Saturday, May 16 2026 | Time 17:21 Hrs(IST)
National

شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف کا بیان اتحاد کی علامت، پروپیگنڈہ بے بنیاد

شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف کا بیان اتحاد کی علامت، پروپیگنڈہ بے بنیاد

نئی دہلی، 6 مئی (یو این آئی) مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ (ایم آئی ایف) نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری منظم اور مذموم مہم کے تناظر میں ایک اہم ملک گیر آن لائن اجلاس منعقد کیا، جس میں ملک کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے ممتاز اساتذہ، سینئر محققین، دانشوران اور علمی حلقوں کے نمائندگان نے شرکت کی، اجلاس میں پروفیسر مظہر آصف کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا اور ان کے خلاف جاری بے بنیاد مہم کو قومی اور علمی وقار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی پرزور مذمت کی گئی۔
اجلاس میں شرکاء نے اس امر پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کیا کہ پروفیسر مظہر آصف کے حالیہ بیان "تمام ہندوستانیوں کا ڈی این اے مہادیو سے جڑا ہوا ہے" کو دانستہ، منظم اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا اور ایک اہم علمی و تہذیبی گفتگو کو ایک بے معنی اور مصنوعی تنازعے میں بدل دیا گیا۔
مقررین نے واضح کیا کہ پروفیسر مظہر آصف کے مذکورہ بیان کو محض ایک حیاتیاتی یا سائنسی دعویٰ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنانا انتہائی سطحی، گمراہ کن اور فکری دیانت کے یکسر منافی ہے۔ درحقیقت یہ بیان ایک گہرا تہذیبی، فلسفیانہ اور صوفیانہ استعارہ ہے جو ہندوستان کی ہزاروں سال پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافتی تسلسل، روحانی ہم آہنگی اور اجتماعی تہذیبی شعور کی بلیغ عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی خصوصی زور دیا گیا کہ ہندوستانی تہذیب، خاص طور پر صوفیانہ روایت، ابتدا سے ہی علامتی زبان اور استعاراتی اسلوب کے ذریعے وحدتِ انسانی، مذہبی رواداری اور روحانی ہم آہنگی کا پیغام دیتی آئی ہے۔ کبیر داس ہوں، امیر خسرو ہوں، بلے شاہ ہوں یا رحیم، سبھی نے اس سرزمین کو اپنے وجود اور تخیل کا مرکز بنایا اور ایسے بیانات انہی کی فکری روایت کا تسلسل ہیں۔ ایسے گہرے علمی بیانات کو ان کے تہذیبی و فکری پس منظر سے الگ کر کے سوشل میڈیا کی بھیڑ کے سامنے پیش کرنا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ علمی بددیانتی کا صریح مظاہرہ ہے۔
پروفیسر نفیس احمد، ڈائرکٹر گیمز اینڈ اسپورٹس، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک سنجیدہ، متوازن اور فکری گہرائی سے بھرپور علمی گفتگو کو دانستہ طور پر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اسے ایک غیر ضروری اور مصنوعی تنازع میں تبدیل کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر جاری یہ مہم اس بات کی غماز ہے کہ ہمارے معاشرے میں تحمل، مکالمہ اور علمی مباحث کی روایت رفتہ رفتہ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ پروفیسر مظہر آصف ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ علم، مکالمے اور تہذیبی یکجہتی کا علم بلند رکھا ہے۔ ان کا یہ بیان ہندوستان کی مشترکہ روح کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم علمی حلقے متحد ہو کر ایسی گمراہ کن مہمات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور علمی دیانت کا دفاع کریں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ"پروفیسر مظہر آصف کا بیان دراصل ایک گہرے تہذیبی اور فلسفیانہ شعور کا اظہار ہے۔ انہوں نے مذہبی و ثقافتی روایت میں علامتی اور عقلی تعبیر کے مابین فرق کو نہایت خوبصورتی سے واضح کیا۔ صوفیانہ روایت میں ایسے استعارے ہمیشہ سے انسانی وحدت، روحانی ربط اور مشترکہ تہذیبی وراثت کی علامت رہے ہیں۔ اس بیان کو اس کے سیاق سے الگ کر کے پیش کرنا نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ اس ملک کی مشترکہ روایت کو نقصان پہنچانے کی ایک شعوری کوشش بھی ہے۔ پروفیسر مظہر آصف نے تصوف اور ہندوستانی تہذیب کے میدان میں دہائیوں کی تحقیق اور خدمت انجام دی ہے، اور ان پر اس طرح کی ناروا اور بے بنیاد تنقید ان کے علمی مقام کی توہین ہے۔ ہم بحیثیتِ علمی برادری اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ کے نائب صدر ڈاکٹر شہباز عامل، اسسٹنٹ پروفیسر، سینٹر آف فارسی اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، جے این یو، نے کہا: "اختلافِ رائے ایک صحت مند علمی روایت کا حصہ ہے اور اس کی ہم پرزور حمایت کرتے ہیں۔ مگر اس کا اظہار دلیل، تحقیق، علمی شواہد اور شائستگی کے ساتھ ہونا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا کی ٹرولنگ اور غلط بیانی کے ذریعے۔ کسی بھی علمی شخصیت کو نشانہ بنا کر ذاتی حملے کرنا ہمارے علمی اور اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ علمی گفتگو کو دانستہ طور پر توڑ مروڑ کر پیش کرنا فکری دیانت کے سراسر خلاف ہے۔ جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں وہ نہ صرف پروفیسر مظہر آصف پر، بلکہ علم، تحقیق اور مکالمے کی پوری روایت پر حملہ آور ہیں۔ ہمیں آج اس روایت کا دفاع کرنا ہوگا، کیونکہ اگر علمی اداروں میں بھی سیاست اور پروپیگنڈا علم پر غالب آ جائے تو یہ پوری قوم کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہو۔
انتظامی اصلاحات کے حوالے سے ڈاکٹر محسن علی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بتایاکہ"غیر مستقل ملازمین، جو برسوں سے اپنی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے لیے ترس رہے تھے، کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا گیا۔ سیکڑوں غیر مستقل ملازمین کو بروقت اور باقاعدہ تنخواہیں ملنے لگیں، جو پروفیسر آصف کی انسانی ہمدردی اور عملی قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انتظامی شفافیت میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا، فائلوں کے تصفیے کا عمل تیز تر ہوا، اور کیمپس میں نظم و ضبط اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ ایک اور نہایت اہم اقدام جس کا انہوں نے خصوصی طور پر ذکر کیا وہ فیکلٹی کی ترقی کا مسئلہ تھا۔ جامعہ میں اساتذہ کی ترقی کا عمل گزشتہ کئی برسوں سے التوا کا شکار تھا، اور متعدد لائق و محنتی اساتذہ اپنی بروقت ترقی کے منتظر تھے۔ پروفیسر مظہر آصف نے اس اہم مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھایا اور اسے مؤثر انداز میں انجام دیا، جس سے جامعہ کے اساتذہ میں حوصلے اور اعتماد کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ یہ اقدام نہ صرف انتظامی کارکردگی کا ثبوت ہے بلکہ اساتذہ کی قدردانی اور جامعہ کے علمی ماحول کو بہتر بنانے کی واضح علامت بھی ہے۔
اس اجلاس میں شریک ڈاکٹر ذوالفقار علی انصاری، ایسوسی ایٹ پروفیسر، انڈیا-عرب کلچرل سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ پروفیسر مظہر آصف کا طرزِ قیادت انتہائی سادہ، انسان دوست، زمینی ،عملی اور طلباء کے ساتھ پدرانہ ہے، ایک ایسی قیادت جو دفتر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ زمینی سطح پر سانس لیتی ہے۔ وہ محض دفتری سطح تک محدود نہیں رہتے، بلکہ براہِ راست ملازمین اور طلبہ کے مسائل سننے اور ان کو حل کرنے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں۔ صفائی عملے کے ساتھ کھڑے ہو کر کیمپس کی صفائی کا جائزہ لینا، مالی کے ساتھ مل کر پودوں کی دیکھ بھال میں شریک ہونا، چھوٹے سے چھوٹے ملازم کے مسائل کو صبر اور توجہ کے ساتھ سننا، اور طلبہ کی علمی و ذاتی مشکلات میں براہِ راست دلچسپی لینا، یہ سب ان کی روزمرہ قیادت کا حصہ ہیں۔ یہ روّیہ نہ صرف ایک مثالی اور عوام دوست انتظامی کردار کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ہندوستانی یونیورسٹیوں میں قیادت کا ایک نیا اور قابلِ تقلید معیار بھی قائم کرتا ہے"۔
مقررین نے افسوس کے ساتھ اس بات کا بھی اظہار کیا کہ بعض عناصر ذاتی مفادات، پرانی ذہنیت اور حسد کے تحت جامعہ کی ترقی اور اصلاح کے عمل کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ایک متحرک، اصلاح پسند اور دیانتدار قیادت کو نشانہ بنا کر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ نہ صرف جامعہ کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ ملک کی مجموعی علمی، تعلیمی اور تہذیبی ترقی کے لیے بھی سخت نقصان دہ ہے۔ اس طرح کی مہمات کا مقصد نہ صرف ایک شخصیت کو نشانہ بنانا ہے بلکہ جامعہ کے علمی ماحول کو آلودہ اور تعلیمی اصلاحات کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔
مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ نے اجلاس کے اختتام پر ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اہلِ علم کی پرزور حمایت اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو تعلیم، اصلاح، مکالمے اور قومی یکجہتی کا علم بلند رکھتے ہیں، نہ کہ انہیں بے بنیاد تنقید، ٹرولنگ اور پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جائے۔ فرنٹ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پر علمی شخصیات کے خلاف منظم بدنامی کی مہمات کو روکنے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔
آخر میں، مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ نے پروفیسر مظہر آصف کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے اپنا موقف واضح الفاظ میں بیان کیا: "پروفیسر مظہر آصف پر حملہ دراصل علم پر حملہ ہے، مکالمے پر حملہ ہے، تہذیبی شعور پر حملہ ہے اور ہندوستان کی مشترکہ وراثت پر حملہ ہے، اور ہم اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔"
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف

خاص خبریں

وزیر اعظم نریندر مودی کے یو اے ای کے دورے کے بعد نیدرلینڈز میں ہندوستانی برادری کی طرف سے شاندار استقبال

نئی دہلی، 16 مئی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کو (ہندوستانی وقت کے مطابق) نیدرلینڈز پہنچے جہاں ہندوستانی برادری نے ان کا شاندار استقبال کیا۔

...مزید دیکھیں

مودی نے سکم کے یومِ تاسیس پر مبارکباد دی، ریاست کی ترقی کے لیے مرکز کے تعاون کا یقین دلایا

نئی دہلی، 16 مئی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندرمودی نے ہفتہ کے روز سکم کے یومِ تاسیس کے موقع پر ریاست کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔

...مزید دیکھیں

وزیراعظم مودی ایمسٹرڈیم پہنچے، ہند۔ نیدرلینڈز کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا عزم

نئی دہلی، 16 مئی (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ایمسٹرڈیم پہنچ گئے۔

...مزید دیکھیں

چین اور امریکہ کا تصادم دونوں ممالک اور پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے: وانگ ای

بیجنگ، 16 مئی (اسپوتنک/یو این آئی): چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد کہا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان ٹکراؤ دونوں ممالک اور پوری دنیا کے لیے ایک بڑی آفت ثابت ہو سکتا ہے۔

...مزید دیکھیں

کیرالہ کابینہ اور محکموں کی تقسیم کو حتمی شکل دینے کے لیے یو ڈی ایف کی آج اہم میٹنگ

ترواننت پورم، 16 مئی (یو این آئی) کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) نے پیر کو ہونے والی حلف برداری تقریب سے پہلے نئی کیرالہ کابینہ کی تشکیل کو حتمی شکل دینے کے لیے ہفتہ کو فیصلہ کن بات چیت شروع کر دی ہے۔

...مزید دیکھیں

شاہبیری مارکیٹ میں شارٹ سرکٹ سے لگی آگ، 8 دکانیں متاثر، کئی دکانوں کو بچایا گیا

گریٹر نوئیڈا، 16 مئی (یو این آئی) اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا کے بسراخ تھانہ علاقے میں واقع شاہبیری مارکیٹ میں جمعہ کے روز اچانک شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس کی دکانوں تک پھیل گئی۔

...مزید دیکھیں

پنکج ادھاس تین آخری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

16 May 2026 | 7:42 AM

اس فلم کی کامیابی کے بعد پنکج کو کئی فلموں میں گانے کا موقع ملا۔ ان فلموں میں گنگا جمنا سرسوتی، بہار آنے تک،تھانیدار، ساجن، دل آشنا ہے، پھر تیری کہانی یاد آئی، یہ دل لگی، مہرا، میں کھلاڑی تو اناڑی، مجدھار، گھات اور یہ ہے جلوہ اہم ہیں۔ .