NationalPosted at: Jul 21 2026 5:22PM اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی

نئی دہلی، 21 جولائی (یواین آئی) لوک سبھا میں منگل کے روز کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پیپر لیک اور دیگر امور کو لے کر ہنگامہ جاری رکھا جس کے باعث ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی اسی معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کے باعث صبح 11 بجے کارروائی ملتوی کیے جانے کے بعد دوپہر 12 بجے جیسے ہی ایوان دوبارہ شروع ہوا، کانگریس، سماج وادی پارٹی (ایس پی)، ڈی ایم کے، راشٹریہ جنتا دل، نشنلسٹ کانگریس پارٹی (شراد پوار) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے زوردار ہنگامہ شروع کر دیا اور ایوان کے وسط میں آ گئے۔ ایس پی کے کئی ارکان سیاہ رنگ کے بڑے بڑے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جبکہ ڈی ایم کے کے ارکان نے سبز رنگ کے بینرز تھام رکھے تھے۔ کئی اپوزیشن ارکان پلے کارڈز بھی لیے ہوئے تھے۔
پریذائیڈنگ آفیسر سندھیا رائے نے ہنگامے کے درمیان ہی قانون سازی کی دستاویزات ایوان کی میز پر رکھوائے۔ اس کے بعد انہوں نے ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کرنے والے اپوزیشن ارکان سے کہا کہ وہ اپنی اپنی نشستوں پر واپس چلے جائیں اور ایوان کی کارروائی چلنے دیں۔ یہ وقفۂ صفر ہے، اس میں ارکان اپنے اپنے علاقوں کے مسائل ایوان کے سامنے رکھ کر حکومت سے انہیں حل کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ تمام ارکان کو قواعد کے مطابق اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا یہ رویہ مناسب نہیں ہے، پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ ایوان کی کارروائی کس طرح متاثر کی جا رہی ہے۔ وہ اپنی نشستوں پر جائیں اور ایوان کی کارروائی چلانے میں تعاون کریں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پر محترمہ رائے کی درخواست کا کوئی اثر نہیں ہوا اور ہنگامہ جاری رہا۔ اس پر انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
اس سے پہلے صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر انہی امور پر شور شرابہ کرنے لگے۔ اس دوران لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے سوال پوچھنے کے لیے رکن کا نام پکارا لیکن ہنگامہ تیز ہو گیا۔ اسپیکر نے کہا کہ یہ وقفۂ سوال ہے، اسے چلانے میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ وقفۂ سوال میں ارکان کو حکومت سے سوالات پوچھنے کا موقع ملتا ہے، یہ بہت اہم ہے۔ ان کی اپیل کا اپوزیشن ارکان پر کوئی اثر نہیں ہوا، جس کی وجہ سے کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔
یواین آئی۔الف الف