NationalPosted at: Jun 15 2026 2:36PM جےرام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان 19 جون کو جنیوا میں مجوزہ معاہدے کا کیا خیرمقدم

نئی دہلی، 15 جون (یو این آئی) کانگریس کے جنرل سکریٹری جےرام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان 19 جون کو جنیوا میں مجوزہ معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں دشمنی ختم کرنے کی سمت میں یہ ایک مثبت اور ضروری قدم ہےمسٹر رمیش نے امید ظاہر کی کہ امریکہ، ایران اور اسرائیل اس معاہدے پر عمل کریں گے اور یہ پہل خطے میں مستقل امن اور معمول کے تعلقات کی سمت میں راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بغیر کسی پابندی کے دوبارہ کھلنے سے ہندوستان کو یقیناً راحت ملے گی، خاص طور پر توانائی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں کے تناظر میں۔ تاہم، انہوں نے انتباہ کیا کہ اس سے ہندوستانی معیشت کے موجودہ ڈھانچہ جاتی مسائل کا حل نہیں ہوگا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران سے پہلے ہی ہندوستانی معیشت کئی چیلنجوں کا سامنا کر رہی تھی۔ ان کے مطابق روپیہ طویل عرصے سے دباؤ میں ہے، ڈالر کی مانگ اور سپلائی کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے اور نجی سرمایہ کاری کی شرح کئی سال سے سست بنی ہوئی ہے، جبکہ یہی سرمایہ کاری اقتصادی ترقی کا اہم ستون ہے۔ کانگریس رہنما نے مانگ میں کمزوری کی تین بڑی وجوہات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں حقیقی اجرتوں میں جمود رہا ہے، چین سے درآمدات کی ڈمپنگ کو روکنے میں مرکزی حکومت ناکام رہی ہے جس سے ریکارڈ تجارتی خسارہ پیدا ہوا ہے اور روزگار پیدا کرنے والے ایم ایس ایم ای سیکٹر پر منفی اثر پڑا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے الزام لگایا کہ ٹیکس حکام اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو دیے گئے ضرورت سے زیادہ اختیارات کی وجہ سے سرمایہ کاری کا مجموعی ماحول متاثر ہوا ہے۔
خارجہ پالیسی کے معاملے پر مسٹر رمیش نے کہا کہ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد جس پاکستان کو ہندوستان نے بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی، وہ اب علاقائی اور عالمی سطح پر نیا اثر و رسوخ حاصل کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک ڈھانچے میں چین کا بڑھتا ہوا کردار ہندوستان کے لیے ایک سنگین جیو پولیٹیکل چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی مغربی ایشیا پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے قومی مفادات متوازن سفارتی نقطہ نظر کا تقاضا کرتے ہیں۔ مسٹر رمیش کے مطابق، انسانی سروکار اور ہندوستان کی روایتی خارجہ پالیسی کے وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو زیادہ متوازن رخ اختیار کرنا چاہیے۔
یو این آئی ایف اے