InternationalPosted at: Apr 15 2026 2:50PM جے ڈی وینس کا پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات میں زبردست پیش رفت کا اعتراف

جارجیا، 15 اپریل (یو این آیہ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جارجیا یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ امریکی وفد نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں زبردست پیش رفت کی ہے اور اسی پیش رفت کی وجہ ہی سے جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے جے ڈی وینس نے کہا ٹرمپ ایران کے ساتھ کوئی چھوٹی موٹی نہیں بلکہ بڑی ڈیل چاہتے ہیں، مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی لیکن جوہری ہتھیاروں پر ڈیڈ لاک ہوا، ٹرمپ نے کہا ایران نارمل ملک کی طرح رویہ رکھے تو ہم بھی اس کے ساتھ معاشی طور پر ایک عام ملک کی طرح سلوک کریں گے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ ٹرمپ چاہتے ہیں ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنائے اور پراکسیوں کی سہولت کاری نہ کرے، ایران شرائط مان لے تو وہ بھی ترقی کے سفر میں ساتھ چل سکتا ہے، ایران ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائے تو اسے ہم عالمی معیشت میں شامل کر لیں گے، ہم اس لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ڈیل ہو اور دنیا کے لیے کچھ بہتر ہو جائے۔
جب ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صحافی کیٹلین ڈورنبوس سے کہا ’’ابھی پاکستان میں رکیں‘‘ انھوں نے کہا گزشتہ 49 سال میں کبھی امریکہ، ایران کے اسلام آباد سطح کے مذاکرات نہیں ہوئے، ایران کا ملک چلانے والے امریکی نائب صدر کے ساتھ بیٹھے ہوں ایسا کبھی نہیں ہوا، 49 سال گزرنے کے بعد کافی بد اعتمادی ہے، ایک رات میں مسائل حل نہیں ہو سکتے، لیکن مذاکرات میں ہم جہاں پہنچے ہیں اسے اچھا سمجھتا ہوں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ امریکی نوجوانوں کی اکثریت مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں کو پسند نہیں کرتی، تاہم امریکی نوجوانوں کی اکثریت جو چاہتی ہے اس کا ہمیں احساس ہے، لیکن ایران کے ساتھ مسائل تیزی سے حل نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے کہا ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے، ایرانی مذاکرات کار بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اگر ایران نے جوہری بم نہ بنانے کا وعدہ کر لیا تو ہم اس کی معیشت کو فروغ دیں گے، ہم اس کے ساتھ مذاکرات کر کے یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ وہ ایٹمی ہتھیا نہ بنائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔