NationalPosted at: Jun 15 2026 4:14PM سلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال

نئی دہلی، 15 جون (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو سلوواکیہ کے دورے پر پہنچنے پر کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری مزید گہری ہوگی مسٹر مودی نے سلوواکیہ کے دارالحکومت پہنچنے کے فوراً بعد کہا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلیگرینی اور وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا، "براتیسلاوا پہنچ گیا ہوں۔ یہ دورہ ہند-سلوواکیہ تعلقات کو گہرا کرنے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ صدر پیلیگرینی اور وزیر اعظم فیکو کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتوں کی امید ہے۔"
وہاں پہنچنے پر وزیر اعظم کا رسمی استقبال کیا گیا، جس میں سلوواکیہ کی صدیوں پرانی روایت کے مطابق انہیں بریڈ اور نمک پیش کیا گیا۔ یہ منفرد روایت مہمان نوازی، خیر سگالی اور دوستی کی علامت مانی جاتی ہے۔ مسٹر مودی نے اس استقبال کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا، "براتیسلاوا میں استقبال کے دوران بریڈ اور نمک پیش کرنے کی روایتی رسم دیکھنے کو ملی۔ یہ سلوواکیہ کے بھرپور ثقافتی ورثے اور وہاں کے لوگوں کی خیر سگالی و دوستی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔"
اس دورے کے دوران سلوواکیہ کی لوک روایات کو ظاہر کرنے والا ایک ثقافتی پروگرام بھی منعقد کیا گیا۔ وزیر اعظم نے میاوا علاقے کے لوک گروپ 'کوپانیسیارک' کی ایک دلکش پیشکش دیکھی۔ انہوں نے کسی ملک کی تاریخ اور شناخت کو برقرار رکھنے میں روایتی فنون کے کردار کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے کہا، "سلوواکیہ کے میاوا علاقے کے کوپانیسیارک گروپ کی ایک بہترین پیشکش دیکھی۔ اس طرح کی لوک روایات اپنی ثقافت اور تاریخ کو سنبھال کر رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔"
براتیسلاوا میں مسٹر مودی کا استقبال کرنے کے لیے ہندوستانی برادری کے لوگ بھی بڑی تعداد میں جمع ہوئے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے باہمی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس پُرجوش استقبال کے لیے غیر مقیم ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کمیونٹی کی یہ محبت ہندوستان اور سلوواکیہ کو جوڑنے والے مضبوط تعلقات کو اجاگر کرتی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا، "میں ہندوستانی برادری کے لوگوں کی اس محبت اور گرمجوشی کے لیے ان کا شکر گزار ہوں۔ ایسے جذبات ہمارے لوگوں کو جوڑنے والے مضبوط تعلقات کو ظاہر کرتے ہیں اور ہند-سلوواکیہ کی دوستی کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔"
وزیر اعظم کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان بدلتے ہوئے عالمی اور معاشی حالات کے درمیان وسطی اور مشرقی یورپی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو کا رکن سلوواکیہ، تجارت، سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، دفاعی تعاون، اختراع، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آمدورفت جیسے شعبوں میں ہندوستان کا ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔
صدر پیلیگرینی اور وزیر اعظم فیکو کے ساتھ مسٹر مودی کی ملاقاتوں میں معاشی تعاون بڑھانے، صنعتی شراکت داری کو مضبوط کرنے، تکنیکی تعاون میں بہتری لانے اور ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہونے کی امید ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔
ہندوستان اور سلوواکیہ کے درمیان دہائیوں سے دوستانہ سفارتی تعلقات رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھی ہے، جبکہ ہندوستانی کمپنیوں نے سلوواکیہ میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، خاص طور پر آٹوموبائل، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ وہیں سلوواکیہ کی کمپنیوں نے بھی ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معیشت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
براتیسلاوا کا یہ دورہ مسٹر مودی کے وسیع یورپی سفارتی رابطے کا حصہ ہے۔ امید ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی بات چیت، معاشی تعاون اور عوامی رابطوں کو مضبوط بنا کر ہند-سلوواکیہ تعلقات کو ایک نئی رفتار دے گا۔
یو این آئی ایف اے