ہمیرپور، 16 اگست (یو این آئی) ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے تحت کام کرنے والی اسٹاف نرسوں، فارماسسٹوں، آپریشن تھیٹر معاونین اور لیبارٹری میڈیکل ٹیکنیشنز کے لیے 25,000 روپے کا نظرثانی شدہ ماہانہ اعزازیہ، 281 کروڑ روپے کے بقایا جات کی ادائیگی اور غریب خاندانوں کے لیے 10 لاکھ روپے تک کے ہیلتھ انشورنس کور کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان یومِ آزادی کے موقع پر کیا گیا۔
نظرثانی شدہ ماہانہ تنخواہ ستمبر سے نافذ کی جائے گی۔ کنٹریکٹ پر تعینات نرسوں اور معاون طبی عملے، جن میں لیبارٹری میڈیکل ٹیکنیشن، فارماسسٹ اور آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن شامل ہیں، کے لیے 25,000 روپے جب کہ ڈیٹا انٹری آپریٹرز کے لیے 18,000 روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔ حکومت ایک نئی ہیلتھ انشورنس پالیسی بھی نافذ کرے گی، جس کے تحت غریب خاندانوں کو 10 لاکھ روپے تک کا طبی بیمہ فراہم کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سکھو نے اعلان کیا کہ ریاست میں چوتھے درجے کے ملازمین کو اس ماہ ان کی تنخواہ کے بقایا جات کی مد میں 20,000 روپے کی اضافی ادائیگی کی جائے گی۔ 2016 سے دسمبر 2021 کے درمیان ریٹائر ہونے والے چوتھے درجے کے پنشن یافتگان اور خاندانی پنشن یافتگان کو ان کی پنشن یا خاندانی پنشن کے بقایا جات کا مزید 30 فی صد حصہ بھی اسی ماہ ادا کیا جائے گا۔
اسی طرح درجہ اول اور درجہ دوم کے پنشن یافتگان اور خاندانی پنشن یافتگان کو پنشن یا خاندانی پنشن کے بقایا جات کا 15 فیصد حصہ بھی اس ماہ جاری کیا جائے گا۔ تنخواہوں اور پنشن کے بقایا جات کی ادائیگی پر تقریباً 281 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ انہوں نے ہفتے کے روز برسَر کے سرکاری ہائر سیکنڈری اسکول میں منعقدہ ریاستی سطح کی یومِ آزادی تقریب کے دوران یہ اعلانات کیے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے سابقہ حکومت تنخواہوں اور پنشن کے بقایا جات کی صورت میں 10,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا مالی بوجھ چھوڑ گئی تھی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے ہمیشہ ملازمین اور پنشن یافتگان کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی ہے۔ ریاست کی مشکل مالی صورتحال کے باوجود ملازمین اور پنشن یافتگان کو اب تک 2,170 کروڑ روپے سے زیادہ کے تنخواہ اور پنشن کے بقایا جات ادا کیے جاچکے ہیں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف