NationalPosted at: Apr 16 2026 8:06PM خواتین ریزرویشن کے نام پر وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی سازش: کانگریس کا حکومت پر وار

نئی دہلی، 16 اپریل ( یو این آئی)کانگریس نے مرکز میں برسراقتدار جماعت پر آئین کی روح کو مجروح کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خواتین ریزرویشن کی آڑ میں 'حد بندی' کے ذریعے ملک کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے ایوان میں 'آئینی (131ویں) ترمیمی بل 2026' اور متعلقہ دیگر بلوں پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس لیڈر گورو گوگوئی نے حکومت کی نیت پر سوالات کھڑے کر دیے۔
گوگوئی نے کہا کہ یہ بل خواتین کو حقوق دینے کے لیے نہیں بلکہ "پچھلے دروازے سے حد بندی" نافذ کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ حکومت خواتین ریزرویشن کو ایک حفاظتی ڈھال کے طور پر استعمال کر کے اپنے سیاسی مقاصد پورے کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپنی مرضی سے ایوان کی نشستوں کی تعداد طے کر کے آئین کو کمزور اور خود کو طاقتور بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حد بندی کا مقصد انتظامی سہولت ہونا چاہیے تھا، لیکن حکومت اسے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
گورو گوگوئی نے حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی دباؤ میں آکر 'ذاتی مردم شماری' پر تو راضی ہو گئی ہے، لیکن وہ اب بھی اس کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے مختلف ریاستوں میں حد بندی کے لیے الگ الگ برسوں (2001 اور 2011) کی مردم شماری کے استعمال کو سیاسی مفاد پرستی قرار دیا۔
گوگوئی نے آسام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں حد بندی اس قدر غیر منطقی طریقے سے کی گئی ہے کہ ایک ہی پنچایت کے ووٹرز تین الگ الگ اسمبلی حلقوں میں منقسم ہو گئے ہیں۔کانگریس کا موقف ہے کہ خواتین ریزرویشن کو حد بندی کے ساتھ مشروط نہیں کرنا چاہیے۔حکومت اس عمل کو آسان بنانے کے بجائے دانستہ طور پر پیچیدہ بنا رہی ہے۔یہ بل نہ صرف خواتین کے حقوق بلکہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کے بھی خلاف ہے۔
گورو گوگوئی نے زور دے کر کہا کہ خواتین کے نام پر سیاسی روٹیاں سینکنا بند ہونا چاہیے اور اس بل کو پیچیدہ بنانے کے بجائے اسے شفاف طریقے سے نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ خواتین کو ان کا اصل حق مل سکے۔
یو این آئی۔م ا ع