NationalPosted at: Feb 13 2026 8:42PM ہندوستان بایو ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہنے والا ملک نہیں : ڈاکٹر جتیندر سنگھ

نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی) سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارتھ سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بایو ٹیکنالوجی کے شعبے کو ایک نئی تحریک دینے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کے ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن پہل کے تحت 2000 کروڑ روپے کے پہلے قومی بی آئی آر اے سی۔آر ڈی آئی فنڈ کا اعلان کیا ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب بایوٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہنے والا ملک نہیں رہا بلکہ عالمی قیادت کی سمت میں آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ پہل سائنس پر مبنی ترقی کے حوالے سے ہندوستان کے نظریے میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبارٹری سے صنعت تک کے خلا کو پُر کرنے کے لیے یہ فنڈ ایک اہم کڑی ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 میں جہاں ملک میں تقریباً 50 بایوٹیک اسٹارٹ اپ تھے وہیں آج ان کی تعداد 11,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے اسے ہندوستان کی پالیسی کی رفتار اور اختراع کے حامی ماحول کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں تقریباً آٹھ ارب ڈالر کی بایو معیشت اب تیزی سے پھیلتے ہوئے عالمی سطح پر ہندوستان کو سرِفہرست ممالک کی صف میں لا کھڑا کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہندوستان کی ترقی کو نئی سمت دی اسی طرح بایوٹیکنالوجی ملک کے اگلے صنعتی مرحلے کو رفتار فراہم کرے گی۔ آنے والا صنعتی انقلاب بایوٹیکنالوجی اختراع، جدید مینوفیکچرنگ اور نئے دور کی صنعت کاری سے چلایا جائے گا۔
مرکزی وزیر نے بتایا کہ ہندوستان خلائی بایوٹیکنالوجی اور خلائی طب جیسے مستقبل کے شعبوں میں بھی داخل ہو چکا ہے۔ سودیشی کٹس کے ذریعے خلا میں بایوٹیکنالوجی کے تجربات کیے جا رہے ہیں، جن میں نباتات اور حیاتیاتی سائنس کی تحقیق شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں ہندوستان کی سائنسی ساکھ اور عالمی مقام کو مزید مضبوط کریں گی۔
یو این آئی۔ اے ایم