NationalPosted at: Jan 13 2026 8:28PM ڈاکٹر منظورعالم کا انتقال، ایک بڑے مفکر کی موت، ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک

نئی دہلی، 13 جنوری (یو این آئی) ہندوستان کی معروف شخصیت اور مشہور تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف ابجکیٹو اسٹڈیز کے بانی سرپرست اور سابق چیرمین ڈاکٹر منظورعالم کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں شاہین قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا اس موقع پر جماعت اسلامی کے سید سعادت اللہ حسینی، جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر ڈاکٹر افشار عالم، سابق سفارت کار اور کانگریسی لیڈر میم افضل، ڈاکٹرقاسم رسول الیاس، سماج وادی پارٹی کے لیڈر بدرالدین طیب، ملیشیا سفارت خانہ کے اعلی عہدیدار، سرکردہ شخصیات، صحافی اور دیگر شعبہائے حیات سے وابستہ افراد اس موقع پر موجود تھے۔
ڈاکٹر منظورعالم کاآج صبح دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر تقریباً 80 برس تھی۔ ان کے بڑے بیٹے محمد عالم کے مطابق پسماندگان میں پانچ بیٹے، دو بیٹیاں اور اہلیہ ہیں۔
ڈاکٹر منظور طویل عرصہ سے بیمار تھے اور ذیابطیس کے علاوہ عمر سے متعلق کئی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ان کے انتقال سے ملت کے لئے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے ملت کے مسائل حل کرنے کے لئے قاضی مجاہد الاسلام کے ساتھ ملی کونسل بھی قائم کی تھی جو اس وقت نمایاں مسلم تنظیموں میں سے ایک تھی۔ اس تنظیم کے توسط سے متعدد پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1986میں سعودی عرب سے واپسی کے بعد مشہور تھنک ٹینک تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف ابجکیٹیو اسٹیڈیز (آئی او ایس) قائم کی۔ جس نے قلیل عرصے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح شہرت حاصل کی۔اس تنظیم نے تحقیقات کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اوراس کی متعدد مطبوعات سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر منظور عالم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہیں سے انہوں نے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس کے بعد سعودی عرب میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے علاوہ متعدد شعبوں میں خدمات انجم دیں۔ ہندوستان میں انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور تعلیمی مسائل پر متعدد ڈاکومنٹ شائع کی۔ ان کی پہنچ سیاسی گلیاروں میں تھی خاص طور پر یو پی اے حکومت کے دوران ان کا دبدبہ تھا۔
ان کے انتقال پر ملک کی متعدد تنظیمیں اور شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ کی پیدائش 9 اکتوبر 1945 کو بہار کے ضلع مدھوبنی کے ایک پسماندہ گاؤں رانی پور میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر منظور عالم صاحبؒ کی قیادت میں آئی او ایس نے سماجی و اقتصادی مسائل، انسانی حقوق، مذہبی و ثقافتی تنوع، اور اقلیتوں کے حالات پر سینکڑوں تحقیقی منصوبے مکمل کیے۔ آئی او ایس نے سینکڑوں معیاری کتابیں، رپورٹس اور علمی جرائد شائع گئے۔ اسی طرح سنہ 1992 میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے ساتھ مل کر آل انڈیا ملی کونسل کی بنیاد رکھنے میں ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحبؒ نے نہایت کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ وہ قاضی مجاہد الاسلام کے قریبی، معتمد اور ہم فکر رفقاء میں شامل تھے اور ڈاکٹر فقہ اکیڈمی کے بانیوں میں تھے۔
ان کے انتقال پر سماج کی متعدد تنظیموں اور شخصیات نے عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے تعزیت کا اظیار کیا ہے۔
جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے بانی اور چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحے کو مسلم امت اور اسلامی علمی دنیا کے لیے ایک بڑا فکری نقصان قرار دیا ہے۔
اپنے تعزیتی پیغام میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک سنجیدہ عالم، دوراندیش ادارہ ساز اور ملت کے بے لوث خادم تھے۔ ان کی زندگی فکری دیانت داری، بلند اخلاقی ، دانشمندی اور ایمان و یقین سے عبارت تھی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی پوری زندگی فکر کی آبیاری، اداروں اور افراد کی تشکیل میں صرف کی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں فوری ردِعمل کے بجائے ہمیشہ تحقیق، عقل و استدلال کو بنیاد بنایا۔ڈاکٹر منظور عالم کا ماننا تھا کہ قومیں محض جذبات یا احتجاج سے نہیں بلکہ مضبوط علمی تحقیق ، مستند اعداد و شمار اور معاشرے اور ریاست کے ساتھ ذمہ دارانہ تعامل کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔انہوں نے ہندوستان میں مسلم فکر کے لیے پائیدار علمی فضا قائم کرنے میں ڈاکٹر منظور عالم کے غیر معمولی کردار کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا۔
انڈین مسلمس فار سول رائٹس کے چیئرمین اور سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب نے ممتاز مفکر، نظریہ ساز، محقق اور عظیم علمی شخصیت ڈاکٹر محمد منظور عالم کے سانحۂ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک و ملت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔
اپنے تعزیتی بیان میں محمد ادیب نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم کی شخصیت پورے ملک کے لیے ایک عظیم فکری سرمایہ تھی۔ وہ محض ایک عالم یا محقق نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تھنک ٹینک، صاحبِ بصیرت دانشور اور عالمی سطح پر معروف مفکر تھے۔ ان کی پوری زندگی قوم و ملت کے فکری، علمی اور ملی مسائل کے حل کے لیے وقف رہی۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کے دکھ درد کے مداوے اور مستقبل کی راہوں کی نشاندہی میں مصروف رہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی اور جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے معروف اسکالر اور آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالمؒ کے انتقال پر گہرے رنج والم کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر منظور عالمؒ نے اپنی حیاتِ مستعار کو علم، تحقیق اور ادارہ سازی کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ انہوں نے اسلامی معاشیات کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز آئی او ایس) کے بانی تھے، جس کے ذریعے انہوں نے فکری رہنمائی فراہم کی اور سیکڑوں معیاری تحقیقی کتب و مجلات شائع کیے۔ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے متعدد نوجوان قلم کاروں اور محققین کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ آل انڈیا ملی کونسل کے پلیٹ فارم سے بھی ان کی سرگرمیاں قابلِ قدر ہیں۔
مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے ایک اہم رکن قدیم اساسی رکن، انسی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز اور کئی ملی تنظیموں و اداروں کے مؤسس،ایک متحرک وفعال مفکر ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال نے بھی ایک گہرا خلا پیدا کر دیاہے۔ موصوف نےآئی او ایس کی شکل میں نہ صرف ایک بہترین تحقیقی ادارہ و تھنک ٹینک قائم کرکے وقت کی ایک اہم ترین ضرورت کو پورا کیا تھا بلکہ وہ اسلامی فقہ اکیڈمی اور آل انڈیا ملی کونسل کے مؤسسین میں سے بھی تھے۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم کئی دنوں سے سخت علیل تھے لیکن وہ آخری سانس تک ملک و ملت کے اہم امور و مسائل کی طرف متوجہ رہے۔
مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے بورڈ کی ان دونوں اہم شخصیات کے حق میں دعائے مغفرت کر تے ہو ئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان حضرات کی کوششوں اور کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں انھیں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے وابستگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ملت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔
ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے آج یہاں جاری ایک تعزیتی بیان میں کہا کہ وہ صرف انسی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ہی مئوسس نہیں تھے بلکہ کئی اہم ادروں اور تنظیموں کی بنیاد انہوں نے ڈالی تھی۔ اسلامی فقہ اکیڈمی ہو یا آل انڈیا ملی کونسل، تعاون ٹرست ہو یا جینون پبلیکیشن و قاضی پبلیشرز ان کے معماروں و مئوسیسن میں بھی ان کا نام سر فہرست ہے۔
وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے معروف ملی رہنما و دانشور ڈاکٹر منظور عالم کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کے انتقال کے باعث ایک خلاء پیدا ہو گیا ہے ۔ اور جب بھی ملت اسلامیہ ہند کی نشأة ثانىہ کی بات ہوگی ڈاکٹر منظور عالم یاد کیے جائیں گے ۔
وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS) ، آل انڈیا ملی کونسل ، اسلامی فقہ اکیڈمی ، یونیورسل پیس فاؤنڈیشن، کے ذریعے ان کی خدمات بہت ہی اہم ہیں ۔
ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی پوری زندگی قوم و ملت کی فلاح و بہبود اور سماجی اصلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ تعلیم، معاشیات اور علم و تحقیق کے میدان میں ان کی گراں قدر خدمات کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے، جب کہ ان کی فکری و علمی وراثت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔