Science TechnologyPosted at: Mar 16 2026 7:10PM موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کی قیادت: سبز سیاست میں ابھرتی ہوئی آوازیں

خصوصی مضمون:ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ سماجی، معاشی اور سیاسی حقیقت بن چکی ہے بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر متوقع بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات اب عالمی سیاست کے اہم موضوعات میں شامل ہو چکے ہیں ان مسائل کے حل کے لیے جہاں سائنسدان اور ماہرین کام کر رہے ہیں، وہیں سیاسی قیادت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ خاص طور پر خواتین سیاستدانوں کی ایک نئی نسل اب موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد کی قیادت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
عالمی سطح پر یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر خواتین پر مردوں کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین نہ صرف اس مسئلے کو سمجھتی ہیں بلکہ اس کے حل کے لیے عملی سیاست میں بھی قدم رکھ رہی ہیں۔ کئی ایسی خواتین سیاستدانوں کی کہانیاں سامنے آتی ہیں جو نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ سماجی انصاف اور مساوات کے لیے بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہر فرد پر یکساں نہیں ہوتا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین اکثر غربت، سماجی پابندیوں اور معاشی کمزوری کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین عموماً پانی لانے، خوراک اگانے اور گھریلو وسائل کے انتظام کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی یا سیلاب آتا ہے تو سب سے زیادہ بوجھ انہی خواتین پر پڑتا ہے۔
مثال کے طور پر جب پانی کے ذرائع خشک ہو جاتے ہیں تو خواتین کو کئی میل دور جا کر پانی لانا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر فصلیں خراب ہو جائیں تو گھریلو خوراک کی کمی کا سامنا بھی خواتین کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر میں ایک نئی سوچ کو جنم دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے حل میں خواتین کو مرکزی کردار دینا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ماحولیاتی پالیسی سازی میں خواتین کی شرکت کو بڑھایا جائے۔ کیونکہ جب خواتین فیصلوں میں شامل ہوتی ہیں تو پالیسیوں میں سماجی انصاف، انسانی حقوق اور ماحول کے تحفظ کے پہلو زیادہ واضح طور پر شامل ہوتے ہیں۔
گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں سبز یا گرین سیاست کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ سبز سیاست دراصل ایسی سیاسی سوچ ہے جس کا بنیادی مقصد ماحول کا تحفظ، پائیدار ترقی اور سماجی انصاف کو فروغ دینا ہے۔ یورپ میں گرین پارٹیوں نے خاصی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کئی ممالک میں وہ پارلیمان کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔
گرین سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سیاست روایتی طاقت کے ڈھانچوں کے بجائے شفافیت، مساوات اور جمہوری اقدار پر زور دیتی ہے۔
برطانیہ میں بھی گرین پارٹی نے حالیہ برسوں میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔ اگرچہ ماضی میں اسے زیادہ تر متوسط طبقے اور شہری علاقوں کی پارٹی سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ طبقاتی اور جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر وسیع تر عوام تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان ہی تبدیلیوں کی ایک نمایاں مثال ہننا اسپینسر ہیں۔ وہ حال ہی میں انگلینڈ کے شمالی علاقے سے منتخب ہونے والی پہلی گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ بنیں۔ ان کا پس منظر روایتی سیاستدانوں سے بالکل مختلف ہے۔
ہننا اسپینسر نے 16 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا تھا اور وہ ایک پلمبر کے طور پر کام کرتی تھیں۔ انتخابی مہم کے دوران بھی وہ پلاسٹرنگ کی تربیت مکمل کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست صرف امیر اور اشرافیہ طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عام محنت کش طبقے کے لوگ بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ان کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ اب عوام ایسے نمائندوں کو منتخب کرنا چاہتے ہیں جو ان کی زندگیوں اور مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہوں۔
اپنی تقریر میں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ عام لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کریں گی۔ ان کے مطابق مہنگائی کو کم کرنا، کرایوں کو کنٹرول کرنا اور شہری علاقوں کو صاف ستھرا رکھنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
برطانیہ کی سیاست میں محنت کش طبقے کی نمائندگی ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2019 میں برطانوی پارلیمنٹ کے صرف سات فیصد اراکین ایسے تھے جن کا تعلق محنت کش طبقے سے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں زیادہ تر لوگ ایسے پس منظر سے آتے ہیں جو عام عوام سے مختلف ہوتا ہے۔
ہننا اسپینسر کی کامیابی اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ اس خلا کو کم کرنے کی علامت بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض حلقوں کو سیاست میں ایک نوجوان اور محنت کش طبقے کی عورت کا خیال پسند نہیں آتا۔ان کے مطابق کچھ لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ ویسٹ منسٹر ایک ایسے کلب کی طرح رہے جہاں صرف امیر اور مراعات یافتہ لوگ ہی داخل ہو سکیں۔
خواتین کے لیے سیاست میں قدم رکھنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ انہیں نہ صرف سیاسی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ صنفی امتیاز، ذاتی حملوں اور سماجی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔آسٹریا کی نوجوان گرین سیاستدان لینا شلنگ اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ صرف 25 سال کی عمر میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔ اس سے پہلے وہ موسمیاتی تحریک 'فرائیڈیز فار فیوچر' سے وابستہ تھیں۔شلنگ کے مطابق خواتین سیاستدانوں کو اکثر جنسی بدسلوکی، ذاتی حملوں اور رازداری کے نقصان جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسائل نہ صرف ان کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں سیاست چھوڑنے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا سیاست کا اہم میدان بن چکا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ آن لائن ہراسانی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔بہت سی خواتین سیاستدانوں کو سوشل میڈیا پر دھمکیوں، توہین آمیز تبصروں اور جعلی افواہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ انٹرنیٹ پر اکثر لوگ گمنامی کے پیچھے چھپ سکتے ہیں، اس لیے وہ بغیر کسی خوف کے نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہیں۔جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سیاسی طور پر سرگرم خواتین میں سے تقریباً دو تہائی کو کسی نہ کسی شکل میں جنس پرستانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کو خاص طور پر زیادہ تنقید اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امریکی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے انکار، خواتین کے خلاف تعصب اور ماحولیاتی پالیسی کی مخالفت کے درمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق بعض لوگ موجودہ معاشی اور سماجی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے موسمیاتی اصلاحات کی مخالفت کرتے ہیں۔ چونکہ خواتین اکثر سماجی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں، اس لیے انہیں زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آن لائن ہراسانی اور سماجی دباؤ کے باعث بہت سی خواتین سیاست چھوڑنے پر بھی غور کرتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل تشدد کا شکار ہونے والی 22 فیصد خواتین نے کسی نہ کسی وقت سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا سوچا۔یہ صورتحال نہ صرف خواتین کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ جمہوریت کے لیے بھی خطرناک ہے۔ کیونکہ اگر خواتین کو سیاست سے دور رکھا جائے تو معاشرے کے نصف حصے کی آواز دب جاتی ہے۔
تمام تر مشکلات کے باوجود دنیا بھر میں نوجوان خواتین کی ایک نئی نسل سیاست میں قدم رکھ رہی ہے۔ یہ خواتین نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لڑ رہی ہیں بلکہ سماجی انصاف، صنفی مساوات اور معاشی اصلاحات کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔یہ نسل روایتی سیاست سے مختلف انداز اختیار کر رہی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتی ہیں، عوامی تحریکوں سے جڑی ہوتی ہیں اور شفافیت پر زور دیتی ہیں۔ان کے نزدیک سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ بننے والی ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف سائنسی تحقیق سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط سیاسی قیادت بھی ضروری ہے۔خواتین سیاستدان اس میدان میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں کیونکہ وہ اکثر ماحول، صحت اور سماجی انصاف جیسے مسائل کو ایک ساتھ دیکھتی ہیں۔اگر سیاسی نظام خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور مساوی بنایا جائے تو مستقبل میں ہمیں مزید باصلاحیت خواتین رہنما دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا چیلنج ہے جس کا سامنا پوری انسانیت کو ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتوں یا سائنسدانوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے مشترکہ عزم سے ممکن ہے۔خواتین اس جدوجہد میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ چاہے وہ مقامی سطح پر ماحولیاتی سرگرم کارکن ہوں یا قومی اور بین الاقوامی سطح کی سیاستدان، ان کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو رہی ہے۔ہننا اسپینسر اور لینا شلنگ جیسی خواتین اس نئی سیاست کی علامت ہیں جو نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی بھی خواہاں ہیں۔اگر دنیا واقعی موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے تو اسے خواتین کی قیادت کو تسلیم کرنا ہوگا اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل طور پر شامل کرنا ہوگا۔یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ماحول کو بچا سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔(یواین آئی)