Sunday, Sep 6 2026 | Time 04:42 Hrs(IST)
International

جمعیۃ علماء ہندکا سیلاب متاثرین کے لیے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص، جمعیۃ علماء مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ بلا تفریق مذہب و ملت کھڑی ہے: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہندکا سیلاب متاثرین کے لیے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص، جمعیۃ علماء مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ بلا تفریق مذہب و ملت کھڑی ہے: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی/آسام، 18 اگست (یو این آئی) بالائی آسام میں تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد اور خاندانوں کی فوری امداد اور مستقل بازآبادکاری کے لیے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء آسام کی جانب سے بڑے پیمانے پر امدادی و بازآبادکاری مہم جاری ہے۔ یہ مہم صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت و سرپرستی اور صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر کی نگرانی میں سیلاب کے ابتدائی دنوں ہی سے جاری ہے۔
اس جامع مہم کے تحت غذائی اور گھریلو امداد کی فراہمی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا گھر گھر سروے، نقصانات کی درجہ بندی، مستحق خاندانوں کو براہِ راست مالی تعاون، جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی خصوصی مدد، یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت اور متاثرہ خاندانوں کی مستقل بازآبادکاری کا کام کیا جارہا ہے۔
بالائی آسام کے سیلاب نے بڑی تعداد میں خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ متعدد مکانات، گھریلو سامان اور ذرائع معاش تباہ ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرین کے سامنے فوری ریلیف کے ساتھ مستقبل کی بازآبادکاری کا بھی سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے بالائی آسام میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مالکِ کائنات کے بندے ہیں اور اس کے ہر فیصلے پر سرِ تسلیم خم کرتے ہیں، کیونکہ بندگی کا تقاضا یہی ہے۔ وہی ہر پریشانی کا حقیقی مداوا کرنے والا ہے، تاہم اسباب کے درجے میں جمعیۃ علماء ہند، اس کے خدام اور اس کی شاخیں اپنی استطاعت بھر مولانا مشتاق عنفر کی نگرانی میں متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔
مولانا مدنی نے کہا کہ کوئی مصیبت یہ پوچھ کر نہیں آتی کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان۔ جب قدرتی آفت آتی ہے تو سب کو اپنی زد میں لیتی ہے۔ بالائی آسام کے متاثرین میں بھی مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں کے لوگ شامل ہیں اور جمعیۃ علماء ہند بلا تفریق مذہب و ملت سب کی مدد کررہی ہے۔ یہی انسانیت کا تقاضا ہے اور یہی ہمیں ہمارا مذہب اسلام بھی سکھاتا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی ایک طویل تاریخ ہے کہ اس نے قدرتی آفات، فسادات اور انسانی بحرانوں میں بلا تفریق مذہب و ملت متاثرین کی مدد کی ہے۔ بالائی آسام میں بھی ہمارا مقصد محض چند دن کا راشن تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے جن کے گھر، سامان اور زندگی کے وسائل سیلاب نے تباہ کردیے ہیں۔
صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امدادی کام کو محض فوری راشن اور ضروری سامان کی تقسیم تک محدود نہیں رکھا گیا۔ ابتدا ہی سے طے کیا گیا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا باقاعدہ سروے کرکے ان کی مستقل بازآبادکاری میں بھرپور تعاون کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء آسام کی ٹیمیں مسلسل گھر گھر پہنچ رہی ہیں، تاکہ حقیقی مستحقین کی صحیح نشاندہی، نقصان کا درست تخمینہ اور ضرورت کے مطابق امداد کی شفاف تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔ سیلاب نے بہت سے خاندانوں سے صرف راشن اور گھریلو سامان ہی نہیں چھینا بلکہ ان کے مکانات، ذرائع معاش اور زندگی بھر کی جمع پونجی بھی تباہ کردی ہے، اس لیے فوری امداد کے بعد انہیں تنہا چھوڑ دینا کافی نہیں ہے۔
بالائی آسام کے سیلاب متاثرین کے لیے جاری امدادی و بازآبادکاری مہم میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک کروڑ روپے مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے، جبکہ ایک کروڑ 25 لاکھ روپے عنفر فاؤنڈیشن کی طرف سے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ رقم جمعیۃ علماء آسام کے توسط سے متاثرین کی فوری امداد اور مرحلہ وار بازآبادکاری پر خرچ کی جائے گی۔
سیلاب کے ابتدائی دنوں میں جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر چاول، دال، پیاز، آلو، سرسوں کا تیل، نمک اور دیگر اشیائے خوردونوش بڑی مقدار میں تقسیم کیں۔ خواتین کے مختلف ملبوسات، فینائل اور روزمرہ استعمال کا ضروری گھریلو سامان بھی فراہم کیا گیا۔
ابتدائی مرحلے کی امدادی سرگرمیوں پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً چار لاکھ روپے مالیت کی ٹین کی چادریں، ایک لاکھ روپے کا فینائل اور ڈھائی لاکھ روپے کی ادویات بھی متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔
دریں اثنا جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے بالائی آسام کے متاثرہ علاقوں میں باقاعدہ گھر گھر سروے کیا ہے اور اب تک شیوساگر، جورہاٹ، گولاگھاٹ اور چرائی دیو اضلاع کے متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوچکا ہے۔اس کام کے لیے تقریباً 30 سے 35 افراد پر مشتمل خصوصی سروے ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مکانات، گھریلو سامان اور ذرائع معاش کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور شدت کے مطابق خاندانوں کی درجہ بندی کررہی ہے۔ متاثرین کے آدھار کارڈ، بینک اکاؤنٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کی تصدیق بھی کی جارہی ہے، تاکہ مالی امداد حتی الامکان براہِ راست حقیقی مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاسکے۔
مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امداد میں مکمل شفافیت اور مستحق تک براہِ راست تعاون پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
گھر گھر سروے اور نقصانات کی درجہ بندی کی بنیاد پر تقریباً 2,400 سے 2,500 متاثرہ خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
شدید نقصان اٹھانے والے مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے، درمیانی درجے کے نقصان والے خاندانوں کو 7 ہزار روپے اور نسبتاً کم نقصان والے مستحق خاندانوں کو 5 ہزار روپے تک مالی امداد دی جائے گی۔ یہ رقم مستحق خاندانوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
سیلاب اور اس سے متعلق حادثات میں اپنے عزیزوں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے بھی خصوصی مالی تعاون کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسے بعض خاندانوں کو 50 ہزار روپے فی خاندان اور انتہائی ضرورت مند خاندانوں کو ایک لاکھ روپے تک خصوصی امداد فراہم کی گئی ہے۔
مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ کسی انسانی جان کا کوئی مالی نعم البدل نہیں ہوسکتا، تاہم مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کے دکھ میں شریک ہونا اور اسے فوری مالی سہارا فراہم کرنا ہماری انسانی ذمہ داری ہے۔
سروے کے دوران ایسے یتیم اور بے سہارا بچے بھی سامنے آئے ہیں جن کی تعلیم سیلاب اور گھریلو حالات کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی طور پر دو بچوں کی دو سالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے اور انہیں فی بچہ دو ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔
اس کے ساتھ تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی ہیں تاکہ سیلاب سے متاثر ہونے والے طلبہ کی تعلیم کو دوبارہ معمول پر لانے میں مدد مل سکے۔
جمعیۃ علماء آسام نے امدادی سرگرمیوں میں مقامی سماجی تنظیموں کو بھی شریک کیا ہے۔ بیر لاچت سینا کے سربراہ شرتکھر چالیہا، آسام جاتیہ سنگرامی سینا کے صدر چنتو بروا، آسامی یوا منچ کے جنرل سیکریٹری آکاش شیکیا اور پولاس دتو کے توسط سے بھی تقریباً 400 سیلاب متاثرہ خاندانوں کو اشیائے خوردونوش اور ضروری رہائشی و گھریلو سامان فراہم کیا گیا ہے۔
جمعیۃ علماء آسام کی یہ مہم چند دن راشن یا امدادی سامان تقسیم کرکے ختم کردینے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی ہدف متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ اسی مقصد سے پورے کام کو تین بنیادی مراحل ۔۔ ریلیف، گھر گھر جامع سروے، اور براہِ راست مالی امداد و مستقل بازآبادکاری—میں منظم کیا گیا ہے۔
مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ حقیقی مستحقین کی مکمل بازآبادکاری تک یہ کام جاری رہے گا اور ہر مرحلے پر شفافیت، بلا امتیاز خدمت اور ضرورت مند تک براہِ راست امداد پہنچانے کے اصول کو مقدم رکھا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔

خاص خبریں

اساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی

نئی دہلی، 5 ستمبر (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے اساتذہ پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی صرف تعلیمی کارکردگی تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے رویے اور روزمرہ زندگی پر بھی توجہ دیں۔

...مزید دیکھیں
بچوں کی شادی کی ممانعت کی مہم پر لگی اقوام متحدہ کی مہر، 27 نومبر بچوں کی شادی کے خلاف بین الاقوامی دن قرار

بچوں کی شادی کی ممانعت کی مہم پر لگی اقوام متحدہ کی مہر، 27 نومبر بچوں کی شادی کے خلاف بین الاقوامی دن قرار

نئی دہلی، 05 ستمبر (یو این آئی) اقوام متحدہ نے 27 نومبر کو ' بچوں کی شادی، کم عمری اور زبردستی کی شادی کے خاتمے کا بین الاقوامی دن' کے طور پر قرار دیا ہےاس تاریخی فیصلے کے ساتھ ہی بچوں کی شادی کے خلاف عالمی سطح پر جاری لڑائی میں ہندوستان سے اٹھی آواز کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بڑی قبولیت ملی ہے۔

...مزید دیکھیں

خواتین کو بااختیاربنانے ، طلباء کے معاملے پر دکھاوے کی سیاست کرتے ہیں کانگریس اور 'انڈیا اتحاد': بی جے پی

نئی دہلی، 05 ستمبر (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے خواتین کو بااختیاربنانے اور طلباء کے معاملے پر کانگریس اور 'انڈیا اتحاد' پر دکھاوے کی سیاست کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ جھارکھنڈ کے پیپر لیک معاملے نے طلباء کے مفادات کے تعلق سے ان کے دعووں کی حقیقت کی پول کھول دی ہے۔

...مزید دیکھیں

کانگریس نے ’عوامی منشور-2026‘ جاری کیا

الور، 5 ستمبر (یو این آئی) راجستھان کے الور میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے کانگریس نے وارڈ نمبر 59 میں پارٹی امیدوار کے انتخابی دفتر پر ’عوامی منشور-2026‘ جاری کیا۔

...مزید دیکھیں

یومِ اساتذہ پر مودی نے معاشرے کے تئیں اساتذہ کے تعاون کی ستائش کی، ڈاکٹر رادھا کرشنن کو خراجِ عقیدت پیش کیا

نئی دہلی، 5 ستمبر (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز یومِ اساتذہ کے موقع پر معاشرے کے لیے اساتذہ کے اہم تعاون کا ذکر کیا اور سابق صدرجمہوریہ نیز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

...مزید دیکھیں
غالب انسٹی ٹیوٹ کا ریسرچ اسکالر سمینار نئے لکھنے والوں کے لیے تربیت کا بہترین موقع: ڈاکٹر سفینہ

غالب انسٹی ٹیوٹ کا ریسرچ اسکالر سمینار نئے لکھنے والوں کے لیے تربیت کا بہترین موقع: ڈاکٹر سفینہ

غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینار جاری

نئی دہلی، 5 ستمبر (یو این آئی) غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینارجس کاافتتاحی اجلاس 4ستمبر کی شام کوہواتھا، 5ستمبر کو سمینار کے چار اجلاس منعقد ہوئے۔

...مزید دیکھیں
سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع  قدیم مسجد کا انہدام انتہائی افسوسناک،قانون اگر سب کے لیے ایک ہے تو اس کے نفاذ میں دوہرا معیار کیوں: مولانا ارشد مدنی

سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع قدیم مسجد کا انہدام انتہائی افسوسناک،قانون اگر سب کے لیے ایک ہے تو اس کے نفاذ میں دوہرا معیار کیوں: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی، 5 ستمبر (یو این آئی)جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع ایک قدیم مسجد کو علی الصباح تقریباً پانچ بجے منہدم کیے جانے پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر ملک کے سامنے یہ بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے کہ کیا آئین اور قانون کا نفاذ واقعی ہر شہری اور ہر مذہب کے لیے یکساں ہے؟ اگر آئین سب کو برابری کاحق، مذہبی آزادی اور قانون کا مساوی تحفظ دیتا ہے تو اس کے عملی نفاذ میں یہ دوہرا معیار کیوں دکھائی دیتا ہے؟
جاری ایک بیان کے مطابق مولانا مدنی نے کہا کہ سہارنپور کا واقعہ صرف ایک مسجد کا نہیں ہے، بلکہ یہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہری مساوات اور ریاست کے غیر جانب دارانہ کردار سے جڑا ہوا ایک نہایت حساس مسئلہ ہے۔

...مزید دیکھیں

ہندوستانی خواتین ٹیم نے پاکستان کو سات وکٹوں سے روند دیا

05 Sep 2026 | 10:51 PM

دبئی، 5 ستمبر (یواین آئی) پریما راوت اور شری چَرنی نے تین، تین وکٹیں جبکہ دپتی شرما نے دو وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ناٹ آؤٹ 12 رن بنا کر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کی بدولت ہندوستانی خواتین ٹیم نے ہفتے کے روز ویمنز ایشیا کپ کے گروپ اے کے مقابلے میں پاکستان کو 68 گیندیں باقی رہتے سات وکٹوں سے زبردست شکست دے دی۔.

کرتی کھربندا کی پراسرار انسٹاگرام اسٹوری سے تجسس بڑھا

05 Sep 2026 | 12:25 PM

ممبئی، 05 ستمبر (یو این آئی) بالی ووڈ اداکارہ کرتی کھربندا کی حالیہ انسٹاگرام اسٹوریز نے ان کے مداحوں میں تجسس بڑھا دیا ہے۔ کرتی کھربندا نے مسلسل کچھ ایسی تصاویر شیئر کی ہیں، جن سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ جلد ہی کوئی خاص اعلان کر سکتی ہیں۔.