Monday, Sep 7 2026 | Time 00:01 Hrs(IST)
National

حتمی این آر سی کے چھ سال بعد بھی 3.11 کروڑ شہری شناختی کارڈ سے محروم، موجودہ ریاستی حکومت سیاسی فائدہ کیلئے شہریت کے مسئلہ کو بدستورزندہ رکھنا چاہتی ہے : مولانا ارشدمدنی

حتمی این آر سی کے چھ سال بعد بھی 3.11 کروڑ شہری شناختی کارڈ سے محروم، موجودہ ریاستی حکومت سیاسی فائدہ کیلئے شہریت کے مسئلہ کو بدستورزندہ رکھنا چاہتی ہے : مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی، 10 اگست (یو این آئی) آسام میں حتمی این آر سی کے نفاذ اور اس میں شامل شہریوں کو نیشنل شناختی کارڈ جاری کرنے سے متعلق جمعیۃ علما ہند اور آمسو کی جانب سے وکیل آن ریکارڈ فضیل احمد ایوبی کے توسط سے داخل اہم پٹیشن پر آج سپریم کورٹ میں جسٹس ایس ایم نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی دو رکنی بینچ کے سامنے سماعت ہوئی تاہم مرکزی اور آسام حکومت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے باوجود اب تک جواب داخل نہ کیے جانے کی وجہ سے عدالت نے معاملے کی سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
جاری ریلیز کے مطابق دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ جمعیۃ علما ہند کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے اور اب انہیں اپنا اعتراض اور جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ سینئروکیل کپل سبل نے عدالت کو مزید بتایا کہ رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی جانب سے جمعیۃ علما ہند کی پٹیشن پر جواب داخل کیا جا چکا ہے، جس کے جواب میں جمعیۃ علما ہند کی جانب سے جلد ری جوائنڈر داخل کیا جائے گا۔ انہوں نے عدالت کی توجہ اس اہم حقیقت کی طرف بھی مبذول کرائی کہ حتمی این آر سی کی اشاعت کے چھ سال گزر جانے کے باوجود اس میں شامل افراد کو اب تک نیشنل شناختی کارڈ جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ کی آج کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علما ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مرکزی اور آسام حکومتوں کا نوٹس کے باوجود جواب داخل نہ کرنا اور حتمی این آر سی کے چھ سال بعد بھی قانونی عمل کو مکمل نہ کرنا اس شبہ کو تقویت دیتا ہے کہ شہریت کے اس حساس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے دانستہ طور پر زندہ رکھا جا رہا ہے۔مولانا مدنی نے کہاکہ ماضی میں اس حساس مسئلہ کو لیکر آسام میں فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو غیر ملکی قراردیکر اکثریت کی نگاہ میں ان کی حیثیت کو مشکوک بناتی رہی ہیں جس کی وجہ وہاں سماجی سطح پر ہمیشہ فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی رہی ہے ، پنچائیت سرٹیفکیٹ کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہو، شہریت کے لئے حتمی تاریخ کے تعین کامعاملہ ہویا پھر ریاست میں مدارس کو بند کرنے کی سازش جمعیۃعلمائ ہند ہر ایسے موقع پر مظلوموں کے ساتھ پوری طاقت سے کھڑی رہی اوران کے مقدمات کامیابی کے ساتھ لڑتی آئی ہے ۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ بی جے پی کی موجودہ ریاستی حکومت امتیاز اورنفرت کی سیاست اورمسلم مخالف ایجنڈے پر عمل پیراہے اورسیاسی فائدہ کے لئے وہ شہریت کے مسئلہ کو بدستورزندہ رکھنا چاہتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ حتمی این آرسی کے بعد بھی لوگوں کو شناختی کارڈجاری کرنے میں دانستہ چھ سال سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ۔ انہوں نے آگے کہا کہ آسام میں این آر سی کے عمل کو قانون کے مطابق مکمل کرنا ریاست میں امن اور ہم آہنگی کی بحالی کے لئے نہایت ضروری ہے اور یہ مساوات، اخوت اور قانون کی حکمرانی جیسے آئینی اصولوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ صدرجمعیۃعلما ہند مولانا ارشدمدنی کی رہنمائی اورسرپرستی میں مولانا مشتاق عنفرصدرجمعیۃعلما آسام ، این آرسی اورپنچائیت سرٹیفکیٹ 6Aجیسے اہم مقدمات 14سال سے لڑتی رہی اورکامیابی بھی ملی کیونکہ آسام کا مسئلہ ایک حساس مسئلہ تھا اگر فرقہ پرست عناصراپنے مقصدمیں کامیاب ہوجاتے توایک اندازہ کے مطابق لاکھوں مسلمانوں کے شہریت کو خطرہ لاحق ہوسکتاتھا ، آج سپریم کورٹ میں مولانا مشتاق عنفرصدرجمعیۃعلما آسام، مولانا کلیم الدین ، آمسوکے صدرودیگر عہدیداران موجودرہے ۔واضح رہے کہ آسام کے سابق این آر سی کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما کی اُس عرضی کو بھی اس معاملے کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس میں این آر سی فہرست کی ازسرِ نو تصدیق (Re-verification) اس میں موجود خامیوں اور غلطیوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آسام این آر سی کو 2013 سے 2019 تک سپریم کورٹ کی براہِ راست نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ رجسٹراڈ جنرل آف انڈیا اور ریاستی کوآرڈینیٹر کی جانب سے مشترکہ طور پر شائع شدہ حتمی این آر سی برسوں کی باریک بینی سے معلومات کی موازنہ کی بنیاد پر کی گئی 3.3 کروڑ درخواستوں کی جانچ پڑتال کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد آسام میں شہریت کے دہائیوں پرانے مسئلے کا قانونی اور حتمی حل فراہم کرنا تھا۔تاہم، حتمی این آر سی کے شائع ہونے کے چھ سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود، حکام اب تک قانون کے تحت لازمی اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں، یعنی تین کروڑ گیارہ لاکھ مستحق شہریوں کو نیشنل شناختی کارڈز جاری کرنا، جیسا کہ شہریت (شہریوں کا اندراج اور نیشنل آئیڈنٹیٹی کارڈز کا اجرا) قواعد، 2003 کے قاعدہ 13 کے تحت لازم ہے اورمسترد شدہ افراد (تقریباً 19 لاکھ) کو ریجیکشن سلپس جاری کرنا اور اپیل کا آغاز کرنا ،جیسا کہ قاعدہ 4A کے شیڈول کے پیرا 8 میں درج ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکام کی یہ ناکامی این آر سی کے اس پورے عمل کو نامکمل، غیرآئینی، من مانا اور آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی خلاف ورزی بناتی ہے، حتمی این آر سی کی اشاعت کے بعد اسے معطل چھوڑ دینا ایک بڑی آبادی کوغیر یقینی شہریوں کی حیثیت میں مبتلا کر رہا ہے، جس سے خوف، بداعتمادی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔درخواست میں اس بات پربھی زور دیا گیا ہے کہ آسام این آر سی ایک سائنسی، ڈیٹا پر مبنی اور ثبوت سے تصدیق شدہ عمل ہے، جو سپریم کورٹ کی براہِ راست نگرانی میں انجام پایاہے۔ عوامی اعتماد، عدالتی وقت اور 1600 کروڑ روپے سے زائد قومی وسائل صرف کئے جانے کے بعد، یہ ضروری ہے کہ اس عمل کو شہریت ایکٹ 1955 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق مکمل کیا جائے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حتمی این آر سی میں شامل تمام افراد کو فوراً نیشنل شناختی کارڈز جاری کئے جائیں اورجن افراد کو این آر سی سے خارج کیا گیا ہے، ان کے لیے ریجیکشن سلپس ßآرڈرز جاری کئے جائیں اور اپیل کا عمل شروع کیا جائے تاکہ غیر ملکی ٹربیونلزکے سامنے قانونی فیصلے ممکن ہو سکیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔

خاص خبریں
ستیہ نکیتن میں پانچ منزلہ پی جی عمارت منہدم، ایک کی موت، تین کی حالت نازک

ستیہ نکیتن میں پانچ منزلہ پی جی عمارت منہدم، ایک کی موت، تین کی حالت نازک

نئی دہلی، 6 ستمبر (یو این آئی) جنوب مغربی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں اتوار کی دوپہر کو لڑکوں کے لیے پی جی کے طور پر استعمال ہونے والی پانچ منزلہ عمارت گرنے سے کم از کم ایک شخص کی موت ہو گئی اور کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے خدشے کے پیش نظر بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

...مزید دیکھیں
مودی اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے اپوزیشن کو القاب دیتے ہیں: کھرگے

مودی اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے اپوزیشن کو القاب دیتے ہیں: کھرگے

نئی دہلی، 6 ستمبر (یواین آئی) کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر مودی اپنی حکومت کی ناکامیاں چھپانے کے لیے اپوزیشن کو سال بہ سال نئے نئے القاب دیتے رہے ہیں، لیکن چیلنجز کے حل کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے مسٹر کھرگے نے دہلی یونیورسٹی کے شری رام کالج آف کامرس (ایس آر سی سی) میں مسٹر مودی کے کل کے خطاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اتوار کو سوشل میڈیا 'ایکس' پر کہا کہ ایس آر سی سی جانا ملک کے نوجوانوں، تعلیم اور ان کے مستقبل پر بات چیت کا ایک موقع تھا، لیکن نوجوانوں کے سوالات کا سامنا کرنے کے بجائے وزیر اعظم کی تقریر پھر سیاسی پروپیگنڈے میں بدل گئی۔

...مزید دیکھیں
ہندوستان  مساوی رقبہ والے دنیا کے نقشے کا حامی، لیکن جموں و کشمیر اور لداخ پر کوئی سمجھوتہ نہیں

ہندوستان مساوی رقبہ والے دنیا کے نقشے کا حامی، لیکن جموں و کشمیر اور لداخ پر کوئی سمجھوتہ نہیں

نئی دہلی 6 ستمبر (یو این آئی) ہندوستان نے مساوی رقبے والے عالمی نقشے پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس سے متعلق قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے اور وہ اس کی حمایت کرتا ہے، لیکن اس کے خودمختار علاقے، جس میں جموں و کشمیر اور لداخ بھی شامل ہیں، کو ہندوستان کے سرکاری نقشے کے مطابق ہی دکھایا جانا چاہیے۔

...مزید دیکھیں
راج ناتھ سنگھ منگل کو سری لنکا کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے

راج ناتھ سنگھ منگل کو سری لنکا کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے

نئی دہلی، 6 ستمبر (یو این آئی) وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ منگل کو سری لنکا کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ دو طرفہ تعلقات اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے اس دورے کے دوران وہ سری لنکا کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ وسیع مسائل پر بات چیت کریں گے اور کولمبو میں مقیم ہندوستانیوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

...مزید دیکھیں
غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینار اختتام پذیر

غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینار اختتام پذیر

نئی دہلی، 6 ستمبر (یو این آئی) غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمیناراتوار کے روز اختتام پذیر ہوا۔

...مزید دیکھیں
کربس ہسپتال میں مکمل ملٹی اسپیشلٹی طبی سہولت کے ساتھ آیوشمان کارڈ کی بھی سہولت: ڈاکٹر خالد عثمانی

کربس ہسپتال میں مکمل ملٹی اسپیشلٹی طبی سہولت کے ساتھ آیوشمان کارڈ کی بھی سہولت: ڈاکٹر خالد عثمانی

نئی دہلی، 6 ستمبر (یو این آئی) شاہین باغ اور جسولہ کے کربس اسپتال میں ایک مکمل ملٹی اسپیشلٹی طبی سہولت کی دستیابی کے ساتھ آیوشمان کارڈ کے ذریعے بھی ہر طرح کے علاج کی سہولت دستیاب ہے۔

...مزید دیکھیں
الحکمہ فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر میں جلسہ سیرت النبی صلعم کا انعقاد

الحکمہ فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر میں جلسہ سیرت النبی صلعم کا انعقاد

 نئی دہلی، 6 ستمبر(یو این آئی) الحکمہ فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر واقع ذاکر نگر، نئی دہلی میں سیرت پاک صلعم پر ایک روحانی جلسہ منعقد کیا گیا۔

...مزید دیکھیں

جنوبی افریقہ نے سہ فریقی ٹی 20 سیریز جیت لی

06 Sep 2026 | 9:43 PM

ونڈہوک، 6 ستمبر (یواین آئی) جنوبی افریقہ نے اتوار کو فائنل میں زمبابوے کو 48 رنز سے شکست دے کر سہ فریقی ٹی 20 سیریز اپنے نام کر لی۔ جنوبی افریقہ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 205 رنز کا مضبوط اسکور بنایا، جس کے جواب میں زمبابوے کی پوری ٹیم 18 اوورز میں 157 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ جنوبی افریقہ کی اننگز میں 29 گیندوں پر 53 رنز بنانے والے جارڈن ہرمن کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔.

بوانی کھیرا میں تعمیراتی مزدوروں کا شدید احتجاج، وزیر اعلیٰ کے خلاف نعرے بازی

06 Sep 2026 | 9:40 PM

بھیوانی، 6 ستمبر (یو این آئی) جوائنٹ کنسٹرکشن ورکرس فرنٹ ہریانہ کی کال کے بعد تعمیراتی مزدوروں نے بوانی کھیرا میں گلاب سنگھ پارک کے سامنے زبردست احتجاج کیا۔ انہوں نے اس پورٹل کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا جو 15 مہینوں سے بند تھا، 95 فی صد ورکرز کے رجسٹریشن جو منسوخ کر دیے گئے تھے کی بحالی، پرانے منریگا قانون کو نافذ کرنے اور رہائش، اسکالرشپ اور بی پی ایل کارڈ کی سہولیات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران مزدوروں نے وزیر اعلیٰ نائب سینی اور وزیر محنت انل وج کے خلاف نعرے لگائے۔ پولیس نے 20 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا، انہیں تقریباً تین گھنٹے تک حراست میں رکھا اور بعد میں چھوڑ دیا۔ ا.