Monday, Jun 15 2026 | Time 23:01 Hrs(IST)
Special Story

گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل

گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل

خصوصی مضمون: ظفر اقبال
پوری دنیا کے مسلمان ہر سال جس روحانی سفر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں وہ حج ہے، مکہ مکرمہ میں ادا کی جانے والی یہ اہم عبادت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، صبر، مساوات اور بندگی کا عظیم مظہر سمجھی جاتی ہے, لاکھوں مسلمان نسل، رنگ، زبان، قومیت اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور ایک ایسی فضا میں عبادت کرتے ہیں جہاں روحانیت کا ایک منفرد احساس جنم لیتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک نئی اور تشویش ناک حقیقت اس مقدس عبادت کے ساتھ جڑتی جا رہی ہے اور وہ ہے بڑھتی ہوئی عالمی گرمی یا گلوبل ہیٹنگ۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس اور موسمیاتی تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ مکہ مکرمہ کے موسم کو خطرناک حد تک تبدیل کر رہا ہے۔ شدید گرمی اب صرف گرمیوں کے چند مہینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سال کے نسبتاً معتدل سمجھے جانے والے اوقات میں بھی حجاج کو جھلسا دینے والے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صدی کے اختتام تک حج تقریباً پورا سال شدید اور جان لیوا گرمی کے ماحول میں ادا کرنا پڑے گا۔
ایک تازہ تجزیے کے مطابق مکہ مکرمہ کی آب و ہوا میں بنیادی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ جہاں ماضی میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت صرف جون، جولائی یا اگست جیسے مہینوں میں دیکھا جاتا تھا، وہاں اب مئی جیسے نسبتاً ٹھنڈے تصور کیے جانے والے مہینے میں بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ فوسل فیول یعنی جیواشم ایندھن کا بے تحاشہ استعمال ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کیا۔
حج چونکہ اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال تقریباً دس دن پہلے آتی ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مثبت پہلو یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج مختلف موسموں میں گردش کرتا رہے گا، کبھی سردیوں میں، کبھی بہار میں اور کبھی گرمیوں میں۔ لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاہے حج موسمِ بہار میں ہو یا خزاں میں، عالمی حدت کے باعث شدید گرمی ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود رہے گی۔
2024 میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس خطرے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ جون میں ادا کیے گئے حج کے دوران شدید گرمی اور نمی کے باعث 1300 سے زائد حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہزاروں افراد کو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
حج بنیادی طور پر جسمانی مشقت پر مشتمل عبادت ہے۔ لاکھوں عازمین حج کو کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے، مختلف مقامات کے درمیان مسلسل نقل و حرکت کرنا ہوتی ہے اور کھلے آسمان تلے عبادات انجام دینی پڑتی ہیں۔ میدانِ عرفات میں قیام، منیٰ میں قیام، جمرات پر رمی اور طواف جیسی عبادات جسمانی برداشت کا تقاضا کرتی ہیں۔ شدید گرمی ان تمام مراحل کو نہایت مشکل اور بعض اوقات خطرناک بنا دیتی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق مئی کے مہینے کا اوسط درجہ حرارت اب ماضی کے مقابلے میں تقریباً 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں چند ڈگری کا فرق انسانی صحت، پانی کی دستیابی، جسمانی برداشت اور موسمی توازن پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی بحران صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، عبادات، معیشت اور عالمی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
اس صورتحال میں سعودی عرب نے کئی عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ حجاج کی سہولت کے لیے سایہ دار راستے تعمیر کیے گئے ہیں، کولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، مسٹنگ سسٹمز لگائے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار کے ذریعے درجہ حرارت کا احساس کم کرتے ہیں، جبکہ طبی خدمات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کی تعداد بڑھائی گئی تاکہ گرمی سے متاثر افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی اور حفاظتی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اگر زمین مسلسل گرم ہوتی رہی تو حفاظتی انتظامات کی افادیت محدود ہو جائے گی۔ بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب درجہ حرارت انسانی برداشت کی حد سے تجاوز کر جائے، اور محض ٹھنڈا پانی یا سایہ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی نہ رہے۔
یہ صورتحال ایک اہم اخلاقی اور سیاسی سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت بڑی حد تک تیل کی صنعت پر منحصر ہے۔ دوسری طرف موسمیاتی سائنسدان مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوسل فیول کے استعمال میں کمی لائی جائے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اور خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حج میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد مختلف ممالک اور موسمی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض حجاج نسبتاً سرد خطوں سے آتے ہیں جہاں 20 یا 25 ڈگری درجہ حرارت بھی گرمی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے 45 یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بوڑھے افراد، دل کے مریض، شوگر کے مریض اور جسمانی کمزوری کے شکار افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
عالمی حدت صرف حج ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ شدید گرمی پانی کے بحران کو جنم دے رہی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک میں انسانی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار نسبتاً زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جائے، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور تیل و گیس پر انحصار کم کیا جائے تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے حج سمیت بہت سی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں شدید موسمی خطرات سے جڑی رہیں گی۔
اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو دینی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر کیسے دیکھا جائے۔ اسلام میں اسراف، وسائل کے ضیاع اور زمین میں فساد سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تحفظ کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے تو نہ صرف ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے عبادات کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
حج ہمیشہ اتحاد، قربانی اور روحانی پاکیزگی کی علامت رہا ہے، مگر اب اس مقدس عبادت کے سامنے ایک نیا چیلنج موجود ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، مذہبی آزادی اور عالمی ذمہ داری کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وہ دن دور نہیں جب حج کا یہ روحانی سفر لاکھوں لوگوں کے لیے شدید جسمانی آزمائش میں تبدیل ہو جائے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر انسان نے اپنے طرزِ زندگی، صنعتی ترجیحات اور توانائی کے ذرائع پر نظرثانی نہ کی تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے، حتیٰ کہ عبادت گاہیں اور مقدس مقامات بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔(یواین آئی)
٭٭٭

خاص خبریں
امریکہ-ایران معاہدے سے مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کی امید : مودی

امریکہ-ایران معاہدے سے مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کی امید : مودی

نئی دہلی، 15 جون (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں ایک اہم پیش رفت میں امریکہ اور ایران کے درمیان بنی رضامندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے خطے میں امن اور استحکام قائم ہوگا مسٹر مودی نے پیر کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، "میں مغربی ایشیا میں تنازعہ ختم کرنے کے سلسلے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئی مفاہمت کا خیرمقدم کرتا ہوں، جس نے دنیا بھر میں سنگین اقتصادی خلل پیدا کیا ہے اور کئی ممالک میں جانی نقصان کا سبب بنا ہے۔

...مزید دیکھیں
جےرام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان 19 جون کو جنیوا میں مجوزہ معاہدے کا کیا خیرمقدم

جےرام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان 19 جون کو جنیوا میں مجوزہ معاہدے کا کیا خیرمقدم

نئی دہلی، 15 جون (یو این آئی) کانگریس کے جنرل سکریٹری جےرام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان 19 جون کو جنیوا میں مجوزہ معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں دشمنی ختم کرنے کی سمت میں یہ ایک مثبت اور ضروری قدم ہےمسٹر رمیش نے امید ظاہر کی کہ امریکہ، ایران اور اسرائیل اس معاہدے پر عمل کریں گے اور یہ پہل خطے میں مستقل امن اور معمول کے تعلقات کی سمت میں راہ ہموار کرے گی۔

...مزید دیکھیں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی

تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی

تہران، 15 جون (یو این آئی) ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران میں تاریخی سطح کا امن تصفیہ ہو گیا ہے، امریکہ اور ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں جس پر باضابطہ دستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے ٹرتھ سوشل پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوگئے ہیں اور سب کو مبارک ہو، انھوں نے کہا امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر رہا ہے اور معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔

...مزید دیکھیں
ہندوستانی ملاحوں  کی موت پر مودی خاموشی توڑیں، سخت  احتجاج درج کرائیں  : کانگریس

ہندوستانی ملاحوں کی موت پر مودی خاموشی توڑیں، سخت احتجاج درج کرائیں : کانگریس

نئی دہلی، 15 جون (یو این آئی) کانگریس نے امریکی حملے میں ہندوستانی جہاز کے عملے کے تین ارکان کی موت پر وزیر اعظم نریندر مودی سے خاموشی توڑنے اور اس معاملے میں سخت احتجاج درج کرانے کا مطالبہ کیا ہے پارٹی نے کہا کہ ہندوستانی شہریوں کی ہلاکت پر وزیر اعظم کو تعزیت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ سمندری سلامتی کا جامع جائزہ لینا چاہیے کانگریس کے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ڈپارٹمنٹ کی سربراہ محترمہ سپریا شرینیت نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم کو اس معاملے میں سخت احتجاج درج کرانے کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان کی بھی مذمت کرنی چاہیے۔

...مزید دیکھیں
سلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال

سلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال

نئی دہلی، 15 جون (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو سلوواکیہ کے دورے پر پہنچنے پر کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری مزید گہری ہوگی مسٹر مودی نے سلوواکیہ کے دارالحکومت پہنچنے کے فوراً بعد کہا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔

...مزید دیکھیں
پتا لگایا جا رہا ہے کہ کون سا یوگا کس بیماری میں معاون ہو سکتا ہے: جادھو

پتا لگایا جا رہا ہے کہ کون سا یوگا کس بیماری میں معاون ہو سکتا ہے: جادھو

نئی دہلی، 15 جون (یو این آئی) مرکزی وزارت آیوش، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ساتھ مل کر یہ پتا لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کون سا یوگا کس بیماری کے علاج میں معاون ثابت ہو سکتا ہے مرکزی وزیر آیوش پرتاپ راؤ جادھو نے پیر کو یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کی وزارت آئی سی ایم آر اور دیگر طبی تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر یہ پتا لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کس قسم کی بیماری میں کون سا یوگا کیا جائے، جس سے مریض جلد صحت یاب ہو سکے۔

...مزید دیکھیں
ایران-امریکہ معاہدے سے سینسیکس میں تقریباً 1300 پوائنٹس کا اچھال

ایران-امریکہ معاہدے سے سینسیکس میں تقریباً 1300 پوائنٹس کا اچھال

ممبئی 15 جون (یو این آئی) ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ ہونے کی خبر سے گھریلو شیئر بازاروں میں پیر کو زبردست تیزی دیکھی گئی اور بی ایس ای کا سینسیکس ابتدائی کاروبار میں 1300 پوائنٹس کے قریب اچھل گیاسینسیکس 1197.32 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 76725.27 پوائنٹس پر کھلا اور 1293 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ 76821 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

...مزید دیکھیں

ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی کا تاریخی شہر وارانسی میں آغاز

15 Jun 2026 | 9:56 PM

وارانسی، 15 جون (یواین آئی ) ڈی پی ورلڈ پروفیشنل گولف ٹور آف انڈیا تاریخی شہر وارانسی میں پہلی مرتبہ اپنے مقابلے کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ نیٹ جین سیزن کا چھٹا ایونٹ 16 سے 18 جون 2026 تک بی ایل ڈبلیو گرینز گولف کورس میں کھیلا جائے گا۔یہ وارانسی میں پی جی ٹی آئی کا پہلا ٹورنامنٹ ہوگا، جس کے لیے 25 لاکھ روپے کی انعامی رقم مقرر کی گئی ہے۔ مقابلہ 54 ہولز (تین راؤنڈز) پر مشتمل ہوگا، جبکہ 36 ہولز کے بعد کٹ نافذ کیا جائے گا۔ ٹاپ 36 کھلاڑی اور برابر اسکور والے کھلاڑی آخری اور تیسرے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کریں گے۔اس ایونٹ میں مجموعی طور پر 72 کھلاڑی شرکت کریں گے۔ نمایاں شرکاء میں سنیّت چورسیا (2026 ڈی پ.