NationalPosted at: Jul 15 2026 4:53PM سرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی

نئی دہلی، 15 جولائی (یو این آئی) سرکار نے ملک میں موبائل فون کی تیاری کو نئی رفتار دینے، گھریلو ویلیو ایڈیشن بڑھانے، اور ہندستان کو عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر قائم کرنے کے مقصد سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم (ایم پی ایم ایس) کو منظوری دے دی ہے جس پر 62,500 کروڑ روپے کا بجٹی انتظام ہے مرکزی وزیرِ اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے بدھ کو یہ جانکاری دی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم (ایم پی ایم ایس) کو منظوری دے دی ہے۔ 62,500 کروڑ روپے کے بجٹی انتظام والی یہ اسکیم ملک میں موبائل فون کی تیاری کو نئی رفتار دینے، گھریلو ویلیو ایڈیشن بڑھانے، سپلائی چین کو مضبوط کرنے اور ہندستان کو عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر قائم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔ یہ اسکیم مالی سال 27-2026 سے 31-2030 تک پانچ سال کے لیے نافذ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت ہندستان میں تیار کردہ موبائل فون کی اہل فروخت پر 2.25 فیصد سے 5 فیصد تک ترغیبی رقم دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، اہم پرزوں اور سب-اسمبلی کی گھریلو خریداری کو فروغ دینے کے لیے 1.5 فیصد تک اضافی ترغیب ملے گی۔ ہندستانی برانڈز کو تکنیکی طور پر خود کفیل بنانے اور ڈیزائن و ریسرچ کی حوصلہ افزائی کے لیے اہل فروخت پر 3 فیصد اضافی ترغیب کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
سرکار کے مطابق، اسکیم کی مدت میں ملک میں موبائل فون کی پیداوار کی مجموعی مالیت تقریباً 39 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ ساتھ ہی موبائل فون کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور تقریباً 60,000 براہِ راست روزگار پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس سے معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ہندستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی 'میک ان انڈیا' مہم کے تحت سال 15-2014 کے بعد سے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں سات گنا اور برآمدات میں 11 گنا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ہندستان اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن چکا ہے اور ملک میں استعمال ہونے والے 99.2 فیصد موبائل فون ہندستان ہی میں تیار ہو رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے