NationalPosted at: May 21 2026 7:52PM سی بی آئی نے ہریانہ حکومت کی رقم میں خورد برد کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کی

نئی دہلی، 21 مئی (یو این آئی) مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے جمعرات کو ہریانہ حکومت کے مختلف محکموں کے فنڈز میں 504 کروڑ روپے کی خورد برد اور غبن کے معاملے میں اپنی پہلی چارج شیٹ داخل کرتے ہوئے 15 ملزمان کو نامزد کیا ہے یہ چارج شیٹ ہریانہ کے پنچکولہ میں سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت میں داخل کی گئی ہے، جس میں آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فنانس بینک کے چھ بینک اہلکار، ہریانہ ودیوت اتپادن نگم لمیٹڈ ، محکمہ ترقی و پنچایت اور ہریانہ اسکول تعلیم پریوجنا پریشد سے وابستہ ہریانہ حکومت کے تین ملازمین، دو شیل کمپنیاں اور ان کے تین شراکت دار/ڈائریکٹرز اور ایک دوسرا شخص شامل ہے۔ تمام ملزمان فی الحال عدالتی حراست میں ہیں۔
ان پر مجرمانہ سازش، مجرمانہ خیانت (امانت میں خیانت)، ٹھگی، دھوکہ دہی، ثبوت مٹانے اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت جرائم کے لیے چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ جن جرائم کے لیے چارج شیٹ داخل کی گئی ہے، ان میں تمام 15 ملزمان کے خلاف تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔ دیگر ملزمان اور دوسرے محکموں میں ہونے والی خورد برد کی جانچ چل رہی ہے اور جلد ہی مزید چارج شیٹ داخل کی جائیں گی۔
یہ معاملہ ہریانہ کے مختلف سرکاری محکموں کے بینک اکاؤنٹوں سے اہلکاروں کے ذریعے متعلقہ محکموں میں تعینات سرکاری ملازمین کے ساتھ ساز باز کر کے 504 کروڑ روپے کے سرکاری فنڈز کی خورد برد سے جڑا ہوا ہے۔ یہ معاملہ شروع میں اسٹیٹ ویجیلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو ہریانہ نے درج کیا تھا اور بعد میں تفتیش کے لیے سی بی آئی کو منتقل کر دیا گیا تھا۔
یواین آئی۔ایف اے