InternationalPosted at: Aug 17 2026 10:45PM ملک وملت کی تعمیر وترقی کیلئے اسلاف کی قربانیاں مشعل راہ ہیں : مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی

نئی دہلی: 17 اگست (یو این آئی) وطن عزیز کا ہر خاص وعام جانتا ہے کہ کتنی قربانیوں اور کس طرح کے خونچکاں حالات اور پرآشوب دور سے گزر کر ،خون جگر جلا کر ،گردن کٹا کر،مصیبتیں جھیل کر اور دار ورسن کے منازل طے کرکے صبح آزادی نصیب ہوئی ہے جس کا ادنیٰ احساس کرتے ہی دل دہلتاہے اور آنکھوں سے خون کے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ”جد وجہد آزادی میں اسلاف کی قربانیاں ملک وملت کی تعمیر و ترقی کے لیے رول ماڈل “ کے عنوان سے منعقدہ قومی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
جاری ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اسلاف کی روشن تاریخ سے نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ جدوجہد آزادی اور تعمیر ملک ملت کے حوالے سے اپنے اسلاف کی قربانیوں کو جان سکیں۔نعمت آزادی کی قدر کریں اور اس عظیم امانت کی حفاظ کریں ۔
انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ آزادی سب سے بڑی نعمت ہے اور سب سے بڑی دولت بھی، اس کے بغیر ایک انسان کچھ بھی نہیں ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کے پاس لاٹھی ہے تواسے جہاں چاہیں ،جیسے چاہیں گھماتے پھریں گے، بلکہ آپ کی لاٹھی سامنے والے کی ناک تک پہنچنے سے پہلے ہی آپ کی آزادی کوختم کردیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پدرم سلطان بود اس لئے نہیں کہا جاتا کہ ہم فخر کریں بلکہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں۔ جب ان کے مابین کوئی تفریق پیدا کرنے اورکسی طرح کی مذہبی،جغرافیائی اور لسانی اختلاف ڈالنے کی کوشش کرتا تو کوئی سرسید کی طرح کھڑا ہوجاتا کہتا کہ کیوں بٹ رہے ہو۔ بھارت ایک خوبصورت دلہن ہے اورتمہاری کھینچا تانی میں اگر اس کی انتہائی خوبصورت آنکھیں متاثر ہوتی ہیں تو یہ دلہن بھینگی اور کانی ہوجائے گی۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ہندومسلم،سکھ عیسائی اتحاد اور بھائی بھائی کے نعرے کو عملی جامہ پہنایا اور نفرت کے ہر فتنے کو مٹایاتب آزادی کی صبح نصیب ہوئی۔
امیر محترم نے مزید کہا کہ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ ہمارے اسلاف نے کن لوگوں کے خلاف جنگ لڑی اور آزادی حاصل کی تب تک ہم ٹکراﺅ اور تقسیم کی ذلت سے نہیں بچ پائیں گے ۔بنگال سے کون لوگ اٹھے تھے، فرائضی تحریک کہاں سے اٹھی اور کہاں پہنچی، یہ سب ہمارے نوجوانوں اور بچے بچے کو جاننے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر تحریک شہیدین اور صادقان صادق پور کو یاد رکھنا ہوگا۔مولانا ابولکلام آزاد کے بقول آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑے ہوکر یہ اعلان کردے سوراج24گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتحاد سے دستبردار ہوجائے تو میں سوراج سے دستبردار ہوجاوں گامگر ہندومسلم اتحا د سے دستبردار نہیں ہوں گا۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی نے امیر محترم کی مساعی جمیلہ کا خوبصورت انداز میں ذکر کیا اورکہا کہ وطن عزیز بے شمار قربانیوں کے بعد آزاد ہوا۔ جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والوں کو یاد کرنا ہمارے بیدار ہونے کی دلیل ہے۔
قبل ازیں ناظم اجلاس ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے تمام مقررین و شرکاءکا بصمیم قلب مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کے ذمہ داران کی طرف سے استقبال کیا اور جدوجہد آزادی کے مختلف مراحل کا تذکرہ کرتے ہوئے مجاہدین آ؟کی مساعی جمیلہ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آج کے اس عظیم الشان سمپوزیم کا تھیم یہی ہے کہ ملک وملت کی تعمیر وترقی کیلئے اسلاف کی قربانیوں کو رول ماڈل مانتے ہوئے اپنے حصہ کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
سمپوزیم میں مولانا صلاح الدین مقبول مدنی ،سرپرست مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے جدوجہد آزادی میں علماءاہل حدیث کا کردار کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اسلاف کی قربانیوں کا تفصیلی تذکرہ کیااور بطور خاص یہ شعر پڑھا کہ”خون دل دے کے سنوارا ہے رخ برگ گلاب، ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔مولانا نے سمپوزیم کے انعقاد کومبارک اقدام بتایا اور نعمت آزادی کی قدر کرنے کی تلقین کی۔
پدم شری پروفیسر اختر الواسع ،پروفیسر ایمیریٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے اپنے تاثراتی کلمات میں ذمہ داران جمعیت خصوصا امیر جماعت مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے موضوع پر سمپوزیم کا انعقاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ علمائے صادق پور کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جن مدرسوں کو دہشت گردی کا اڈہ کہا جارہا ہے یہ وہی مدرسے ہیں جنہوں نے انگریزوں سے ملک کو آزادی دلانے کے لیے جد و جہد کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ علماءکا کارنامہ ہے کہ انہوں نے ملک کو آزاد کرانے کے ساتھ مذہب کا تحفظ بھی کیا۔
مولانا مفتی عطاءالرحمن قاسمی صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ، دہلی نے کہا کہ 1857ءیا اس سے پہلے کی تحریک آزادی پر غور کیا جائے تو ایک بات جو نکھر کر سامنے آتی ہے یہ تحریک کسی خاص طبقے یا مذہب کی تحریک نہیں تھی بلکہ یہ ہندو مسلم اتحاد کی تحریک تھی۔ اور سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ دیش کو ہرصورت میں انگریزوں سے آزاد کرائیں گے۔
مولانا رضوان رفیقی اسسٹنٹ سکریٹری جماعت اسلامی ہند نے اپنے تاثراتی کلمات میں کہا کہ ہمارے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہم لوگ جنگ آزادی کے اصل ہیروﺅں کو یاد کررہے ہیں۔ انہوں نے سمپوزیم کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آزادی ہمارے اسلاف کی جد و جہد سے عبارت ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلاف کے ان کارناموں کو نئی نسل کے سامنے سادہ اسلوب میں پیش کیا جائے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے شعبہ اردو کے پروفیسر ندیم احمد نے اسے وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اپنے موضوع”نعمت آزادی اور اس کے تقاضے“پر پرمغز گفتگو کی اور آزادی کا صحیح مفہوم واضح کیا اور آزادی کے کیا کیا تقاضے ہیں اس پربھرپور روشنی ڈالی اور کہا کہ آزادی کی قدر کریں۔
مولانا اظہر مدنی ڈائریکٹر اقراءانٹر نیشنل اسکول ، جیت پور، نئی دہلی نے جد و جہد آزادی میں علماءصادق پور کی قربانیاں“ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کئی تاریخی کتابوں کے حوالے سے کہا کہ آزادی کی تحریک میں علماءاہل حدیث پیش پیش رہے ہیں۔ خاص طور سے ملک کو آزادی دلانے میں علماءصادق پور کا بہت اہم اور ناقابل فراموش کردار رہا ہے۔ جس سے نئی نسل کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔
ایڈوکیٹ رئیس احمد ممبر ایڈوکیٹ پینل حکومت دہلی نے ”انسانی زندگی میں امن وقانون کی پاسداری“ کے عنوان پر اظہا ر خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان بہت پر امن اور امن پسند ہیں۔ ہندوستان کے علماءمبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوںنے ملک میں حالات کو خراب ہونے نہیں دیا۔
ڈاکٹر جنید حارث استاذ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی نے” قومی یکجہتی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ وقت کی بڑی ضرورت“ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے جمعیت اہلحدیث ہند کو کتاب وسنت کی امین قراردیا اور کہا کہ جمعیت و جماعت سے وابستہ افراد فرقہ واریت کے خلاف ہمیشہ سینہ سپررہے۔ انہوں نے اتنے اہم موضوع پر سمپوزیم کرانے پر مرکزی جمعیت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے اسلاف نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بقاکے لیے لڑائی لڑی ۔ ہمارا خواب اکھنڈ بھارت کا ہے۔
پروفیسر مظہر علی سلفی استاذ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نے” آزادی کا تحفظ- خوشحالی اور پر امن بقائے باہمی کا ضامن“ کے موضوع پر اظہارخیال کیا۔
حافظ محمد یوسف ،نائب ناظم مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے متحدہوکر یہ فیصلہ کیا کہ اب ہمیں یہیں مرنا اور جینا ہے ۔ آج پھر ضرورت ہے کہ کوئی ابوالکلام آزاد پیدا ہو اور ہماری رہنمائی کرے اور ہمیں ذہنی غلامی سے آزاد کرائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔