OthersPosted at: Jun 12 2026 6:13PM ہندوستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ تاریخ کے راستے ہائی کمشنر دنیش تریویدی ڈھاکہ روانہ

خصوصی تحریر: جینت رائے چودھری
کولکاتہ، 12 جون (یو این آئی) بنگلہ دیش میں ہندوستان کے نو مقرر ہائی کمشنر دنیش تریویدی اپنے نئے عہدے کا چارج سنبھالنے کے لیے جمعہ کو کولکاتہ سے جیسور کے راستے سڑک کے ذریعے ڈھاکہ روانہ ہوئے یہ راستہ دونوں ممالک کی نصف صدی سے زائد پر محیط مشترکہ تاریخ کا امین سمجھا جاتا ہے ہندوستان اور بنگلہ دیش دونوں کی قومی یادداشت میں جیسور کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ 6 دسمبر 1971 کو ہندوستانی فوج اور مکتی باہنی نے مشترکہ کارروائی میں اس علاقے میں پاکستانی افواج کو شکست دی تھی، جس کے نتیجے میں ڈھاکہ تک پہنچنے کا ایک اہم راستہ کھل گیا تھا۔
جیسور کی یہ فتح جنگِ آزادی بنگلہ دیش میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اسی روز ہندوستان نے بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک کے طور پر باضابطہ تسلیم کیا تھا۔ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ ہندوستان موجودہ اور مستقبل کے حالات کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد بنگلہ دیش کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر رہا ہے۔ اس اعلان کا ہندوستانی ارکانِ پارلیمنٹ نے میز بجا کر اور ’جے بنگلہ‘ کے نعرے لگا کر خیرمقدم کیا تھا۔
تاہم اس راستے کی اہمیت صرف عسکری تاریخ تک محدود نہیں ہے۔ کولکاتہ کو جیسور سے ملانے والی یہ سڑک مارچ سے نومبر 1971 کے دوران ایک اہم انسانی راہداری بن گئی تھی، جب مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائیوں سے بچنے کے لیے لاکھوں بنگلہ دیشی پناہ گزین سرحد عبور کرکے ہندوستان آ رہے تھے۔
جان بچانے کی خاطر لاکھوں مرد، خواتین اور بچے مشرقی ہندوستان کے پناہ گزین کیمپوں میں پہنچے تھے۔ ان کے پاس اپنی یادوں اور زندہ رہنے کی امید کے سوا کچھ نہیں تھا۔
یہ پناہ گزین بحران بیسویں صدی کی سب سے بڑی انسانی نقل مکانی میں شمار کیا جاتا ہے اور اس نے جنگ کے حوالے سے ہندوستان کے مؤقف اور سفارتی حکمتِ عملی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس راستے پر دیکھی جانے والی انسانی تکالیف کو امریکی شاعر اور گیت نگار ایلن گنسبرگ نے اپنی مشہور نظم "ستمبر آن جیسور روڈ" میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ بعد میں یہ نظم ایک گیت کی شکل اختیار کر گئی۔ گنسبرگ نے یہ نظم بنگاؤں کے پناہ گزین کیمپوں کے دورے کے بعد لکھی تھی، جہاں ان کے ساتھ معروف ہندوستانی ادیب اور شاعر سنیل گنگوپادھیائے بھی موجود تھے۔
اس نظم اور گیت نے مغربی دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا تھا جو اس وقت سیاسی طور پر پاکستان کی فوجی حکومت کی حمایت کر رہی تھی۔ دنیا بھر میں جیسور روڈ 1971 کے پناہ گزینوں کے دکھ، حوصلے اور جدوجہد کی علامت بن گئی۔
جیسور شہر تاریخ کے ایک اور قدیم باب کا بھی گواہ ہے۔ تقریباً چار سو سال قبل بنگال کے ’بارو بھوئیاں‘ (بارہ جاگیرداروں) میں سے طاقتور حکمران راجا پرتاپ آدتیہ نے اسی علاقے کو اپنی حکومت کا مرکز بنایا تھا اور جنوبی و وسطی بنگال پر حکمرانی کی تھی۔
آج جب ہندوستان اور بنگلہ دیش بدلتے ہوئے سیاسی اور تزویراتی حالات کے درمیان اپنے تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوشش کر رہے ہیں تو دنیش تریویدی کا یہ سفر ایک ایسے راستے سے گزرا ہے، جس نے حکومتوں کے عروج و زوال، بغاوت، جنگ، ہجرت اور آزادی کی جدوجہد کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔
جنوبی ایشیا میں شاید ہی کوئی اور سڑک ایسی ہو جو مشترکہ تاریخ کی اتنی پرتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہو۔ سترہویں صدی کے مغل ادوار سے لے کر 1971 کے پناہ گزینوں اور مجاہدینِ آزادی تک اور اب اکیسویں صدی کی سفارت کاری تک، جیسور سے گزرنے والی یہ شاہراہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان گہرے اور پائیدار تعلقات کی ایک مضبوط علامت بنی ہوئی ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم