NationalPosted at: Jul 15 2026 9:32PM ہند-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ: تجارتی معاہدے سے معاشی تبدیلی تک

ڈاکٹر روپا دتہ اور اتسو نائک
نئی دہلی، 15 جولائی (یو این آئی) ہندوستان اس وقت اپنی تجارتی پالیسی میں ایک اہم اور فیصلہ کن تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، ماریشس، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، ای ایف ٹی اے ممالک، یورپی یونین اور برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے بعد نئی دہلی پہلی بار تجارتی پالیسی کو محض درآمد و برآمد کی بجائے معاشی حکمت عملی کے فعال آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
جولائی 2025 میں دستخط شدہ ہند-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ ان معاہدات میں سب سے زیادہ ساختیاتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ معاہدہ اس لیے بھی نمایاں ہے کہ اس کی شعبہ جاتی ساخت ایک ترقی یافتہ اعلیٰ آمدنی والی معیشت اور ایک بڑی ترقی پذیر معیشت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے میں موجود بنیادی عدم توازن کو نمایاں کرتی ہے۔ عدم توازن کو سمجھنا اور ان پر قابو پانے کے لیے داخلی حکمت عملی تیار کرنا، ہندوستان کی موجودہ تجارتی پالیسی کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
ہندوستان کی سب سے مضبوط تقابلی برتری خدمات کے شعبے میں ہے، جن میں آئی ٹی-بی پی ایم، ڈیجیٹل انجینئرنگ، پیشہ ورانہ مشاورت، مالیاتی خدمات اور صحت کی خدمات شامل ہیں۔ سی ای ٹی اے کے خدمات سے متعلق شعبے میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ برطانیہ نے خدمات کے تمام 12 بڑے شعبوں اور 137 ذیلی شعبوں میں مراعات دی ہیں، جو ہندوستانی خدمات کی برآمدات کے 99 فی صد سے زیادہ مفادات کا احاطہ کرتی ہیں۔
اس کے ساتھ ڈبل کنٹری بیوشن کنونشن بھی فروری 2026 میں طے پایا، جو سی ای ٹی اے کے ساتھ نافذ ہوا۔ اس کے تحت برطانیہ میں عارضی طور پر کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں کو دوہری سماجی تحفظ کی ادائیگی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ابتدائی طور پر اس رعایت کی مدت تین سال تجویز کی گئی تھی، جسے بڑھا کر پانچ سال کر دیا گیا، جس سے برطانوی منڈی میں ہندوستانی افرادی قوت بھیجنے کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔
تاہم موڈ 4 (افرادی قوت کی نقل و حرکت) اس معاہدے کا سب سے اہم غیر حل شدہ مسئلہ ہے۔ ہندوستان اپنی انسانی صلاحیت سے مکمل فائدہ صرف معاہدے کی شقوں سے نہیں بلکہ ویزا اور ورک پرمٹ کے مؤثر نفاذ سے ہی اٹھا سکتا ہے۔ برطانیہ میں امیگریشن سے متعلق سیاسی حساسیت کے باعث عملی سطح پر کئی انتظامی رکاوٹیں موجود ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں ہندوستان کی خدمات کی برآمدات کی بڑی صلاحیت ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
مستقبل میں ہندوستان کو چاہیے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مستقل نگرانی کا نظام قائم کرے تاکہ افرادی قوت کی نقل و حرکت سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد، اس کے استعمال کی شرح اور درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر فنِ تعمیر، انجینئرنگ، اکاؤنٹنسی اور قانونی خدمات جیسے شعبوں میں پیشہ ورانہ اسناد کو برطانوی معیارات سے ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہوگا۔ سی ای ٹی اے نے راستہ کھول دیا ہے اور ڈی سی سی نے اس راستے پر چلنا آسان بنایا ہے، اب ہندوستانی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پیشہ ور افراد کو اس سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائیں۔
گاڑیوں کے شعبے سے متعلق دفعات ہندوستان کی مذاکراتی حکمت عملی اور اس کی حدود دونوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ معاہدے کے تحت برطانیہ میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی، جو پہلے 110 فی صد سے زائد تھی، ٹیرف ریٹ کوٹہ کے تحت بتدریج 15 برسوں میں کم ہو کر 10 فی صد تک پہنچے گی۔ 9 جولائی 2026 کو ڈی جی ایف ٹی کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق ابتدائی مرحلے میں سالانہ 20 ہزار گاڑیوں کی اجازت ہوگی، جو پانچویں سال تک بڑھ کر 37 ہزار ہو جائے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ برقی، ہائبرڈ اور ہائیڈروجن گاڑیاں ابتدائی پانچ برسوں تک اس رعایت سے مکمل طور پر خارج رکھی گئی ہیں۔ اس کے بعد بھی صرف وہ مہنگی برقی گاڑیاں رعایت کی مستحق ہوں گی جن کی قیمت 40 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہو، جبکہ اس سے کم قیمت والی گاڑیاں مستقل طور پر رعایت سے باہر رہیں گی۔ اس کا مقصد ہندوستانی برقی گاڑیوں کی صنعت اور بڑے پیمانے پر تیار ہونے والی مقامی گاڑیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جب کہ لگژری برانڈز جیسے جیگوار، لینڈ روور، منی اور بینٹلے کو محدود رسائی دی گئی ہے۔
کسی بھی آزاد تجارتی معاہدے کی حقیقی افادیت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ برآمد کنندگان اس سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سی ای ٹی اے کے تحت رعایتی ٹیرف حاصل کرنے کے لیے رولز آف اوریجن کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے، جن میں عموماً 40 تا 45 فی صد علاقائی قدر اور ٹیرف سب ہیڈنگ میں تبدیلی شامل ہے۔
ہندوستانی برآمد کنندگان خصوصاً ایم ایس ایم ایز، جو ٹیکسٹائل، چمڑے، انجینئرنگ مصنوعات اور پروسیسڈ فوڈ کے شعبوں میں سرگرم ہیں، ان تقاضوں پر عمل درآمد کو ایک بڑا عملی چیلنج سمجھتے ہیں۔ اس لیے ان اداروں کو رہنمائی، تربیت اور سرٹیفکیشن کی سہولت فراہم کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ معاہدے کے فوائد حقیقی برآمداتی آمدنی میں تبدیل ہوسکیں۔
علاوہ ازیں، ہندوستان کو کثیر ملکی اور علاقائی "کمولیشن" معاہدوں کی طرف بھی پیش قدمی کرنی چاہیے تاکہ شراکت دار ممالک سے حاصل کیے گئے خام مال کو بھی اصل قواعد میں شامل کیا جا سکے۔ یہ خاص طور پر برقی گاڑیوں کے پرزہ جات، الیکٹرانکس اور طبی آلات جیسی پیچیدہ عالمی سپلائی چینز کے لیے اہم ہوگا۔
صرف منڈی تک رسائی کافی نہیں۔ اگر ہندوستان 2030 تک ایک کھرب امریکی ڈالر کی اشیائی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی تجارتی بنیادی ڈھانچے کو تیز، شفاف اور کم لاگت والا بنانا ہوگا۔ تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹلائزیشن، جی ایس ٹی پلیٹ فارم کو بندرگاہوں اور ڈی جی ایف ٹی کے نظام سے جوڑنا، اور ٹریڈ انفراسٹرکچر فار ایکسپورٹ اسکیم کے تحت سرمایہ کاری، یہ سب انتظامی اقدامات نہیں بلکہ عالمی مسابقت کے لیے ناگزیر تقاضے ہیں۔
ایم ایس ایم ایز کے لیے جدید تجارتی معاہدوں میں شامل نئے تقاضے، جیسے رولز آف اوریجن سرٹیفکیٹ، پائیداری سے متعلق معلومات، کاربن فٹ پرنٹ کی رپورٹنگ اور مصنوعات کی مکمل ٹریس ایبلٹی، مزید چیلنج پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے ایکسپورٹ پروموشن مشن، ایم ایس ایم ایز کے لیے انٹرسٹ ایکولائزیشن اسکیم کی بحالی، بین الاقوامی فیکٹرنگ سپورٹ اور ضلعی سطح پر برآمدی مراکز کا قیام اہم اقدامات ہیں، جن کے ذریعے مقامی صنعتوں کو عالمی سپلائی چین سے جوڑا جا سکتا ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ ہند-برطانیہ سی ای ٹی اے نہ کوئی جادوئی حل ہے اور نہ ہی کوئی بوجھ۔، یہ ایک ایسا فریم ورک ہے جس کی کامیابی کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہوگا کہ ہندوستان اس سے کس حد تک فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس معاہدے میں موجود ساختیاتی عدم توازن حقیقت ہیں۔ برطانیہ کو گاڑیوں اور مشروبات کے شعبے میں فوری فوائد حاصل ہوتے ہیں، جب کہ ہندوستان کی بڑی کامیابیاں خدمات اور اشیا کی برآمدات میں مؤثر عمل درآمد، افرادی قوت کی نقل و حرکت اور داخلی مسابقت پر منحصر ہیں۔
موڈ 4 سے متعلق مسائل اس معاہدے کی سب سے اہم کمزوری ہیں۔ اگر ہندوستان ان رکاوٹوں کو دوطرفہ نگرانی، پیشہ ورانہ اسناد کی ہم آہنگی اور مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے دور کر لے تو یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر ہندوستان کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدے ایک اہم سبق دیتے ہیں کہ ایسے معاہدے ترقی کے محرک نہیں بلکہ ترقی کو تیز کرنے والے عوامل ہوتے ہیں۔ یہ صرف اسی وقت فائدہ پہنچاتے ہیں جب ملک پہلے سے مسابقتی پیداوار، مضبوط اصلاحات اور مؤثر ادارہ جاتی صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر ہندوستان برطانیہ، یورپی یونین، امریکہ اور خلیجی ممالک میں رعایتی تجارتی رسائی کو دیرپا برآمدی برتری میں بدلنا چاہتا ہے تو اسے مذاکراتی کامیابی کے ساتھ ساتھ اندرونی معاشی ڈھانچے کو بھی اسی حکمت عملی اور سنجیدگی سے مضبوط بنانا ہوگا۔
(ڈاکٹر روپا دتہ حکومتِ ہند کی سابق پرنسپل اقتصادی مشیر ہیں اور اس وقت ایک معروف تھنک ٹینک میں فیلو ہیں جب کہ اتسو نائک اسی ادارے میں ریسرچ اینالسٹ ہیں۔ اس مضمون میں مصنفین کے اظہار کردہ خیالات ذاتی نوعیت کے ہیں۔)
یواین آئی۔ ۔ ع م م س ۔ م الف