Science TechnologyPosted at: Mar 8 2026 7:35PM سائمہ خان نے دوسری بار یو پی ایس سی امتحان پاس کر کے تاریخ رقم کر دی

نئی دہلی، 8 مارچ (یو این آئی) کہا جاتا ہے کہ ’منزل وہ پاتا ہے جن کے خوابوں میں جان ہوتی ہے، پروں سے کچھ نہیں ہوتا حوصلوں سے اڑان ہوتی ہے‘ اس محاورے کو ضلع غازی پور کے علاقہ کمساربار کی بیٹی سائمہ سراج خان نے یو پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کر کے سچ ثابت کر دیا ہے سائمہ کے والد سراج احمد خان ایک کامیاب بزنس مین اور بلڈر ہیں۔ ان کا تعلق غازی پور کے مسلم اکثریتی علاقے کمساربار کے اُسیا گاؤں سے ہے، جبکہ ان کا رہائشی مکان کولکتہ کے علی پور علاقے میں ہے۔ سائمہ کولکتہ کی ادارہ ایجوکیٹ آئی سی ایس اکیڈمی سے یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے تحت آئی اے ایس اور آئی ایف ایس کی تیاری کر رہی تھیں۔
کمساربار سے تعلق رکھنے والی سائمہ خان نے ایک بار پھر یو پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کر کے نئی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے اس سے قبل بھی یہ مشکل امتحان پاس کیا تھا، جس میں ان کا رینک 165 تھا جبکہ اس مرتبہ انہوں نے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے 135ویں رینک حاصل کیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ ملک کی ان نمایاں خواتین میں شامل ہو گئی ہیں جنہوں نے دو مرتبہ سول سروسز کا باوقار امتحان پاس کیا۔ سائمہ کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے فخر کا باعث ہے اور نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا مثال بھی۔
غور طلب ہے کہ یوپی ایس سی 2023 کے نتائج کے اعلان کے بعد اپنی چوتھی امتحانی کوشش میں انہوں نے 165ویں رینک حاصل کی اور کمساربار کی پہلی خاتون سول سروس افسر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ سائمہ کا تعلق جسیا کے رہنے والے معروف ماہرِ تعلیم مرحوم ڈپٹی سعید خان کے خاندان سے ہے۔ وہ تین بھائیوں میں اکلوتی بہن ہیں۔
سائمہ کی زیادہ تر تعلیم کولکتہ میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی آٹھویں جماعت تک کی تعلیم سینٹ پالز بورڈنگ اینڈ ڈے اسکول کدر پور سے حاصل کی۔ اس کے بعد سائمہ نے اشوک ہال گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سے بارہویں جماعت مکمل کی اور پھر سینٹ زیویئرز کالج میں داخلہ لیا۔
گریجویشن کے دوران انہوں نے سوشیالوجی (سماجیات) میں آنرز کیا۔ اسی دوران ان کے دل میں عوامی خدمت کے شعبے میں کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ سائمہ ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) سے بھی وابستہ رہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب وہ زمینی سطح پر لوگوں سے ملیں اور ان کے مسائل کو دیکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ وہ ان کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کام کے لیے کسی نہ کسی ادارہ جاتی اختیار کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی سوچ نے انہیں یو پی ایس سی امتحان دینے کا فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا۔ سائمہ ایجوکریٹ آئی اے ایس اکیڈمی کی طالبہ رہ چکی ہیں اور ابتدائی امتحان (پریلمز) پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ اسی ادارے میں دوسرے امیدواروں کی رہنمائی بھی کرتی رہیں۔
اپنی تیاری کے سفر کے بارے میں سائمہ نے بتایا کہ انہوں نے کئی سال تک سوشل میڈیا اور سماجی سرگرمیوں سے تقریباً دوری اختیار کر لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چار سے پانچ سال تک رشتہ داروں کے یہاں جانا یا شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت کرنا تقریباً چھوڑ چکی تھیں۔ ان کی واحد سماجی سرگرمی یہ تھی کہ وہ کبھی کبھار مہینے میں ایک بار اپنے بچپن کے دوستوں سے مل لیتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے مطالعے کا کوئی مقررہ وقت نہیں تھا لیکن وہ جتنا ممکن ہو سکتا تھا پڑھائی پر وقت صرف کرتی تھیں۔
اپنے اس مشکل سفر کا ذکر کرتے ہوئے سائمہ نے کہا کہ ناکامی ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھی۔ تین بار امتحان میں ناکام ہونے کے بعد انہیں تقریباً ہر روز ہمت ہار دینے کا خیال آتا تھا لیکن ان کے پاس اپنے کیریئر کے لیے کوئی دوسرا منصوبہ نہیں تھا۔ ان کے تمام خواب یو پی ایس سی سے وابستہ تھے اور وہ جانتی تھیں کہ اگر انہیں کچھ حاصل کرنا ہے تو اسی راستے سے ہوگا۔
سائمہ کی کامیابی صرف ایک امتحان پاس کرنے کی کہانی نہیں بلکہ مسلم خواتین کی تعلیم اور خود مختاری کی ایک مضبوط مثال بھی ہے۔ ایک ایسے سماج میں جہاں اب بھی بہت سی لڑکیوں کو تعلیم اور کیریئر کے مواقع محدود ملتے ہیں، سائمہ کی کامیابی یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر خاندان کی حمایت اور خود پر یقین ہو تو کوئی بھی منزل دور نہیں۔ وہ خاص طور پر مسلم لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’خواب دیکھنا اور انہیں پورا کرنے کی کوشش کرنا ہر لڑکی کا حق ہے۔ خواتین کسی بھی میدان میں کامیاب ہو سکتی ہیں، بس انہیں اپنے خوابوں کو کبھی ترک نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے اور منزل حاصل کرنے کے لیے کوئی بہانہ نہیں ہوتا۔ سائمہ نے اپنے واضح مقصد، سخت محنت اور مضبوط ارادے کے بل پر یہ ثابت کر دیا کہ خواتین بھی بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔
کولکتہ کو یونہی ’سٹی آف جَوائے‘ یعنی شہرِ نشاط نہیں کہا جاتا۔ اسی شہر سے متحدہ ہندوستان کے پہلے آئی سی ایس افسر سَتیندر ناتھ ٹیگور سامنے آئے تھے۔ آج اسی سرزمین سے کامیابی حاصل کر کے سائمہ سراج خان نے کمساربار علاقے کی پہلی خاتون انتظامی یعنی سول افسر بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ان کی کامیابی پر پورے علاقے اور ضلع میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سائمہ نے بتایا کہ ان کی کامیابی کے پیچھے ان کے والدین کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا بڑا کردار ہے۔ ان کے والد سراج احمد خان نے بچپن سے ہی سائمہ کو تعلیم کی طرف راغب کیا اور ہر مشکل مرحلے پر حوصلہ دیا۔ سائمہ کہتی ہیں ’’میرے والد بچپن سے کہتے تھے کہ تعلیم سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر آپ تعلیم حاصل کر لیں تو زندگی کے راستے خود بخود کھل جاتے ہیں۔‘‘
یو پی ایس سی کے امیدواروں کو مشورہ دیتے ہوئے سائمہ نے کہا کہ سب سے پہلے اپنے ساتھ ایماندار رہنا ضروری ہے۔ اگر کوئی پانچ گھنٹے پڑھائی کر رہا ہے تو اسے مقدار کے بجائے معیار پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل مزاجی بہت ضروری ہے اور امیدواروں کو نتائج کی زیادہ فکر کیے بغیر اپنی تیاری پر مکمل توجہ دینی چاہیے۔
سائمہ خواتین کو پیغام دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ عورتیں کسی بھی شعبے میں رہیں لیکن اپنے خواب کو کبھی بھی ترک نہ کریں۔ وہ اپنے ایک سلوگن کا اعادہ کرتی ہیں کہ ’’جہاں مرضی ہوتی ہے وہاں راستہ ہوتا ہے۔‘‘ مشکلات اور ناکامیاں کامیابی کا حصہ ہیں۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتی ہیں تو انہیں کبھی بھی اپنے آپ پر حاوی نہ ہونے دیں۔
آج سائمہ خان کی کامیابی نہ صرف غازی پور بلکہ پورے ملک کی مسلم لڑکیوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ تعلیم، محنت اور عزم کے ساتھ ہر خواب کو حقیقت میں پرویا جا سکتا ہے۔ دشینت کمار کا یہ شعر ان کے اس پورے سفر کا خوب عکاسی کرتا ہے۔۔۔
کیسے آکاش میں سوراخ نہیں ہو سکتا
ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو