NationalPosted at: Jun 3 2026 2:33PM انجمن ترقی اردو میں معروف شاعر بشیر بدر کے انتقال پر تعزیتی جلسہ

نئی دہلی، 3 جون (یو این آئی) انجمن ترقی اردو (دہلی شاخ) کی جانب سے عہدِ حاضر کے ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور جناب بشیر بدر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اس موقع پر انجمن کے ذمہ داران اور اراکین نے مرحوم کی ادبی، شعری اور تہذیبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے کے لیے دعائے مغفرت کی انجمن کے صدر اقبال مسعود فاروقی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ بشیر بدر اردو غزل کے ایک درخشاں ستارے تھے جنہوں نے اپنی منفرد شاعری، سادہ مگر پراثر اسلوب اور انسانی اقدار کے فروغ کے ذریعے اردو ادب کو نئی جہت عطا کی۔ ان کے انتقال سے اردو دنیا ایک ایسے تخلیق کار سے محروم ہوگئی ہے جس کی کمی مدتوں محسوس کی جائے گی۔ انجمن کے نائب صدر ادریس احمد نے اپنے تاثرات میں کہا کہ بشیر بدر کی شاعری محبت، رواداری اور انسانی رشتوں کی ترجمان تھی۔ ان کا کلام عوام و خواص دونوں میں یکساں مقبول رہا اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی ادبی خدمات اردو زبان و ادب کے تاریخ ساز اثاثے کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انجمن کے سکریٹری خورشید عالم نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ بشیر بدر نے اردو غزل کو نئی معنویت اور عصری حسیت عطا کی۔ ان کی شخصیت نہایت شفیق، منکسرالمزاج اور ادب دوست تھی۔ ان کا انتقال اردو ادب کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور مداحوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
اجلاس کے اختتام پر مرحوم بشیر بدر کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔
یو این آئی۔ م الف