RegionalPosted at: Jan 20 2026 4:15PM ہم نے ہندوستان کے لئے گولیاں کھائی ہیں، دوبارہ بھی کھانے کو تیار ہیں: فاروق عبداللہ

جموں،20جنوری(یو این آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز جموں میں بلاک صدور اور سیکریٹریز کے دو روزہ کنونشن کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی وادی میں دوبارہ پتھراؤ یا دہشت گردی کو فروغ دینا چاہتی ہیں فاروق عبداللہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کی جماعت نے ملک کے ساتھ رہنے کی خاطر قربانیاں دی ہیں اور وہ آج بھی ملک کیلئے ہر طرح کی آزمائش کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا، ’ہم نے ہندوستان کے ساتھ رہنے کیلئے گولیاں کھائی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ بھی کھائیں گے۔‘ انہوں نے بی جے پی کے ان لیڈروں کو بھی سخت جواب دیا جنہوں نے جموں کو کشمیر سے الگ ریاستی درجہ دینے کی بات کی تھی۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی بھی ایسی سوچ کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی ریاست کو مزید تقسیم کرنے کے حق میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لداخ کو الگ یونین ٹریٹری بنانے کا کوئی فائدہ وہاں کے عوام کو نہیں ہوا اور آج لداخ کے لوگ خود کہہ رہے ہیں کہ وہ دوبارہ جموں و کشمیر کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے پیر پنچال اور چناب ویلی کو الگ ڈویژن بنانے اور مزید اضلاع قائم کرنے کے مطالبے پر فاروق عبداللہ نے اسے ’ڈکسن پلان کی باقیات‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو دریائے چناب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی جو تجویز اقوام متحدہ کے نمائندہ اوون ڈکسن نے 1950 میں پیش کی تھی، وہ پرانی اور ناقابلِ عمل ہے اور آج بھی کچھ لوگ اسی سوچ کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ اضلاع ہی کافی ہیں، ضرورت صرف بہتر انتظام چلانے کی ہے، نہ کہ نئی انتظامی تقسیم کی۔ بیروزگاری کے مسئلے پر محبوبہ مفتی کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے انہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ بطور وزیراعلیٰ انہوں نے خود اپنے دور میں کون سے اقدامات کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بیروزگاری کا رونا رونے والوں نے اپنے دور میں نوجوانوں کیلئے کون سی ٹھوس پالیسیاں بنائیں، یہ بھی عوام جانتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کو ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں، اگرچہ کبھی کبھار ان میں اتار چڑھاؤ بھی آیا، تاہم امید ہے کہ یہ رشتہ مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
انہوں نے پاکستان سے بات چیت کے حوالے سے بھی کہا کہ میڈیا کو ’پاکستان فوبیا‘ سے باہر آنا چاہیے اور اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیے کہ پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے، اسی لیے مذاکرات اور مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ