OthersPosted at: Jul 19 2026 4:39PM تریپورہ ہائی کورٹ نے نو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزا میں ترمیم کرتے ہوئے وطن واپسی کا حکم دیا

اگرتلہ، 19 جولائی (یواین آئی) تریپورہ ہائی کورٹ نے بھارت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے جرم میں سزا یافتہ نو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزا میں ترمیم کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق انہیں جلد از جلد بنگلہ دیش واپس بھیجنے (ڈی پورٹ) کی کارروائی مکمل کی جائےجسٹس ٹی امرناتھ گوڑ نے ضلع اوناکوٹی اور دھلائی کی سیشن عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف دائر تین فوجداری اپیلوں کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا۔
اپیل کنندگان نے فارنرز ایکٹ 1946، پاسپورٹ (بھارت میں داخلہ) ایکٹ 1920 اور اس کے ترمیمی قانون 2000 کے تحت سنائی گئی سزا کو چیلنج کیا تھا۔ ان میں بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے آٹھ مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ انہیں بغیر کسی قانونی سفری دستاویز کے بھارت میں داخل ہونے کے جرم میں مختلف مدت کی قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔
سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی ہدایت کے مطابق سرکاری وکیل راجو دتہ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ سزا یافتہ افراد کو پوری سزا بھگتنے کے بجائے قانونی کارروائی مکمل کرکے بنگلہ دیش واپس بھیج دیا جائے۔
عدالت نے اس مؤقف کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ تمام اپیل کنندگان پہلی مرتبہ اس نوعیت کے جرم میں ملوث پائے گئے ہیں اور ان کی طویل قید سے بنگلہ دیش میں موجود ان کے اہل خانہ شدید متاثر ہوں گے۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایک خاتون اپیل کنندہ کی مسلسل حراست سے اس کے خاندان کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس بنا پر ہائی کورٹ نے تینوں اپیلوں میں سزا کو اس مدت تک محدود کر دیا جو اپیل کنندگان اپنی گرفتاری کے بعد پہلے ہی جیل میں گزار چکے ہیں، اور ریاستی حکام کو ہدایت دی کہ انہیں قانونی طریقۂ کار کے مطابق بنگلہ دیش واپس بھیجنے کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اپیل کنندگان صرف وطن واپسی (ڈی پورٹیشن) کے انتظار میں زیر حراست رہیں گے اور جیل حکام اس دوران محض ان کی نگرانی اور حفاظت کی ذمہ داری نبھائیں گے۔
یواین آئی۔ ظ ا