InternationalPosted at: Dec 7 2025 5:58PM اسرائیلی صدر نے ٹرمپ کی نیتن یاہو کو معافی دینے کی اپیل مسترد کر دی

یروشلم، 07 دسمبر (یواین آئی) اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس اپیل کو مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات پر معافی دی جائے۔ ہرتصوغ نے یہ بات امریکی خبر رساں ویب سائٹ "پولیٹیکو" کو دیے گئے بیان میں کہی ۔ہرتصوغ نے کہا: میں صدر ٹرمپ کی دوستی اور ان کی رائے کا احترام کرتا ہوں، انہوں نے غزہ کی پٹی سے قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانے میں ٹرمپ کے کردار کی تعریف کی۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے اور اس کے قانونی نظام کا مکمل احترام ہونا چاہیے۔
نیتن یاہو پر گزشتہ پانچ سے زیادہ برسوں سے فراڈ، امانت میں خیانت اور رشوت کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔
ٹرمپ نے ہرتصوغ پر بارہا زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو معافی دیں، جن میں ایک حالیہ دستخط شدہ خط بھی شامل ہے جسے ہرتصوغ کے دفتر نے جاری کیا۔خط میں کہا گیا کہ ٹرمپ اسرائیلی عدلیہ کی آزادی کا احترام کرتے ہیں، لیکن ان کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو پر عائد الزامات سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔
امریکی صدر نے یہ معاملہ گزشتہ اکتوبر میں اسرائیلی پارلیمنٹ کے دورے کے دوران بھی اٹھایا تھا۔ہرتصوغ کے دفتر نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو نے باضابطہ طور پر اسرائیلی صدر سے معافی کی درخواست کی ہے۔
ہرتصوغ کا کہنا ہے کہ اس درخواست کو اس وقت ایک ایسے طریقہ کار کے تحت دیکھا جا رہا ہے، جس میں وزارتِ انصاف اور ان کے دفتر کی قانونی مشاورتی ٹیم شامل ہے۔
انہوں نے کہا: یہ یقیناً ایک غیر معمولی درخواست ہے اور سب سے بڑھ کر اس پر غور کرتے ہوئے میں یہی دیکھوں گا کہ اسرائیلی عوام کے بہترین مفاد میں کیا ہے۔ اسرائیلی عوام کی فلاح و بہبود میری پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح ہے۔
یواین آئی۔ م س