یہ یقین دلایا کہ مستقبل اب ہندوستان کا ہے۔
ہندوستان کی کامیابیاں صرف چاند تک محدود نہیں۔ 2014 میں پہلی ہی کوشش میں مریخ تک پہنچنا (منگلیان مشن) اور پھر 2023 میں سورج کے مطالعے کے لیے ’آدتیہ-L1‘ کا کامیاب آغاز ہندوستان کے بڑھتے قدموں کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایکسپوسیٹ اور اسپیڈیکس جیسے مشن بلیک ہولز کی تحقیق اور مستقبل کے خلائی اسٹیشنوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہندوستان نے اپنے لیے انتہائی جرات مندانہ اہداف مقرر کیے ہیں۔ ’گگن یان‘ مشن کے تحت 2027 تک ہندوستانی خلا بازوں کو خلا میں بھیجنے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ یہی نہیں بلکہ2035 تک ہندوستان اپنا ’بھارتیہ انترکش اسٹیشن‘قائم کرے گا۔2040 تک چاند کی سطح پر انسان بردار ہندوستانی خلائی جہاز بھیجنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ان عظیم الشان اہداف کے حصول کے لیے جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے، وہیں اب اس شعبے کو مالی تعاون، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور نجی شراکت داری کی ضرورت ہے تاکہ خلائی ترقی کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔
خلائی منصوبے بہت زیادہ سرمائے کے متقاضی ہوتے ہیں اور ان کا منافع حاصل کرنے کی میعاد 5 سے 7 سال تک طویل ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر خلائی اثاثوں کو اسٹریٹجک انفراسٹرکچر مانا جاتا ہے، لیکن ہندوستان میں اب تک اسے باضابطہ انفراسٹرکچر کا درجہ حاصل نہیں ہے۔
آئی ایس پی اے نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپیس اور سیٹلائٹ انفراسٹرکچر کو وزارت خزانہ اور آر بی آئی کی جانب سے ہارمونائزڈ ماسٹر لسٹ میں شامل کیا جائے۔لانچ وہیکلز، اسپیس پورٹس، سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ یونٹس اور گراؤنڈ اسٹیشنز کے لیے ایک علیحدہ سب-سیکٹر بنایا جائے۔انفراسٹرکچر کا درجہ ملنے سے سرمائے کی لاگت میں 2 سے 3 فیصد کمی آئے گی اور کمپنیوں کو طویل مدتی اور سستے قرضے ملنا ممکن ہو سکے گا۔
آئی ایس پی اے نے تجویز دی ہے کہ حکومت خلائی خدمات، ہارڈویئر اور مشنز کے لیے اپنی کُل خریداری کا کم از کم 50 فیصد نجی ہندوستانی اداروں (این جی ای) سے حاصل کرے۔ اس میں سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ، ارتھ آبزرویشن ڈیٹا اور لانچ سب سسٹمز شامل ہونے چاہئیں۔ مختلف سرکاری وزارتوں کو ’’اینکر کسٹمرز‘‘ کے طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ مقامی صنعت کو ابتدائی سہارا مل سکے۔
خلائی شعبے میں تحقیق و ترقی(آر اینڈ ٹی) کو فروغ دینے کے لیے آئی ایس پی اے نے کئی مالیاتی مطالبات پیش کیے ہیں۔ سیٹلائٹس، لانچ وہیکلز اور اہم سب سسٹمز کے لیے پی ایل آئی اسکیم شروع کی جائے تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنایا جا سکے۔ خلائی مینوفیکچرنگ اور لانچ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے پانچ سالہ ٹیکس ہالیڈے کی تجویز دی گئی ہے۔تحقیق پر ہونے والے اخراجات پر 20-30 فیصد ٹیکس کریڈٹ دیا جائے۔ جی ایس ٹی کے ڈھانچے کو بہتر بنانا تاکہ کمپنیوں کو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کا مکمل فائدہ مل سکے۔
جیسے جیسے سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال حکومتی اور تجارتی کاموں میں بڑھ رہا ہے، ڈیٹا کی سکیورٹی اور معیار کو برقرار رکھنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ آئی ایس پی اے کا کہنا ہے کہ خریداری کا ایک منظم فریم ورک نہ صرف ملکی صنعت کی مدد کرے گا بلکہ قومی مفادات اور حساس جیو اسپیشل ڈیٹا کی حفاظت بھی یقینی بنائے گا۔
ہندوستان کے خلائی شعبے کو عالمی ویلیو چین کا حصہ بنانے کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے، خاص طور پر آٹومیٹک روٹ کے تحت۔ اس سے عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ ہندوستان آئے گا، جو ملکی ترقی کی رفتار کو تیز کرے گا۔
ہندوستان کے خلائی سفر میں یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ مرکزی بجٹ 2026-27 ان تجاویز پر عمل درآمد کر کے حکومت کے کردار کو محض ایک ’’سہولت کار‘‘ سے بدل کر ایک ’’شراکت دار‘‘ میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اسپیس کو انفراسٹرکچر کا درجہ دینا، ٹیکس میں چھوٹ اور نجی شعبے کی لازمی شرکت وہ اقدامات ہیں جو ہندوستان کو خلائی دوڑ میں صفِ اول میں لا کھڑا کریں گے۔ اگر ان سفارشات کو تسلیم کر لیا جاتا ہے، تو نہ صرف دفاعی اور سائنسی طور پر ہندوستان مضبوط ہوگا بلکہ یہ شعبہ لاکھوں اعلیٰ درجے کی ملازمتیں پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنے گا۔
ہندوستان کی خلائی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ 2013 میں خلائی بجٹ 5,615 کروڑ روپے تھا جو اب بڑھ کر 13,416 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ 350 سے زائد نجی اسٹارٹ اپس اس شعبے میں شامل ہو چکے ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ توقع ہے کہ ہندوستان کی خلائی معیشت آنے والے سالوں میں 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
ہندوستان ’وسودھیوا کٹمبکم‘ (پوری دنیا ایک خاندان ہے) کے فلسفے پر عمل پیرا ہے۔ ناسا، جاپان اور فرانس کے ساتھ مشترکہ طور پر ہونے والے مشن اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ دوسری طرف، خلائی ٹیکنالوجی آج ایک عام ہندوستانی کی زندگی کو آسان بنا رہی ہے۔ چاہے وہ ماہی گیروں کے لیے سمندری اطلاعات ہوں، کسانوں کے لیے فصلوں کا تخمینہ یا قدرتی آفات سے پہلے وارننگ—خلا اب ہر شہری کی خدمت کر رہا ہے۔
ہندوستان کا خلائی پروگرام صرف چند سائنسدانوں کی کامیابی نہیں بلکہ 1.4 ارب عوام کا سفر ہے۔ یہ ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جو اب ستاروں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ رکھتی ہے اور خلا کے اس نئے دور میں دنیا کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی - م ک

خاص خبریں
ہندوستانی معیشت  اس وقت غیر معمولی متوازن ہے: سیتارمن

ہندوستانی معیشت اس وقت غیر معمولی متوازن ہے: سیتارمن

نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ ہندوستان معیشت اس وقت غیرمعمولی متوازن ہے جہاں بلند اقتصادی ترقی کے ساتھ افراطِ زر طویل عرصے تک نچلی سطح پر چل رہا ہے محترمہ سیتارمن نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں بجٹ 2026-27 پر چار روزہ عمومی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بے روزگاری کی شرح بھی نچلی سطح پر ہے اور پچھلے ایک عشرے میں ٹیکس دہندگان کی تعداد دوگنی ہو کر 12 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

...مزید دیکھیں
بنگلہ دیش عام انتخابات: نتائج کے ابتدائی رجحانات میں جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان سخت مقابلہ

بنگلہ دیش عام انتخابات: نتائج کے ابتدائی رجحانات میں جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان سخت مقابلہ

ڈھاکہ، 12 فروری (یو این آئی) بنگلہ دیش کے تاریخی عام انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے ساتھ انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

...مزید دیکھیں
غیر ملکی دباؤ میں کیے گئے معاہدے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں: کھڑگے

غیر ملکی دباؤ میں کیے گئے معاہدے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں: کھڑگے

نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے مرکز کی حکومت پر سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی دباؤ میں کیے گئے معاہدے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں اور حکومت کی پالیسیاں کروڑوں محنت کش کسانوں، مزدوروں اور کارکنوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں کھڑگے نے نئے لیبر قوانین اور منریگا کو کمزور کرنے کے الزامات پر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ملک بھر میں ٹریڈ یونینیں، کسان اور مزدور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہے ہیں۔

...مزید دیکھیں
راہل گاندھی نے لیبر کوڈ اور تجارتی معاہدے پر مرکز سے سوال کیا

راہل گاندھی نے لیبر کوڈ اور تجارتی معاہدے پر مرکز سے سوال کیا

نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جمعرات کو ملک بھر میں احتجاج کرنے والے مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکز کی حالیہ پالیسی فیصلے ان کے حقوق اور روزگار کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہاکہ "ملک بھر میں لاکھوں مزدور اور کسان اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں" اور حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ایسے فیصلے کرتے وقت اسٹیک ہولڈرز کو نظرانداز کیا جو ان کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔

...مزید دیکھیں
ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج

ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج

نئی دہلی، 12 فروری (یو این آئی) کانگریس اور انڈیا اتحاد کی مختلف پارٹیون کے رہنماؤں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے مکر دوار کے باہر امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ اس میں کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے اتحاد کے رہنماؤں نے ہاتھوں میں بینر اور تختیاں لے کر حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔

...مزید دیکھیں
ہندوستان نے فرانس کے ساتھ 36 ارب ڈالر کے رافیل معاہدے کو مقامی پیداوار پر زور دیتے ہوئے آگے بڑھایا

ہندوستان نے فرانس کے ساتھ 36 ارب ڈالر کے رافیل معاہدے کو مقامی پیداوار پر زور دیتے ہوئے آگے بڑھایا

جینت رائے چوہدری
نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) ہندوستان فرانس سے 114 اضافی رافیل ایف-4 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کے لیے ملٹی بلین ڈالر کے معاہدے کو آگے بڑھا رہا ہے، جن میں سے 96 طیارے ناگپور میں ڈسالٹ ریلائنس ایروسپیس لمیٹڈ کے پلانٹ میں تیار کیے جائیں گے یہ اقدام فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے آئندہ منگل کو ہندوستان کے دورے سے پہلے کیا جا رہا ہے اس معاہدے میں 18 طیارے براہِ راست فراہم کیے جائیں گے، جبکہ باقی ہندوستان میں تیار ہوں گے۔

...مزید دیکھیں
بنگلہ دیش انتخابات: محمد یونس، شفیق الرحمان اور طارق رحمان نے ووٹ ڈال دیا

بنگلہ دیش انتخابات: محمد یونس، شفیق الرحمان اور طارق رحمان نے ووٹ ڈال دیا

ڈھاکہ، 12 فروری (یو این آئی) بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سربراہ طارق رحمان، بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس اور جین زی پر مشتمل جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ناہید الاسلام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرلیا امیرِ جماعت اسلامی شفیق الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے لیے یہ انتخابات ایک اہم موڑ ہیں، لوگوں کے مطالبات اور خواہشات بدل رہی ہیں، ہم بھی تبدیلی کے حق دار ہیں۔

...مزید دیکھیں

ایف آئی ایچ پرو لیگ: ارجنٹائن نے ہندوستان کو 8-0 سے ہرایا

12 Feb 2026 | 11:35 PM

راؤرکیلا،12 فروری ( یو این آئی)ایف آئی ایچ مردوں کی ہاکی پرو لیگ 2025-26 کے راؤرکیلا مرحلے میں جمعرات کو ہندوستان کو ارجنٹائن کے ہاتھوں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ارجنٹائن نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستانی ٹیم کو 8-0 کے بڑے فرق سے ہرا کر ہوم گراؤنڈ پر موجود ہزاروں شائقین کو مایوس کر دیا۔.

ہروندر سنگھ سرنا کو فوری طور پر پنتھ سے خارج کیا جائے: ڈی ایس جی پی سی

12 Feb 2026 | 11:50 PM

امرتسر، 12 فروری (یو این آئی): دہلی سکھ گردوارہ منیجمنٹ کمیٹی (ڈی ایس جی پی سی) کے ایک وفد نے جمعرات کے روز کمیٹی کے سابق صدر ہروندر سنگھ سرنا کے خلاف جتھیدار شری اکال تخت صاحب گیانی کلدیپ سنگھ گڈگج کے روبرو اپنی شکایت درج کرائی ہے۔ وفد نے الزام لگایا ہے کہ مسٹر سرنا نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو مبینہ طور پر معافی دینے کی بات کہی ہے اور شری اکال تخت صاحب کو محض ایک 'عمارت' قرار دیا ہے، جو سکھ روایات کی کھلی توہین ہے۔.

ہندوستان مصنوعی ذہانت کی نئی عالمی طاقت

ہندوستان مصنوعی ذہانت کی نئی عالمی طاقت

11 Feb 2026 | 6:32 PM

نئی دہلی، 11 فروری (یو این آئی) ہندوستان کی ترقی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک مرکزی ستون بن کر ابھری ہے، جو نہ صرف حکمرانی اور عوامی خدمات کو بہتر بنا رہی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر شہریوں کے مسائل کا حل بھی فراہم کر رہی ہے۔ انسانی ترقی کی تاریخ میں بجلی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فون نے جس طرح انقلابات برپا کیے، اب اے آئی اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے زراعت، صحت، تعلیم اور ماحولیات جیسے شعبوں میں انسانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ .