Tuesday, Apr 14 2026 | Time 08:22 Hrs(IST)
Science Technology

موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کی قیادت: سبز سیاست میں ابھرتی ہوئی آوازیں

موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کی قیادت: سبز سیاست میں ابھرتی ہوئی آوازیں

خصوصی مضمون:ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ سماجی، معاشی اور سیاسی حقیقت بن چکی ہے بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر متوقع بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات اب عالمی سیاست کے اہم موضوعات میں شامل ہو چکے ہیں ان مسائل کے حل کے لیے جہاں سائنسدان اور ماہرین کام کر رہے ہیں، وہیں سیاسی قیادت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ خاص طور پر خواتین سیاستدانوں کی ایک نئی نسل اب موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد کی قیادت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
عالمی سطح پر یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر خواتین پر مردوں کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین نہ صرف اس مسئلے کو سمجھتی ہیں بلکہ اس کے حل کے لیے عملی سیاست میں بھی قدم رکھ رہی ہیں۔ کئی ایسی خواتین سیاستدانوں کی کہانیاں سامنے آتی ہیں جو نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ سماجی انصاف اور مساوات کے لیے بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہر فرد پر یکساں نہیں ہوتا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین اکثر غربت، سماجی پابندیوں اور معاشی کمزوری کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین عموماً پانی لانے، خوراک اگانے اور گھریلو وسائل کے انتظام کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی یا سیلاب آتا ہے تو سب سے زیادہ بوجھ انہی خواتین پر پڑتا ہے۔
مثال کے طور پر جب پانی کے ذرائع خشک ہو جاتے ہیں تو خواتین کو کئی میل دور جا کر پانی لانا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر فصلیں خراب ہو جائیں تو گھریلو خوراک کی کمی کا سامنا بھی خواتین کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر میں ایک نئی سوچ کو جنم دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے حل میں خواتین کو مرکزی کردار دینا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ماحولیاتی پالیسی سازی میں خواتین کی شرکت کو بڑھایا جائے۔ کیونکہ جب خواتین فیصلوں میں شامل ہوتی ہیں تو پالیسیوں میں سماجی انصاف، انسانی حقوق اور ماحول کے تحفظ کے پہلو زیادہ واضح طور پر شامل ہوتے ہیں۔
گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں سبز یا گرین سیاست کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ سبز سیاست دراصل ایسی سیاسی سوچ ہے جس کا بنیادی مقصد ماحول کا تحفظ، پائیدار ترقی اور سماجی انصاف کو فروغ دینا ہے۔ یورپ میں گرین پارٹیوں نے خاصی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کئی ممالک میں وہ پارلیمان کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔
گرین سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سیاست روایتی طاقت کے ڈھانچوں کے بجائے شفافیت، مساوات اور جمہوری اقدار پر زور دیتی ہے۔
برطانیہ میں بھی گرین پارٹی نے حالیہ برسوں میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔ اگرچہ ماضی میں اسے زیادہ تر متوسط طبقے اور شہری علاقوں کی پارٹی سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ طبقاتی اور جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر وسیع تر عوام تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان ہی تبدیلیوں کی ایک نمایاں مثال ہننا اسپینسر ہیں۔ وہ حال ہی میں انگلینڈ کے شمالی علاقے سے منتخب ہونے والی پہلی گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ بنیں۔ ان کا پس منظر روایتی سیاستدانوں سے بالکل مختلف ہے۔
ہننا اسپینسر نے 16 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا تھا اور وہ ایک پلمبر کے طور پر کام کرتی تھیں۔ انتخابی مہم کے دوران بھی وہ پلاسٹرنگ کی تربیت مکمل کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست صرف امیر اور اشرافیہ طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عام محنت کش طبقے کے لوگ بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ان کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ اب عوام ایسے نمائندوں کو منتخب کرنا چاہتے ہیں جو ان کی زندگیوں اور مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہوں۔
اپنی تقریر میں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ عام لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کریں گی۔ ان کے مطابق مہنگائی کو کم کرنا، کرایوں کو کنٹرول کرنا اور شہری علاقوں کو صاف ستھرا رکھنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
برطانیہ کی سیاست میں محنت کش طبقے کی نمائندگی ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2019 میں برطانوی پارلیمنٹ کے صرف سات فیصد اراکین ایسے تھے جن کا تعلق محنت کش طبقے سے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں زیادہ تر لوگ ایسے پس منظر سے آتے ہیں جو عام عوام سے مختلف ہوتا ہے۔
ہننا اسپینسر کی کامیابی اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ اس خلا کو کم کرنے کی علامت بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض حلقوں کو سیاست میں ایک نوجوان اور محنت کش طبقے کی عورت کا خیال پسند نہیں آتا۔ان کے مطابق کچھ لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ ویسٹ منسٹر ایک ایسے کلب کی طرح رہے جہاں صرف امیر اور مراعات یافتہ لوگ ہی داخل ہو سکیں۔
خواتین کے لیے سیاست میں قدم رکھنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ انہیں نہ صرف سیاسی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ صنفی امتیاز، ذاتی حملوں اور سماجی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔آسٹریا کی نوجوان گرین سیاستدان لینا شلنگ اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ صرف 25 سال کی عمر میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔ اس سے پہلے وہ موسمیاتی تحریک 'فرائیڈیز فار فیوچر' سے وابستہ تھیں۔شلنگ کے مطابق خواتین سیاستدانوں کو اکثر جنسی بدسلوکی، ذاتی حملوں اور رازداری کے نقصان جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسائل نہ صرف ان کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں سیاست چھوڑنے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا سیاست کا اہم میدان بن چکا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ آن لائن ہراسانی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔بہت سی خواتین سیاستدانوں کو سوشل میڈیا پر دھمکیوں، توہین آمیز تبصروں اور جعلی افواہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ انٹرنیٹ پر اکثر لوگ گمنامی کے پیچھے چھپ سکتے ہیں، اس لیے وہ بغیر کسی خوف کے نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہیں۔جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سیاسی طور پر سرگرم خواتین میں سے تقریباً دو تہائی کو کسی نہ کسی شکل میں جنس پرستانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کو خاص طور پر زیادہ تنقید اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امریکی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے انکار، خواتین کے خلاف تعصب اور ماحولیاتی پالیسی کی مخالفت کے درمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق بعض لوگ موجودہ معاشی اور سماجی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے موسمیاتی اصلاحات کی مخالفت کرتے ہیں۔ چونکہ خواتین اکثر سماجی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں، اس لیے انہیں زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آن لائن ہراسانی اور سماجی دباؤ کے باعث بہت سی خواتین سیاست چھوڑنے پر بھی غور کرتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل تشدد کا شکار ہونے والی 22 فیصد خواتین نے کسی نہ کسی وقت سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا سوچا۔یہ صورتحال نہ صرف خواتین کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ جمہوریت کے لیے بھی خطرناک ہے۔ کیونکہ اگر خواتین کو سیاست سے دور رکھا جائے تو معاشرے کے نصف حصے کی آواز دب جاتی ہے۔
تمام تر مشکلات کے باوجود دنیا بھر میں نوجوان خواتین کی ایک نئی نسل سیاست میں قدم رکھ رہی ہے۔ یہ خواتین نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لڑ رہی ہیں بلکہ سماجی انصاف، صنفی مساوات اور معاشی اصلاحات کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔یہ نسل روایتی سیاست سے مختلف انداز اختیار کر رہی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتی ہیں، عوامی تحریکوں سے جڑی ہوتی ہیں اور شفافیت پر زور دیتی ہیں۔ان کے نزدیک سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ بننے والی ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف سائنسی تحقیق سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط سیاسی قیادت بھی ضروری ہے۔خواتین سیاستدان اس میدان میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں کیونکہ وہ اکثر ماحول، صحت اور سماجی انصاف جیسے مسائل کو ایک ساتھ دیکھتی ہیں۔اگر سیاسی نظام خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور مساوی بنایا جائے تو مستقبل میں ہمیں مزید باصلاحیت خواتین رہنما دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا چیلنج ہے جس کا سامنا پوری انسانیت کو ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتوں یا سائنسدانوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے مشترکہ عزم سے ممکن ہے۔خواتین اس جدوجہد میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ چاہے وہ مقامی سطح پر ماحولیاتی سرگرم کارکن ہوں یا قومی اور بین الاقوامی سطح کی سیاستدان، ان کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو رہی ہے۔ہننا اسپینسر اور لینا شلنگ جیسی خواتین اس نئی سیاست کی علامت ہیں جو نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی بھی خواہاں ہیں۔اگر دنیا واقعی موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے تو اسے خواتین کی قیادت کو تسلیم کرنا ہوگا اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل طور پر شامل کرنا ہوگا۔یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ماحول کو بچا سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔(یواین آئی)

خاص خبریں
خواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی

خواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی

نئی دہلی، 13 اپریل (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ حکومت خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے خصوصی منصوبے بنا رہی ہے اور انہیں کامیابی کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے مسٹر مودی نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں ہونے والی خواتین کے ریزرییشن بل پر بحث اور منظوری سے قبل اس کے پس منظر میں یہاں منعقدہ 'ناری شکتی وندن کانفرنس' سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہماری حکومت نے خواتین کوبااختیار بنانے لیئے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے اسکیمیں بنائیں اور انہیں کامیابی سے نافذ کیا ہے۔

...مزید دیکھیں
حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر سونیا گاندھی کا حکومت پر نشانہ

حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر سونیا گاندھی کا حکومت پر نشانہ

نئی دہلی، 13 اپریل (یو این آئی) کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے ایک نجی اخبار میں شائع اپنے مضمون کے ذریعے مرکزی حکومت پر خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی کے معاملے پر شدید تنقید کی ہے محترمہ گاندھی نے پیر کو یہاں واضح طور پر کہا کہ موجودہ وقت میں اصل تشویش خواتین کا ریزرویشن نہیں، بلکہ مجوزہ حد بندی ہے، جسے انہوں نے "انتہائی خطرناک" اور "آئین پر حملہ" قرار دیا ہے۔

...مزید دیکھیں
سپریم کورٹ نے لالو پرساد کو 'زمین کے بدلے نوکری کیس' میں نچلی عدالت میں پیشی سے استثنیٰ دے دیا

سپریم کورٹ نے لالو پرساد کو 'زمین کے بدلے نوکری کیس' میں نچلی عدالت میں پیشی سے استثنیٰ دے دیا

نئی دہلی، 13 اپریل (یو این آئی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کو 'زمین کے بدلے نوکری' (لینڈ فار جاب) کیس کی کارروائی کے دوران نچلی عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے سے استثنیٰ دے دیا ہے عدالت عظمی مسٹر پرساد کی اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کے کیس کو چیلنج کیا گیا ہے۔

...مزید دیکھیں
ٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی؟ ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا

ٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی؟ ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا

تہران، 13 اپریل (یو این آئی) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکی حکومت خود کو آقا سمجھنا چھوڑ دے تو معاہدے کی راہیں کھل سکتی ہیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ’’اگر امریکی حکومت اپنی آمریت پسندی چھوڑ دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو یقیناً معاہدے تک پہنچنے کے راستے نکل آئیں گے۔

...مزید دیکھیں
معاہدے کے قریب پہنچ کر ایران کو سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا: عباس عراقچی

معاہدے کے قریب پہنچ کر ایران کو سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا: عباس عراقچی

نئی دہلی، 13 اپریل (یو این آئی) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران ایم او یو پر دستخط کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم اسے ’’سخت ترین مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا عباس عراقچی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔

...مزید دیکھیں
ایران میں امریکی اقدامات پر تنقید کرنے پر پوپ کو ٹرمپ نے شخت تنقید کانشانہ بنایا

ایران میں امریکی اقدامات پر تنقید کرنے پر پوپ کو ٹرمپ نے شخت تنقید کانشانہ بنایا

نیویارک ، 13 اپریل (سپوتنک/یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو چودہویں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے پوپ کی ضرورت نہیں ہے جو ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرے پوپ نے ایران میں امریکی اقدامات پر تنقید کی ہے خاص طور پر ، انہوں نے ایرانی عوام کے خلاف امریکی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا اپریل کے اوائل میں ، جنگ کے امریکی وزیر پیٹ ہیگسیتھ کی طرف سے فوجی اہلکاروں کے لیے دعا کی اپیل کے بعد ، پوپ نے ایک خطبہ میں کہا کہ غلبہ حاصل کرنے کی خواہش عیسی مسیح کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی ۔

...مزید دیکھیں
کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش

کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش

خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔

...مزید دیکھیں

ہنگری میں پیٹر میگیار نے وکٹر اوربان سے 16 سال پرانا اقتدار چھینا

13 Apr 2026 | 9:49 PM

بڈاپیسٹ، 13 اپریل (یو این آئی) ہنگری میں حال ہی میں ہوئے انتخابات میں سیاسی ہلچل کے درمیان وکٹر اوربان بالآخر اقتدار پر اپنی 16 سالہ گرفت کھو بیٹھے اور اپوزیشن لیڈر پیٹر میگیار سے ہار گئے۔ مسٹر میگیار اب ملک کے نئے وزیر اعظم ہوں گے۔ ان کی جیت سے بڈاپیسٹ کے جغرافیائی سیاسی رخ میں ممکنہ تبدیلی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔.

سن رائزرس حیدرآباد نے راجستھان رائلز کی جیت کا سلسلہ روکا

13 Apr 2026 | 11:48 PM

حیدرآباد، 13 اپریل (یو این آئی) کپتان ایشان کشن (91) کی طوفانی اننگ کی بعد پرفل ہنگے اور ثاقب حسین (چارچار وکٹ) کی تاریخی کارکردگی کی بدولت سن رائزرس حیدرآباد نے پیر کو راجستھان رائلز کے خلاف 57 رنز سے جیت حاصل کی۔ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 سیزن میں آر آر کی پہلی شکست ہے۔.

پریاگ راج میں جلیانوالہ باغ سانحہ کی 107 ویں برسی پر شہیدوں کو خراج عقیدت

13 Apr 2026 | 3:27 PM

پریاگ راج، 13 اپریل (یو این آئی) جلیانوالہ باغ سانحہ کی 107 ویں برسی کے موقع پر ہفتہ کو سنگم نگری پریاگ راج میں شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر شہید چندر شیکھر آزاد پارک میں منعقدہ پروگرام میں تحریک آزادی کے بہادر جانبازوں کو نمن کیا گیا۔.