NationalPosted at: Jun 8 2026 3:53PM حد بندی بلوں کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان قائم ہونے والے اتحاد کی ضرورت مہنگائی اور آئین جیسے مسائل پر بھی ہے: کھرگے

نئی دہلی، 08 جون (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد نے لوک سبھا میں حد بندی سے جڑے بلوں کے خلاف جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا، اب اسی جذبے کے ساتھ مرکزی حکومت کی ناقص حکمرانی کے خلاف بھی اجتماعی جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گامسٹر کھرگے نے پیر کو یہاں کانسٹی ٹیوشن کلب میں اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد تقریباً تین سال پہلے وجود میں آیا تھا اور گزشتہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں تمام اپوزیشن پارٹیوں نے متحد ہو کر حد بندی کے مسئلے پر مودی حکومت کے ’بدنیتی پر مبنی‘ بلوں کو شکست دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اب اس اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے سامنے موجود سیاسی، اقتصادی، سماجی اور خارجہ پالیسی سے چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹوں کے خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے کروڑوں لوگوں سے ان کا حق رائے دہی چھینا جا رہا ہے اور آئین پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، اقتصادی ماحول منفی ہے اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے جس رفتار سے سرمایہ کاری آنی چاہیے، وہ نہیں آ رہی ہے۔
کانگریس صدر نے یہ بھی الزام لگایا کہ کئی شعبوں میں نجی اجارہ داری بڑھ رہی ہے اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کا مستقبل خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحان سے متعلق نظام کی بدانتظامی کی وجہ سے لاکھوں نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے اور معاشرے کے کمزور طبقات پر مظالم جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں روایتی اقدار کے ساتھ سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے