RegionalPosted at: May 21 2026 7:58PM بھرتی میں ہریانہ کے نوجوانوں کے ساتھ امتیازی سلوک: ہڈا نے بی جے پی کا اصلی چہرہ بے نقاب کیا

چنڈی گڑھ، 21 مئی (یو این آئی) ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اور اپوزیشن لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے بی جے پی حکومت پر ہریانہ کے نوجوانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا الزام لگایا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام بے روزگاری، بدعنوانی، مہنگائی اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں، لیکن حکومت کمبھ کرن کی طرح سو رہی ہے انھوں نے جغرافیہ کے لئے اسسٹنٹ پروفیسر کی بھرتی کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 116 جنرل زمرہ کے عہدوں میں سے 74 کا انتخاب بیرونی ریاستوں کے امیدواروں کے لیے کیا گیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی ہریانہ کی نوکریاں دوسری ریاستوں میں بانٹ رہی ہے، حالاں کہ ہریانہ میں ملک میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسسٹنٹ پروفیسر ہندی کی بھرتی میں 60 میں سے 41 امیدوار باہر کی ریاستوں سے تھے۔ ہریانہ کے نوجوانوں کو جان بوجھ کر انٹرویو میں کم نمبر دے کر میرٹ لسٹ سے باہر کر دیا گیا۔ انگریزی کی 613 آسامیوں کے لیے کی گئی بھرتی میں، صرف 151 کو منتخب کیا گیا، اور ڈہی ایس سی زمرہ میں 60 مخصوص نشستوں کے لیے صرف ایک امیدوار کو منتخب کیا گیا۔ نفسیات (سائیکلوجی)کی 85 آسامیوں کے لیے 400 میں سے صرف 3 امیدوار پاس ہوئے۔
مسٹر ہڈا نے کہا کہ حکومت یا تو عہدوں کو خالی چھوڑ دیتی ہے یا بھرتی میں غیر ہریانوی باشندوں کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ نوجوانوں کے حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔
مہنگائی پر بات کرتے ہوئے مسٹر ہڈا نے کہا کہ حکومت نے 15 مئی کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر اور 19 مئی کو 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا۔ گیس سلنڈر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں ریلیف کی کوئی امید نہیں ہے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف