NationalPosted at: Aug 17 2026 4:20PM ملک میں 'پیپر لیک نکسل' کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس

نئی دہلی، 17 اگست (یو این آئی) کانگریس نے یو جی سی - نیٹ کے تین امتحانات کو تقریباً دو مہینے بعد منسوخ کرنے پر مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک میں 'پیپر لیک نکسل' ہی سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے اور اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے
یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب اور کانگریس کی سینئر رہنما ڈاکٹر چینیکا انیال نے پیر کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یو جی سی - نیٹ امتحان منعقد ہونے کے دو مہینے بعد این ٹی اے کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اب تین پیپر دوبارہ کرانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب این ٹی اے کو اپنی غلطی معلوم کرنے میں دو مہینے لگ گئے تو نہ جانے اور کتنی غلطیاں ہوں گی، جن سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یوتھ کانگریس کے صدر نے کہا کہ طلبہ سے امتحانات کے نام پر بھاری فیس لینے کا کوئی جواز نہیں ہے، اس لیے طلبہ سے تمام امتحانات کی درخواست کے لیے صرف ایک روپیہ فیس لی جانی چاہیے۔
مسٹر چب نے کہا کہ شاید بی جے پی حکومت ان غلطیوں کو قسطوں میں سامنے لانا چاہتی ہے، تاکہ جین- زی کا غصہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ پر نہ پھوٹے۔ انہوں نے کہا کہ جب جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کر رہے تھے تو کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا تھا کہ دھرمیندر پردھان کا ہٹنا پہلا قدم ہے، آخری نہیں اور آج وہی ہو رہا ہے۔ جب تک پورے سسٹم میں جوابدہی طے نہیں ہوگی، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان جب مسٹر مودی اور مسٹر شاہ سے جوابدہی مانگ رہے تھے تب وزیر اعظم اور وزیرِ داخلہ 20 دن تک ایوان میں نہیں آئے۔ ایسے میں ان سے جوابدہی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو درست کرنا ان کی صلاحیت سے باہر ہے، لیکن جب ملک کی زمین اپنے دوست اڈانی کو دینے کی بات آتی ہے تو وزیر اعظم سے کوئی غلطی نہیں ہوتی، مگر جیسے ہی طلبہ کے مسائل آتے ہیں، حکومت کی کارکردگی صفر ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر انیال نے کہا کہ وزارتِ تعلیم کو سمجھنا ہوگا کہ معاملہ صرف سوالنامے اور جواب کی کاپی سے جڑا نہیں ہے، بلکہ طلبہ کے جذباتی اور مالی نقصان سے بھی جڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تین امتحانات منسوخ کیے گئے تو کیا ایسی سنگین غلطی کرنے والے حکام اور ماہرین پر کارروائی ہوگی، کیا ان کے نام عام کیے جائیں گے، کیا طلبہ کو حکومت کی طرف سے ہرجانہ دیا جائے گا اور جن طلبہ کے داخلے کی ڈیڈ لائن نکل گئی ہے، کیا انہیں معاوضہ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس نظام سے طلبہ کا مستقبل برباد ہو رہا ہے، اس پر جواب دینا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ٹی اے نے اپنے پریس ریلیز میں قبول کیا ہے کہ یو جی سی - نیٹ کے سوالنامے میں سائنس دانوں کے ناموں کی اسپیلنگ، کتابوں کے عنوانات اور تلفظ تک میں غلطیاں تھیں۔ انہوں نے پھر سوال کیا کہ سوالنامہ تیار کرنے والے کون تھے، طلبہ کے وقت کی قیمت کون چکائے گا، سوالنامے کی جانچ کس نے کی، تلفظ کی تصدیق کس نے کی اور آخری منظوری کس نے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے محض ایک بھول کہنا مناسب نہیں ہے اور سوال اٹھتا ہے کہ کیا پورا امتحانی نظام ہی ناکام ہو چکا ہے؟ حکومت کو اس پر جواب دینا چاہیے۔
ڈاکٹر انیال نے اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں طلبہ کے احتجاج کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جین- الفا کے بچے سڑک پر اتر کر اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کا الزام ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ کی بھاری کمی ہے، بورڈ کے امتحانات کی تیاری نہیں کرائی جا رہی، بچوں کو خراب کھانا دیا جاتا ہے اور بیمار پڑنے پر علاج تک نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت دعوے تو بہت کرتی ہے، لیکن اسکولوں میں بنیادی سہولیات تک کا فقدان ہے اور بچوں کو تعلیم کے ساتھ بنیادی سہولیات کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے