InternationalPosted at: Feb 13 2026 6:14PM ہند–بنگلہ دیش تعلقات : سرد مہری سے گرم جوشی تک

خصوصی تحریر:جینت رائے چودھری
نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی) ہندوستان کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی صبح ٹویٹ کر کے بنگلہ دیش کے قومی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی زبردست اکثریت سے کامیابی پر پارٹی کے چیئرمین طارق رحمٰن کو مبارکباد پیش کی, توقع ہے کہ مسٹر مودی نومنتخب رہنما کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ذاتی سطح پر بھی کوشش کرسکتے ہیں, بنگلہ دیش کے اعلیٰ حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان جلد بات چیت کا واضح امکان ہے جو دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہوسکتا ہے۔ یہ تعلقات کچھ عرصے سے سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ ڈھاکہ میں محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کے ساتھ ہندوستان کی بے چینی سب پر عیاں تھی۔ یہ تعلقات اس وقت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے جب یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ موجودہ حکومت نے بنگلہ دیش میں ہندوستانی مشن کے باہر احتجاج کو ہوا دی جن میں حملوں کے واقعات بھی شامل تھے۔ تاہم تجزیہ کار فوری طور پر گرم جوشی کی توقع نہیں کرتے بلکہ ایک محتاط اور مرحلہ وار پیش رفت کی بات کرتے ہیں۔ اگرچہ بی این پی کو کامیابی ملی ہے مگر رحمٰن کے لیے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو تیزی سے بہتر بنانا آسان نہیں ہوگا۔ بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں ہند مخالف جذبات ایک مؤثر سیاسی ہتھیار رہے ہیں۔ نئی دہلی سے حد سے زیادہ قربت کا تاثر ان کے مخالفین کو یہ الزام لگانے کا موقع دے سکتا ہے کہ نئی حکومت قومی مفادات پر سمجھوتہ کر رہی ہے۔ اسی لیے حساس نوعیت کے دوطرفہ معاملات—تجارت اور دریا کے پانی کی تقسیم—پر پیش رفت تیز رفتاری کے بجائے بتدریج اور محتاط انداز میں متوقع ہے۔
بنگلہ دیش طویل عرصے سے ہندوستانی منڈی تک رسائی میں توسیع اور زیرِ التوا آبی معاہدوں کے حل کا خواہاں ہے۔ ہندوستان کو سکیورٹی تعاون اور علاقائی اسٹریٹجک ہم آہنگی پر تشویش ہے۔ اعلیٰ ہندوستانی حکام کے مطابق مذاکرات 'عملی مگر محتاط انداز' میں آگے بڑھیں گے۔ بنگلہ دیش کے ممتاز دانشور اور مدیر ظفر سبحان کے مطابق آنے والی بی این پی حکومت کو خارجہ پالیسی کے علاوہ بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔
ان کے بقول 'ہندوستان کے ساتھ تعلق یقیناً ایک اہم مسئلہ ہے مگر یہ کئی بڑے امتحانات میں سے صرف ایک ہے۔' دوسرا بڑا چیلنج عوامی لیگ کے سیاسی مستقبل کا ہوگا۔ بی این پی طویل عرصے سے اپنے اس بڑے حریف پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ تاہم مکمل سیاسی اخراج داخلی اور بین الاقوامی سطح پر خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ سیاسی استحکام اور جمہوری ساکھ برقرار رکھنے کے لیے کسی حد تک مفاہمت ناگزیر ہوسکتی ہے۔ سب سے حساس مسئلہ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ سے متعلق ہے۔ حسینہ کی بنگلہ دیش واپسی سیاسی طور پر دھماکہ خیز ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے داخلی کشیدگی میں اضافہ، سڑکوں پر احتجاج اور حکومتی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بھی پیچیدہ ہوسکتے ہیں، جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔ دوسری جانب بی این پی کھلے عام ان کی ہندوستان میں جلاوطنی کی حمایت بھی نہیں کرسکتی کیونکہ اس سے سیاسی کمزوری کا تاثر مل سکتا ہے۔ لہٰذا نئی حکومت کے لیے غالباً کم سے کم نقصان دہ راستہ یہی ہوگا کہ حسینہ کو بیرونِ ملک رہنے دیا جائے، جبکہ رسمی طور پر ان کی واپسی کے مطالبے کی تائید کی جائے۔ آنے والے ہفتے بی این پی کی سیاسی حکمت عملی کا امتحان ہوں گے۔ اسے داخلی حلقوں کو مطمئن کرنا، منقسم سیاسی ماحول کو مستحکم کرنا اورہندوستان کے ساتھ تعلقات کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا، بغیر اس تاثر کے کہ وہ زیرِ اثر ہے۔ دیگر محاذوں پر بھی بی این پی کی حکمت عملی کی آزمائش ہوگی۔ صحافی اور ماہرین تعلیم جیسے شیامل دتہ اور پروفیسر ابوالبرکات، جنہیں قتل، جاسوسی اور بدعنوانی جیسے الزامات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا، فوری طور پر رہا نہ بھی ہوں لیکن اب جبکہ ڈھاکہ کی میڈیا پر عائد پابندیاں ختم ہو چکی ہیں، ان کے مقدمات غالباً انتقامی یا سرسری انداز میں نہیں چلائے جائیں گے۔ ڈھاکہ میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ عبوری حکومت کے کئی اعلیٰ مشیر ملک چھوڑ دیں گے جبکہ بعض اپنے پیشوں جامعات، میڈیا یا غیر سرکاری تنظیموں—کی طرف واپس لوٹ جائیں گے۔ قانونی مشیر آصف نذرل تحقیق کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔ خارجہ مشیر محمد توحید حسین تحریر و تصنیف پر توجہ دینا چاہتے ہیں، جبکہ خوراک و اراضی کے مشیر علی امام مجمدار دوبارہ کالم نگاری کریں گے۔ یونس کابینہ کی دو خواتین ارکان بھی اپنی این جی اوزکی طرف واپسی کی خواہاں ہیں۔ سماجی بہبود کی مشیر شرمین ایس مرشد انسانی حقوق کے لیے اپنی این جی او 'بروتی' میں واپس جائیں گی، جبکہ ماحولیاتی تبدیلی کی مشیر سیدہ رضوانہ حسن اپنی قانونی این جی او 'بیلا' میں دوبارہ خدمات انجام دیں گی۔
یو این آئی ۔ایس وائی