Tuesday, Mar 17 2026 | Time 12:18 Hrs(IST)
International

ہند–بنگلہ دیش تعلقات : سرد مہری سے گرم جوشی تک

ہند–بنگلہ دیش تعلقات : سرد مہری سے گرم جوشی تک

خصوصی تحریر:جینت رائے چودھری
نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی) ہندوستان کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی صبح ٹویٹ کر کے بنگلہ دیش کے قومی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی زبردست اکثریت سے کامیابی پر پارٹی کے چیئرمین طارق رحمٰن کو مبارکباد پیش کی, توقع ہے کہ مسٹر مودی نومنتخب رہنما کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ذاتی سطح پر بھی کوشش کرسکتے ہیں, بنگلہ دیش کے اعلیٰ حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان جلد بات چیت کا واضح امکان ہے جو دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہوسکتا ہے۔ یہ تعلقات کچھ عرصے سے سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ ڈھاکہ میں محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کے ساتھ ہندوستان کی بے چینی سب پر عیاں تھی۔ یہ تعلقات اس وقت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے جب یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ موجودہ حکومت نے بنگلہ دیش میں ہندوستانی مشن کے باہر احتجاج کو ہوا دی جن میں حملوں کے واقعات بھی شامل تھے۔ تاہم تجزیہ کار فوری طور پر گرم جوشی کی توقع نہیں کرتے بلکہ ایک محتاط اور مرحلہ وار پیش رفت کی بات کرتے ہیں۔ اگرچہ بی این پی کو کامیابی ملی ہے مگر رحمٰن کے لیے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو تیزی سے بہتر بنانا آسان نہیں ہوگا۔ بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں ہند مخالف جذبات ایک مؤثر سیاسی ہتھیار رہے ہیں۔ نئی دہلی سے حد سے زیادہ قربت کا تاثر ان کے مخالفین کو یہ الزام لگانے کا موقع دے سکتا ہے کہ نئی حکومت قومی مفادات پر سمجھوتہ کر رہی ہے۔ اسی لیے حساس نوعیت کے دوطرفہ معاملات—تجارت اور دریا کے پانی کی تقسیم—پر پیش رفت تیز رفتاری کے بجائے بتدریج اور محتاط انداز میں متوقع ہے۔
بنگلہ دیش طویل عرصے سے ہندوستانی منڈی تک رسائی میں توسیع اور زیرِ التوا آبی معاہدوں کے حل کا خواہاں ہے۔ ہندوستان کو سکیورٹی تعاون اور علاقائی اسٹریٹجک ہم آہنگی پر تشویش ہے۔ اعلیٰ ہندوستانی حکام کے مطابق مذاکرات 'عملی مگر محتاط انداز' میں آگے بڑھیں گے۔ بنگلہ دیش کے ممتاز دانشور اور مدیر ظفر سبحان کے مطابق آنے والی بی این پی حکومت کو خارجہ پالیسی کے علاوہ بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔
ان کے بقول 'ہندوستان کے ساتھ تعلق یقیناً ایک اہم مسئلہ ہے مگر یہ کئی بڑے امتحانات میں سے صرف ایک ہے۔' دوسرا بڑا چیلنج عوامی لیگ کے سیاسی مستقبل کا ہوگا۔ بی این پی طویل عرصے سے اپنے اس بڑے حریف پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ تاہم مکمل سیاسی اخراج داخلی اور بین الاقوامی سطح پر خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ سیاسی استحکام اور جمہوری ساکھ برقرار رکھنے کے لیے کسی حد تک مفاہمت ناگزیر ہوسکتی ہے۔ سب سے حساس مسئلہ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ سے متعلق ہے۔ حسینہ کی بنگلہ دیش واپسی سیاسی طور پر دھماکہ خیز ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے داخلی کشیدگی میں اضافہ، سڑکوں پر احتجاج اور حکومتی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بھی پیچیدہ ہوسکتے ہیں، جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔ دوسری جانب بی این پی کھلے عام ان کی ہندوستان میں جلاوطنی کی حمایت بھی نہیں کرسکتی کیونکہ اس سے سیاسی کمزوری کا تاثر مل سکتا ہے۔ لہٰذا نئی حکومت کے لیے غالباً کم سے کم نقصان دہ راستہ یہی ہوگا کہ حسینہ کو بیرونِ ملک رہنے دیا جائے، جبکہ رسمی طور پر ان کی واپسی کے مطالبے کی تائید کی جائے۔ آنے والے ہفتے بی این پی کی سیاسی حکمت عملی کا امتحان ہوں گے۔ اسے داخلی حلقوں کو مطمئن کرنا، منقسم سیاسی ماحول کو مستحکم کرنا اورہندوستان کے ساتھ تعلقات کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا، بغیر اس تاثر کے کہ وہ زیرِ اثر ہے۔ دیگر محاذوں پر بھی بی این پی کی حکمت عملی کی آزمائش ہوگی۔ صحافی اور ماہرین تعلیم جیسے شیامل دتہ اور پروفیسر ابوالبرکات، جنہیں قتل، جاسوسی اور بدعنوانی جیسے الزامات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا، فوری طور پر رہا نہ بھی ہوں لیکن اب جبکہ ڈھاکہ کی میڈیا پر عائد پابندیاں ختم ہو چکی ہیں، ان کے مقدمات غالباً انتقامی یا سرسری انداز میں نہیں چلائے جائیں گے۔ ڈھاکہ میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ عبوری حکومت کے کئی اعلیٰ مشیر ملک چھوڑ دیں گے جبکہ بعض اپنے پیشوں جامعات، میڈیا یا غیر سرکاری تنظیموں—کی طرف واپس لوٹ جائیں گے۔ قانونی مشیر آصف نذرل تحقیق کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔ خارجہ مشیر محمد توحید حسین تحریر و تصنیف پر توجہ دینا چاہتے ہیں، جبکہ خوراک و اراضی کے مشیر علی امام مجمدار دوبارہ کالم نگاری کریں گے۔ یونس کابینہ کی دو خواتین ارکان بھی اپنی این جی اوزکی طرف واپسی کی خواہاں ہیں۔ سماجی بہبود کی مشیر شرمین ایس مرشد انسانی حقوق کے لیے اپنی این جی او 'بروتی' میں واپس جائیں گی، جبکہ ماحولیاتی تبدیلی کی مشیر سیدہ رضوانہ حسن اپنی قانونی این جی او 'بیلا' میں دوبارہ خدمات انجام دیں گی۔
یو این آئی ۔ایس وائی

خاص خبریں
پی این جی کنکشن لینے پر کمپنیوں نے خصوصی ترغیبی اسکیم شروع کی

پی این جی کنکشن لینے پر کمپنیوں نے خصوصی ترغیبی اسکیم شروع کی

نئی دہلی، 16 مارچ (یواین آئی) حکومت نے پیر کو عوام سے اپیل کی کہ جہاں ممکن ہو وہ رسوئی گیس کے لیے ایل پی جی کے بجائے پائپ کے ذریعے پی این جی کنکشن لیں، جس کے لیے کمپنیاں خصوصی ترغیب دے رہی ہیں کچھ کمپنیوں نے 500 روپے کی مفت گیس اور کچھ نے ضمانت کی رقم معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

...مزید دیکھیں
ہریانہ حکومت  پروفیسر علی خان محمود آباد کے خلاف  مقدمہ چلانے  کی منظوری نہیں دے گی

ہریانہ حکومت پروفیسر علی خان محمود آباد کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دے گی

نئی دہلی،16 مارچ (یواین آئی ) ہریانہ حکومت نے پیر کے روز سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ اس نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ معاملہ اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کی سرحد پار فوجی کارروائی 'آپریشن سندور' سے متعلق ان کی سوشل میڈیا پوسٹس سے شروع ہوا تھا چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے ریاستی حکومت کے اس بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا کہ اب اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔

...مزید دیکھیں
رسوئی گیس کی فراہمی پر راجیہ سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت نوک جھونک

رسوئی گیس کی فراہمی پر راجیہ سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت نوک جھونک

نئی دہلی، 16 مارچ (یواین آئی) راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے رہنما ملکارجن کھڑگے نے مغربی ایشیا کے بحران کے باعث ملک میں رسوئی گیس سلنڈر کی فراہمی متاثر ہونے کا مسئلہ پیر کو ایوان میں اٹھایا، جس پر ایوان کے رہنما جگت پرکاش نڈا نے یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا کہ کانگریس مصیبت کے وقت بھی سیاست کر کے عوام کو بھڑکا رہی ہے مسٹر کھڑگے نے وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں رسوئی گیس سلنڈر کی فراہمی متاثر ہونے کے سبب افراتفری مچی ہوئی ہے اور اس سے خاص طور پر غریب، متوسط طبقہ اور چھوٹے ریستوران متاثر ہوئے ہیں۔

...مزید دیکھیں
27 سال بعد اقتدار میں واپسی، بی جے پی کا دہلی کے لیے ’مربوط ترقی‘ کا روڈ میپ

27 سال بعد اقتدار میں واپسی، بی جے پی کا دہلی کے لیے ’مربوط ترقی‘ کا روڈ میپ

سدھارتھ رائے

نئی دہلی، 16 مارچ (یو این آئی) تقریباً تین دہائیوں کے بعد دہلی میں بی جے پی کی اقتدار میں واپسی کے ساتھ، وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کا کہنا ہے کہ حکومت کی توجہ ایک ایسے ماڈل پر ہے جسے وہ ’’مربوط ترقی‘‘ قرار دیتی ہیں،ایک ایسا ماڈل جو بنیادی ڈھانچے کی توسیع کو ماحولیاتی پائیداری اور سماجی خدمات سے جوڑتا ہے اس سوال کے جواب میں کہ آج کے طرزِ حکمرانی کے چیلنجز سابقہ حکومتوں کے مقابلے میں کتنے مختلف ہیں، گپتا نے کہا کہ ہر دور اپنی ترجیحات ساتھ لاتا ہے۔

...مزید دیکھیں
چیف اور ہوم سکریٹری کی برطرفی کے خلاف  ترنمول کانگریس نے راجیہ سبھا سے  کیا واک آؤٹ

چیف اور ہوم سکریٹری کی برطرفی کے خلاف ترنمول کانگریس نے راجیہ سبھا سے کیا واک آؤٹ

نئی دہلی، 16 مارچ (یو این آئی) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے ریاست کے چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری کو ہٹائے جانے کے خلاف ترنمول کانگریس کے ارکان نے پیر کو راجیہ سبھا سے دن بھر کے لئے واک آؤٹ کیا ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے متعلقہ دستاویزات پیش کیے جانے کے بعد وقفہ صفر سے قبل یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے ریاست کے چیف سکریٹری، پرنسپل سکریٹری اور ہوم سکریٹری کو رات کے اندھیرے میں ہی ہٹا دیا ہے۔

...مزید دیکھیں
حکومت نے سال 2025 کے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈز کا اعلان کر دیا

حکومت نے سال 2025 کے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈز کا اعلان کر دیا

نئی دہلی، 16 مارچ (یو این آئی) وزارتِ ثقافت نے پیر کے روز ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈز 2025 کے فاتحین کے ناموں کا اعلان کر دیا، جس میں ہندوستان کی 24 تسلیم شدہ زبانوں کے ممتاز ادیبوں کو اعزاز سے نوازا جائے گا وزارت کے حکام نے بتایا کہ ایوارڈز دینے کی باضابطہ تقریب 31 مارچ کو نئی دہلی میں منعقد کی جائے گی۔

...مزید دیکھیں
ملک میں  مسلسل روزگار بڑھ رہا ہے: مانڈویا

ملک میں مسلسل روزگار بڑھ رہا ہے: مانڈویا

نئی دہلی، 16 مارچ (یواین آئی) حکومت نے لوک سبھا میں پیر کو کہا کہ ملک میں مسلسل روزگار بڑھ رہا ہے اور بے روزگاری کم ہو رہی ہے مرکزی محنت و روزگار وزیر منسکھ مانڈویا نے ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں مسلسل روزگار بڑھ رہا ہے اور بے روزگاری کم ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معیشت بڑھتی ہے تو روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

...مزید دیکھیں

راجیہ سبھا کے لیے 35 امیدوار منتخب

16 Mar 2026 | 11:21 PM

نئی دہلی، 16 مارچ (یو این آئی) راجیہ سبھا کے اتوار کو منعقد ہونے والے دو سالہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے بہار کی تمام پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ اڈیشہ میں بی جے پی نے دو نشستیں جیت لیں اور اس کی حمایت سے ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوا۔ .

ایکانا میں ایل ایس جی کے میچوں کے لیے پہلی بارموبائل ٹکٹ کی سہولت

16 Mar 2026 | 11:08 PM

لکھنؤ، 16 مارچ (یو این آئی) لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) نے ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے اپنے میچوں کے لیے پہلی بار ایم ٹکٹ (موبائل ٹکٹ) کی سہولت شروع کی ہے۔ ٹیم انتظامیہ کے مطابق شائقین اب بک مائی شو پر آن لائن ٹکٹ بک کرتے ہی موبائل نمبرز پر ایم ٹکٹ حاصل کرسکیں گے، جنہیں اسٹیڈیم کے گیٹ پر اسکین کرکے براہ راست انٹری حاصل کی جاسکتی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ نے کہا کہ یہ سسٹم تماشائیوں کو کسی بھی آف لائن کاؤنٹر سے فزیکل ٹکٹ خریدنے کی ضرورت کو ختم کر دے گا، جس سے انٹری کا عمل تیز تر اور آسان ہو جائے گا۔ ایم آن لائن بک کئے جاسکیں گے، جس سے لوگوں کو ٹکٹ کاؤنٹر پر لائن میں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑے .