Wednesday, Aug 19 2026 | Time 14:53 Hrs(IST)
National

منگل پانڈے: آزادی کی وہ پہلی چنگاری جس نے برطانوی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا

منگل پانڈے: آزادی کی وہ پہلی چنگاری جس نے برطانوی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا

19جولائی یوم پیدائش کے موقع پر
نئی دہلی، 19 جولائی (یو این آئی) منگل پانڈے ہندوستان کی تحریک آزادی کا وہ درخشاں نام ہے، جن کی پہلی چنگاری نے برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد کے خلاف ایک ہمہ گیر جنگِ آزادی کا روپ اختیار کیا ان کی شجاعت، قربانی اور بے باکی نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہندوستانیوں کو ایک نئی زندگی اور حوصلہ بخشا۔منگل پانڈے نے ہندوستان کی آزادی کے لیے پہلی گولی چلائی منگل پانڈے 19 جولائی، 1827ء میں مشرقی اترپردیش کے ضلع بلیا کے گاؤں’نگوا‘ میں پیدا ہوئے۔ منگل پانڈے کا تعلق ایک اعلیٰ ذات کے برہمن زمیندار خاندان سے تھا جو مضبوط ہندو عقائد رکھتا تھا۔ سال 1849ء میں 22 سال کی عمر میں منگل پانڈے وسطی ہند کی فوجی کمپنی ’ بنگال انفنٹری‘ کی چونتیسویں (34) رجیمنٹ میں بحثیت سپاہی بھرتی ہوئے۔ 1853ء میں فوجی ملازمت کے دوران ان میں انگریزوں سے نفرت اور جذبہ آزادی کی تمنا جاگی اور انھوں نے آزادی کے لیے پہلی گولی چلائی۔ اس کی وجہ یہ تھی کی فوج میں استعمال ہونے والی پی-53 رائفل میں جو کارتوس استعمال کیے جاتے تھے۔ اسے استعمال سے پہلے ان کارتوس کے فیتوں کو دانتوں سے کھینچا جاتا تھا۔ اس میں گائے اور سور کی چربی لگی ہوتی تھی۔ جو مذہبی طور پر مسلمانوں اور ہندوؤں کے لیے کسی طور پر قابل قبول نہیں تھا۔ یہی بات منگل پانڈے کے غصے کا سبب بنی۔ انھوں نے 29 مارچ، 1857ء کوایک برطانوی افسران پر حملہ کیا ۔ یہ ان کا پہلا بڑا واقعہ تھا جسے بعد میں ’بھارت ماتا کی جئے‘ کے نام سے جانا گیا۔ پانڈے پر جلد ہی مقدمہ چلایا گیا اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔ ان کی پھانسی کی تاریخ 18 اپریل مقرر کی گئی تھی، لیکن برطانوی حکام نے، اس وقت تک انتظار کرنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر بغاوت شروع ہونے کے خوف سے، تاریخ کو 8 اپریل کر کے 29 سال کی عمر میں انہیں کولکتہ کے قریب بارک پور چھاونی میں پھانسی پر لٹکا دیا۔ یہ وہی فوجی چھاونی ہے جہاں کچھ مہینے قبل ہندوستانی فوجیوں نے’ انگریزی ٹوپ‘ پہنے سے انکار کر دیا تھا۔
ہندوستان میں پانڈے کو برطانوی راج کے خلاف مجاہد آزادی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 1984 میں حکومت ہند نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر ان کی تصویر آویزا تھی۔ اس کے علاوہ ان کی زندگی کی عکاسی کرنے والی ایک فلم اور اسٹیج ڈرامہ 2005 میں پیش کیا گیا۔
یو این آئی۔ این یو۔

خاص خبریں
سی پی رادھا کرشنن نے کولکاتا میں آتش زدگی کے حادثہ میں 9 افراد کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔

سی پی رادھا کرشنن نے کولکاتا میں آتش زدگی کے حادثہ میں 9 افراد کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔

نئی دہلی، 19 اگست (یو این آئی) نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے کولکاتا کے ایک ہوٹل میں آگ کے حادثے میں 9 افراد کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے انہوں نے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی نائب صدر جمہوریہ نے بدھ کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا، "کولکاتا میں آگ لگنے کے دردناک حادثے میں ہوئی اموات سے مجھے گہرا دکھ ہوا ہے۔

...مزید دیکھیں
کولکاتہ کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے نو افراد ہلاک

کولکاتہ کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے نو افراد ہلاک

کولکاتہ، 19 اگست (یواین آئی) مغربی بنگال میں وسطی کولکاتہ کی فری اسکول اسٹریٹ پر واقع ایک ہوٹل میں منگل کی دیر رات لگنے والی بھیانک آگ آس پاس کے ہوٹلوں تک پھیل جانے سے ایک بچے سمیت کم از کم نو افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے حکام نے یہ معلومات دی ہے  انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع کل رات تقریباً دو بجے ہوٹل کی تیسری منزل سے ملی  گھنے دھوئیں نے جلد ہی کمروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے اس وقت سوئے ہوئے کئی مہمان اندر ہی پھنس گئے۔

...مزید دیکھیں
جموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ

جموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ

سری نگر، 19 اگست (یو این آئی) ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور کے دورہ سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ جموں و کشمیر کے مسائل کو ہندوستانی حکومت حل کرے گی نہ کہ امریکی حکومت اور وہ کسی بھی غیر ملکی سفارت کار سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کریں گے مسٹر عبداللہ نے اصرار کیا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی سفارت کار سے یونین ٹیریٹری میں مسائل کی شکایت نہیں کریں گے۔

...مزید دیکھیں
جوہر یونیورسٹی سمیت اعظم خاں سے جڑے متعدد ٹھکانوں پر ای ڈی کے چھاپے

جوہر یونیورسٹی سمیت اعظم خاں سے جڑے متعدد ٹھکانوں پر ای ڈی کے چھاپے

لکھنؤ / رام پور، 19 اگست (یواین آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر لیڈر اور جنرل سکریٹری اعظم خاں اور ان کے ڈریم پروجیکٹ 'محمد علی جوہر یونیورسٹی' پر ایک بار پھر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے گھیرا تنگ کر دیا ہے بدھ کی صبح ای ڈی کی ٹیموں نے رام پور میں واقع جوہر یونیورسٹی اور 'مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ' سے جڑے احاطوں سمیت اتر پردیش کے سہارنپور اور دہلی میں تقریباً 10 ٹھکانوں پر ایک ساتھ چھاپہ مار کارروائی شروع کی۔

...مزید دیکھیں
پھانسی کی سزا کو چیلنج کرنے والی عرضی کو سپریم کورٹ نے کیا خارج

پھانسی کی سزا کو چیلنج کرنے والی عرضی کو سپریم کورٹ نے کیا خارج

نئی دہلی، 18 اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے موت کی سزا پر عمل درآمد کے لیے پھانسی کے طریقے کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے خارج کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ مستقبل میں اس مسئلے پرازسرنو غوروخوض کا راستہ کھلا رہے گا۔

...مزید دیکھیں
سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کا جمہوری حقوق پر منظم حملہ: کھرگے

سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کا جمہوری حقوق پر منظم حملہ: کھرگے

نئی دہلی، 18 اگست (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت نے ہر ہندوستانی کے بولنے، سوال کرنے اور اختلافِ رائے ظاہر کرنے کے جمہوری حق پر منظم حملہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کی کارروائی اتنی ہی قابلِ مذمت ہے جتنا کہ نوجوانوں پر کیا گیا لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال کرنا ۔

...مزید دیکھیں
جھارکھنڈ کے طلبہ کی بھوک ہڑتال کا ختم ہونا اچھا، لیکن ان کے سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں: راہل

جھارکھنڈ کے طلبہ کی بھوک ہڑتال کا ختم ہونا اچھا، لیکن ان کے سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں: راہل

نئی دہلی، 18 اگست (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جھارکھنڈ کے طلبہ اور ریاستی حکومت کے درمیان اتفاقِ رائے بننے اور طلبہ کی بھوک ہڑتال ختم ہونے پر مسرت کا اظہار کیا، لیکن کہا کہ طلبہ کے سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور جھارکھنڈ حکومت نے بات چیت کا راستہ چنا اور حل نکالا۔

...مزید دیکھیں

2027ء میں بی جے پی زیادہ محتاط

19 Aug 2026 | 2:46 PM

بی جے پی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران ہونے والی چوک سے پارٹی نے سبق حاصل کیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں اس طرح کے نعروں یا سلوگن کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "اب کی بار 300 پار" جیسے نعرے اس انتخاب میں سننے کو نہیں ملیں گے۔ اس کی بجائے "مکمل اکثریت" اور "بھاری اکثریت" جیسے الفاظ استعمال کیے جائیں گے۔.