NationalPosted at: May 13 2026 4:38PM کیجریوال نے پیپر لیک روکنے کے لیے سڑکوں پر اترنے کے لیے 'جین زی' سے کی اپیل

نئی دہلی، 13 مئی (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بدھ کو کہا کہ پیپر لیک جیسے گھناؤنے کھیل کو بند کرنے کے لیے ملک کی 'جنریشن زی' (نوجوان نسل) کو سڑکوں پر اتر کر پرامن احتجاج کرنا پڑے گا مسٹر کیجریوال نے نیٹ پیپر لیک معاملے کے حوالے سے بدھ کو ملک کے نوجوانوں سے براہِ راست ورچوئل خطاب کیا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو پکارتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک بہت ہو چکا، اب اس گھناؤنے کھیل کو ختم کرنے کے لیے ملک کے نوجوانوں کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔ انہوں نے نیپال اور بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب وہاں کے نوجوان اپنی حکومتیں بدل سکتے ہیں، تو ہمارے ملک کے نوجوان پیپر لیک میں ملوث وزراء اور لیڈروں کو جیل کیوں نہیں بھیج سکتے؟ انہوں نے کہا کہ ہر بار جانچ سی بی آئی کے سپرد کر دی جاتی ہے، لیکن آج تک کسی کو سزا نہیں ملی اور اس بار بھی کچھ ہونے والا نہیں ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ زیادہ تر پیپر لیک بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟ کیا اس گھناؤنے کھیل میں بی جے پی کے لیڈر براہِ راست ملوث ہیں؟ کچھ لوگ اسے سسٹم کی ناکامی کہتے ہیں، لیکن ایسا کہہ کر وہ نادانستہ طور پر پیپر لیک میں شامل اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افراد کو بچا رہے ہیں۔ کیجریوال نے کہا کہ یہ ملک نوجوانوں کا ہے، ان لیڈروں کو ملک میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ان کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ملک کے ایک بڑے لیڈر نے کہا تھا کہ ضرورت پڑی تو جھولا اٹھا کر چلا جاؤں گا، لیکن ہم کہاں جائیں گے؟ ہمارا خاندان تو اسی ملک میں رہتا ہے، اس لیے ہمیں اور نوجوانوں کو مل کر ہی اس ملک کو بچانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی سی بی آئی نے 10-15 لوگوں کو گرفتار کیا ہے، لیکن ہر بار کی طرح یہ تمام ملزمان تین چار مہینوں میں ضمانت پر باہر آ جائیں گے اور اگلے سال پھر پیپر لیک کی تیاری شروع کر دیں گے۔ مسٹر کیجریوال نے اعداد و شمار دیتے ہوئے بتایا کہ 2014 سے اب تک ملک میں 93 پیپر لیک ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بی جے پی کی 'ڈبل اور ٹرپل انجن' حکومتوں میں ہوئے۔ ان واقعات سے تقریباً 6 کروڑ نوجوانوں کا مستقبل برباد ہوا۔ سب سے زیادہ پیپر لیک راجستھان، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور گجرات میں ہوئے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ حالیہ نیٹ پیپر لیک کا مرکز بھی راجستھان ہے اور جن پر شبہ ہے وہ بی جے پی کے لیڈر ہیں۔
عآپ لیڈر نے کہا کہ اگر نیپال اور بنگلہ دیش کے نوجوان سڑکوں پر اتر کر اپنی حکومتیں بدل سکتے ہیں تو ہمارے ملک کے نوجوان وزراء کو جیل کیوں نہیں بھیج سکتے؟ مجھے اپنے ملک کے نوجوانوں پر پورا بھروسہ ہے۔ یہ ملک نوجوانوں کا ہے، جبکہ لیڈروں کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
یواین آئی ۔ایف اے