NationalPosted at: May 13 2026 2:44PM پوکھرن تجربہ کی سالگرہ پر مودی نے کہا، اس مہم نے ہندوستان کے 'اٹل سنکلپ' کا مظاہرہ کیا

نئی دہلی، 13 مئی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو 1998 کے ایٹمی پوکھرن تجربہ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم نے ہندوستان کے 'اٹل سنکلپ' کا مظاہرہ کیا اور دنیا کو ثابت کر دیا کہ کوئی بھی بیرونی دباؤ ملک کو جھکنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا مسٹر مودی نے بدھ کو ایٹمی تجربہ کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 1998 میں آج ہی کے دن ہندوستان کی جانب سے کیے گئے ایٹمی تجربات نے دنیا کو دکھایا کہ ہماری قوم کا عزم کتنا اٹل ہے۔ 11 مئی کو ہوئے تجربات کے بعد پوری دنیا ہندوستان پر دباؤ بنا رہی تھی لیکن ہم نے دکھا دیا کہ کوئی بھی طاقت ہندوستان کو جھکا نہیں سکتی۔
وزیر اعظم کا یہ تبصرہ ملک کی جانب سے دوسرے پوکھرن تجربات کی ایک اور سالگرہ منانے کے موقع پر آیا ہے، جسے 'آپریشن شکتی' کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ہندوستان کی اسٹریٹجک اور دفاعی تاریخ کا ایک تاریخی لمحہ تھا جس نے قوم کو ایک اعلانیہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک کے طور پر قائم کیا۔ ان تجربات کے تحت 11 اور 13 مئی 1998 کو راجستھان کے پوکھرن ٹیسٹ رینج میں پانچ ایٹمی ہتھیاروں کے زیر زمین تجربات کیے گئے تھے۔ یہ تجربات سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں کیے گئے تھے۔ ان تجربات نے اس وقت بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا تھا، جن میں کئی مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ اور جاپان کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں اور سفارتی دباؤ شامل تھے۔ حالانکہ، واجپئی حکومت نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے چیلنجنگ علاقائی ماحول میں ہندوستان کے قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری بتایا تھا۔ دوسرے پوکھرن تجربات کو بڑے پیمانے پر ہندوستان کے اسٹریٹجک نظریے میں ایک فیصلہ کن موڑ مانا جاتا ہے اور اس نے بالآخر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت کے طور پر ہندوستان کے ابھرنے کا راستہ ہموار کیا۔ ان تجربات نے ہندوستان کی طویل مدتی ایٹمی پالیسی کو بھی شکل دی، جس میں قابل اعتماد 'کم سے کم ڈیٹرنس' اور 'پہلے استعمال نہ کرنے' کا اصول شامل ہے۔ مسٹر مودی نے اکثر اپنی تقریروں میں پوکھرن تجربات اور مسٹر واجپئی کی قیادت کا ذکر کیا ہے اور اس مہم کو قومی طاقت، خود انحصاری اور اسٹریٹجک خودمختاری کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے