NationalPosted at: Apr 16 2026 8:04PM خواتین ریزرویشن کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کو سیاسی خمیازہ بھگتنا ہوگا: وزیراعظم مودی

نئی دہلی، 16 اپریل ( یو این آئی)وزیراعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جو جماعتیں خواتین کو 33 فی صد ریزرویشن دینے کی راہ میں رکاوٹ بنیں گی انتخابات میں ان کا سیاسی نقصان ہونا یقینی ہےآئینی ترامیم اور حد بندی سے متعلق بلوں پر جاری بحث کے دوران وزیراعظم نے اپوزیشن کو ایک غیر متوقع پیشکش کی انہوں نے کہا اگر اپوزیشن جماعتیں اس تاریخی بل کی حمایت کرتی ہیں، تو میں اس کا پورا کریڈٹ انہیں دینے کو تیار ہوں۔
وزیراعظم نے یہاں تک کہا کہ حکومت اشتہارات دے کر اس بل کی حمایت کرنے والے اپوزیشن لیڈروں کی تصاویر بھی شائع کرئے گی، تاکہ کریڈٹ کی جنگ ختم ہو اور ملک کا فائدہ ہو۔وزیراعظم مودی نے ان بلوں کو "ترقی یافتہ ہندوستان" کے خواب کی تعبیر کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور نظامِ حکومت میں ملک کی نصف آبادی (خواتین) کا حصہ ہونا ضروری ہے۔ وزیراعظم کے بقول، اس کام میں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے ایوان میں جاری بحث کو 'منتھن' سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نکلنے والا 'امرت' (ثمرات) ملک کی سیاست اور سمت کا تعین کرے گا۔ وزیراعظم نے تمام جماعتوں سے اپیل کی کہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور متفقہ طور پر ان بلوں کو پاس کریں تاکہ نظامِ حکومت میں حساسیت اور شفافیت پیدا ہو۔
وزیراعظم نے اپوزیشن کے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی کہ اس بل کا فائدہ صرف بی جے پی کو ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر تمام پارٹیاں مل کر اس بل کی حمایت کریں گی، تو اس کا سیاسی فائدہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تمام سیاسی قوتیں اس سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔"سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کے فلسفے کے تحت خواتین کو بااختیار بنانا کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ایجنڈا ہونا چاہیے۔
یو این آئی۔م ا ع