NationalPosted at: Apr 16 2026 2:15PM راجیہ سبھا میں آشا بھوسلے اور محسنہ قدوئی کو خراجِ عقیدت

نئی دہلی، 16 اپریل (یو این آئی) راجیہ سبھا نے جمعرات کے روز معروف گلوکارہ آشا بھوسلے اور ایوان کی سابق رکن محسنہ قدوائی کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اتر پردیش کے ضلع باندہ میں یکم جنوری 1932 کو پیدا ہونے والی محترمہ قدوائی نے کم عمری میں ہی سیاست میں قدم رکھا اور چھ دہائیوں تک اس میدان میں سرگرم رہیں انہیں اتر پردیش کی دونوں قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی رکن رہنے کا اعزاز حاصل تھا۔ وہ اتر پردیش حکومت اور مرکز میں بھی بطور وزیر خدمات انجام دیتی رہیں۔
محترمہ قدوائی کا انتقال 94 سال کی عمر میں 08 اپریل 2026 کو ہوا۔ انہوں نے سال 2004 سے 2016 تک مسلسل دو بار ایوان میں چھتیس گڑھ کی نمائندگی کی۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ سماجی خدمات اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود میں ان کا کردار اہم رہا۔ ان کے انتقال سے ملک ایک سینئر سیاستدان، بہترین منتظم اور ایک ممتاز رکنِ پارلیمنٹ سے محروم ہو گیا ہے۔
آشا بھوسلے کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ آٹھ دہائیوں پر محیط اپنے طویل کیریئر میں انہوں نے مختلف ہندوستانی زبانوں میں ہزاروں نغموں کو اپنی آواز دی، جس نے ہندوستانی موسیقی پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ موسیقی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں پدم وبھوشن، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور نیشنل فلم ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
انہوں نے کہا کہ محترمہ بھوسلے، جو 8 ستمبر 1933 کو سانگلی، مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں، نے موسیقی اور سنیما کے شعبوں میں اپنے لیے ایک الگ مقام بنایا۔ وہ 12 اپریل کو 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
چیئرمین نے انہیں ابھرتے ہوئے فنکاروں کے لیے مشعلِ راہ اور لگن و مہارت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے ملک ایک مقبول آواز، منفرد فنکار اور ثقافتی پہچان سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کی وراثت آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔
آخر میں، ایوان نے دونوں شخصیات کے احترام میں کچھ دیر خاموشی اختیار کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے