NationalPosted at: Nov 8 2025 11:29PM ثالثی ہمیشہ سے ہماری تہذیب کا ایک لازمی حصہ رہی ہے: وزیراعظم

نئی دہلی، 8 نومبر(یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں ”قانونی امداد کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانا“ کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس کا افتتاح کیا اس موقع پر جمع ہونے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ اس اہم موقع پر تمام شرکا کے درمیان موجود ہونا واقعی ایک خاص بات ہے انہوں نے کہا کہ قانونی امداد فراہم کرنے کے نظام کو مضبوط بنانا اور لیگل سروسز ڈے سے متعلق پروگرام ہندستان کے نظام عدلیہ کو نئی طاقت فراہم کرے گا۔ وزیراعظم نے 20ویں قومی کانفرنس کے لیے سب کو اپنی نیک تمنائیں پیش کیں۔ انہوں نے معززین، عدلیہ کے اراکین اور قانونی خدمات اتھارٹیز کے نمائندوں کو بھی مبارکباد دی۔
”جب انصاف سب کے لیے قابل رسائی ہو، بروقت فراہم کیا جائے اور ہر فرد تک پہنچے چاہے اس کا سماجی یا مالی پس منظر کچھ بھی ہو، تبھی وہ حقیقی معنوں میں سماجی انصاف کی بنیاد بنتا ہے“، وزیراعظم نے زور دے کر کہا۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کی کہ قانونی امداد اس قابل رسائی کو یقینی بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ قومی سطح سے لے کر تعلقہ سطح تک، قانونی خدمات کی اتھارٹیز عدلیہ اور عام شہری کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ مسٹر مودی نے اس اطمینان کا اظہار کیا کہ لوک عدالتوں اور مقدمے سے پہلے تصفیہ کے ذریعے لاکھوں تنازعات تیزی سے، دوستانہ ماحول میں اور کم لاگت پر حل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند کی جانب سے شروع کیے گئے لیگل ایڈ ڈیفنس کونسل سسٹم کے تحت صرف تین سال میں تقریباً آٹھ لاکھ فوجداری مقدمات حل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں سے ملک بھر میں غریبوں، مظلوموں، محروموں اور پسماندہ طبقات کے لیے انصاف میں آسانی یقینی ہو گئی ہے۔
گزشتہ 11 برسوں کے دوران حکومت نے مسلسل کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی میں سہولت بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھی ہے مسٹر مودی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کاروباری اداروں کے لیے 40,000 سے زیادہ غیرضروری تعمیلوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ جن وشواس ایکٹ کے ذریعے 3,400 سے زائد قانونی دفعات کو غیر فوجداری قرار دیا گیا ہے اور 1,500 سے زیادہ ناقابل استعمال قوانین منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیرینہ قوانین کی جگہ اب بھارتیہ نیائے سنہتا نے لے لی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف