NationalPosted at: Apr 16 2026 2:10PM دہلی میں مردم شماری کا آغاز، مکانات کی گنتی شروع

نئی دہلی، 16 اپریل (یو این آئی) قومی دارالحکومت میں مردم شماری 2027 کے لیے گھروں کی گنتی جمعرات سے شروع ہو گئی یہ مہم دو ماہ تک جاری رہے گی حکام نے بتایا کہ مردم شماری کے پہلے مرحلے کو 'مکانات کی فہرست سازی اور رہائشی مردم شماری' (ہاؤس لسٹنگ اینڈ ہاؤسنگ سینسس) کے طور پر جانا جاتا ہے جسے 30-30 دنوں کے دو الگ الگ مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا سرکاری معلومات کے مطابق، نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) اور دہلی چھاؤنی بورڈ (ڈی سی بی) کے علاقوں میں یہ مہم 16 اپریل سے 15 مئی تک چلے گی۔ وہیں، دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے زیر انتظام آنے والے علاقوں میں یہ عمل اس کے فوراً بعد 16 مئی سے 15 جون کے درمیان منعقد کیا جائے گا۔ اس مرحلے کا بنیادی مقصد شہر کی ہر عمارت اور خاندان کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا ہے، نہ کہ افراد کی گنتی کرنا۔ مردم شماری کا کام بعد میں دوسرے مرحلے کے دوران کیا جائے گا۔
کل 700 سے زائد تربیت یافتہ اہلکار گھر گھر جا کر رہائشیوں سے 33 سوالات پوچھیں گے۔ اس میں بنیادی سہولیات کی دستیابی، گھر کی ملکیت کی حیثیت اور خاندان کے سربراہ کا نام و صنف جیسی تفصیلات شامل ہوں گی۔ حکام نے بتایا کہ یہ پورا عمل ڈیجیٹل ذریعے سے چلایا جائے گا۔ گنتی کرنے والے معلومات کے جمع کرنے میں زیادہ کارکردگی اور درستگی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے موبائل پر ایک خصوصی ایپ کا استعمال کریں گے۔
رہائشیوں کے پاس سرکاری آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے خود شماری (سیلف اینیومریشن) مکمل کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔ این ڈی ایم سی اور ڈی سی بی علاقوں کے لیے خود شماری کا عمل بدھ کو ختم ہو گیا، جس میں 5000 سے زائد افراد نے اپنی معلومات درج کیں۔ ایم سی ڈی کے تحت خود شماری یکم مئی سے شروع ہوگی، جو اس علاقے کے لیے اصل گنتی کے کام سے پندرہ دن پہلے ہے۔
دہلی کے تمام اضلاع کا احاطہ کرتے ہوئے شہر کو کئی بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں شہری، نیم شہری اور دیہی علاقے شامل ہیں۔ اس سروے میں گنجان آباد کالونیاں، غیر مجاز بستیاں اور کچی بستیاں بھی شامل ہوں گی۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جمع کی گئی تمام معلومات خفیہ رکھی جائیں گی اور ان کا استعمال صرف شماریاتی مقاصد کے لیے کیا جائے گا۔ مردم شماری کا دوسرا مرحلہ بعد میں شروع ہوگا، جس میں افراد کی گنتی کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ایف اے