NationalPosted at: Jan 20 2026 6:23PM معروف ارضیاتی سائنسدان ڈاکٹر محمد نصیب قریشی کی زندگی پر دستاویزی فلم ریلیز

نئی دہلی ،20 جنوری (یواین آئی ) ہندوستان کے ممتاز ارضیاتی سائنسدان ڈاکٹر محمد نصیب قریشی کی علمی خدمات اور مثالی زندگی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تیار کی گئی دستاویزی فلم گزشتہ روز انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (آئی آئی سی سی ) میں لانچ کر دی گئی تقریب کی صدارت سابق مرکزی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کی، جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر طلعت احمد اور سائنس کے شعبے سے وابستہ اہم شخصیات نے اس میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلمان خورشید نے ڈاکٹر قریشی کی شخصیت کو "نایاب" قرار دیا۔ انہوں نے دورِ حاضر میں خدا کے وجود پر جاری بحثوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر قریشی نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ سائنس اور ایمان ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ تکمیلی ہیں۔
سلمان خورشید کا کہنا تھا "اکثر دیکھا گیا ہے کہ سائنسی تحقیق میں غرق ہونے والے لوگ مذہب سے دور ہو جاتے ہیں، لیکن ڈاکٹر قریشی نے اپنی تحریروں اور عمل سے دکھایا کہ ایک اعلیٰ درجے کا سائنسدان پختہ مومن بھی ہو سکتا ہے۔"
1933 میں پرانی دہلی کے علاقے سوئیوالان میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر قریشی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1958 میں امریکہ کے 'کولوراڈو اسکول آف مائنز' سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس زمانے میں جہاں زیادہ تر ہندوستانی برطانیہ کا رخ کرتے تھے، ڈاکٹر قریشی نے سائنسی تجسس کی خاطر امریکہ کا انتخاب کیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے سائنسی مزاج پیدا کرنے کی اپیل سے متاثر ہو کر وہ وطن واپس آئے تاکہ اپنی مہارت کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کر سکیں۔
ڈاکٹر ایم این قریشی کی سائنسی خدمات کی فہرست طویل اور گراں قدر ہے۔ انہوں نے ہندوستان کا پہلا 'گریویٹی میپ'کشش ثقل کا نقشہ تیار کیا، جو ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور زیرِ زمین معدنی و آبی وسائل کی نشاندہی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
1960 کی دہائی میں انہوں نے مغربی گھاٹوں اور چتردرگ کے علاقوں میں ہندوستان کے پہلے مقامی فضائی سروے کی قیادت کی۔
ان کی تیار کردہ رپورٹ کی بنیاد پر حیدرآباد میں 'نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر' قائم ہوا، جو آج خلائی اور فضائی تحقیق کا ایک بڑا مرکز ہے۔
1980 کی دہائی میں ان کے وژن کے تحت 'محکمہ ارضیاتی سائنسز' تشکیل پایا، جو اب ایک مکمل وزارت بن چکی ہے۔
انہوں نے 'نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ' (این سی ایم آرڈبلیوایف ) اور 'این اے ایم (این اے ایم ) سائنس سینٹر' جیسے بین الاقوامی اداروں کے قیام میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر قریشی محض ایک سرکاری مشیر یا سائنسدان نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے مصلح تھے جنہوں نے قدرتی وسائل کے انتظام کے لیے 'نیچرل ریسورس ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم' (این آرڈی ایم ایس ) جیسے جدید نظام متعارف کروائے۔ یہ دستاویزی فلم نہ صرف ان کی سائنسی فتوحات کا احاطہ کرتی ہے بلکہ نئی نسل کو یہ پیغام دیتی ہے کہ زمین کی گہرائیوں کو سمجھنے والا ذہن آسمانی سچائیوں پر بھی ایقان رکھ سکتا ہے۔
یواین آئی ۔م اع۔ایف اے