Special StoryPosted at: Jan 25 2026 8:15PM عہد حاضر میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی مسلمانوں کی ترقی کی کلید

خصوصی مضمون: فہیم احمد
دنیا میں اس وقت جس رفتارسے تبدیلی رونما ہورہی ہے، ماضی میں شاید ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا اور یہ سب اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوا ہے، پہلے انٹرنیٹ نے دنیا کے ممالک کوایک دوسرے کے قریب کرکے پورے عالم کو ہی ایک گاؤں میں تبدیل کردیا اور اب سیمی کنڈکٹرز اور چھوٹی سے چھوٹی چپس کی تخلیق نے پورے جہان میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے، انہی چپس کی وجہ سے آج سبھی کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون نظر آتا ہے اور مصنوعی ذہانت جیسی پورے منظر نامے کو تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی وجود میں آئی، جس نے زندگی کو نہ صرف آسان بنایا ہے بلکہ مستقبل میں بنی نوع انسان کے لیے لامتناہی راہیں بھی کھول دی ہیں ۔
یہ کہا جاتا ہے اور حقیقت بھی ہے کہ اکیسویں صدی 'انفارمیشن ٹیکنالوجی' (آئی ٹی) کی صدی ہے۔ آج کے دور میں کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار اس بات پر مںحصر ہے کہ وہ جدید علوم اور ڈیجیٹل وسائل کا استعمال کس طرح کرتی ہے۔ ہندوستان، جو کہ دنیا میں آئی ٹی کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرا ہے، یہاں کے مسلمانوں کے لیے یہ شعبہ نہ صرف معاشی خوشحالی بلکہ سماجی وقار حاصل کرنے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔
تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال کے تعلق سے بات کی جائے تو ماضی میں ہندوستانی مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جدید تعلیم اور خاص طور پر ٹیکنالوجی سے دوری کی بنا پر پسماندگی کا شکار رہا۔ تاہم، گزشتہ دو دہائیوں میں اس رجحان میں تیزی تبدیلی آئی ہے۔ آج حیدرآباد، بنگلور، پونے اور نوئیڈا جیسے آئی ٹی ہب میں مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سافٹ ویئر انجینئرنگ، ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) جیسے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔
ایک بڑی اقلیت کے طورپر دیکھا جائے تو مسلمانوں میں ہونہار، ہنرمند اورباصلاحیت طلبا اور افراد کی کمی نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صلاحیت کو بروقت اور منظم طریقے سے بروئے کار لایا جائے۔ نوجوانوں کو وہ مواقع ملیں، جس کے وہ حقدارہیں۔ ملک میں ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جب تنگ دستی اور مفلسی کی حالت میں بھی مسلم طلبہ اور طالبات نے مسابقتی امتحانات میں کامیابیاں حاصل کرکے اعلی سرکاری عہدے حاصل کیے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں محض چند کامیابیوں پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان تمام ضرورت مند طلبا کی خواہشوں اور امنگوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہرثروت مند فرد اور تنظیموں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کامیابیوں سے ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ طلبہ میں کچھ کرگزرنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجودہے۔ وہ نہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں بلکہ سماج وملک کی ترقی میں بھی اپنا تعاون دینا چاہتے ہیں لیکن مواقع اور وسائل کی کمی ان کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے، جسے دورکیا جانا اشد ضروری ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق لینے کی ضرورت ہے، لمحوں کی خطا کی سزا صدیوں سے بھگت رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہی رہی کہ وقت کی نبض کو لوگ سمجھ نہیں سکے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کوڈھال نہیں پائے۔ یہ امر مسلم ہے کہ جو وقت کے ساتھ نہیں چل سکتا، اسے وقت فراموش کردیتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو بھی وقت کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سماج کے دیگر طبقات کے روبرو عزت اور وقار کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوسکیں اور اس کے لیے انھیں وہ تمام صلاحیتیں اور مہارتیں حاصل کرنی ہوں گی ، جن کی عصرحاضر میں مانگ ہے کیونکہ کسی بھی شعبے میں اعلی مقام تک پہنچنے کا واحد راستہ تعلیم وتربیت ہی ہے، اگر یہ شعور مسلمانوں کے اندر پیداہ وجائے تو دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے ۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی ایک ایسا شعبہ ہے، جہاں 'قابلیت' کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اس میں خاطر خواہ مواقع موجود ہیں۔ آئی ٹی کی ملازمتیں دیگر روایتی شعبوں کے مقابلے میں بہتر تنخواہ اور مراعات فراہم کرتی ہیں، جس سے کچھ حد تک مسلم خاندانوں کا معیارِ زندگی بلند ہو رہا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کے دور میں چھوٹے پیمانے پرہی سہی، مسلم نوجوان اپنے اسٹارٹ اپس شروع کر رہے ہیں۔ ای کامرس، تعلیمی ایپس اور فن ٹیک میں کئی کامیاب مثالیں سامنے آئی ہیں۔
ہندوستان میں کئی مسلم تعلیمی ادارے اور این جی اوز اب تکنیکی تعلیم پر توجہ دے رہے ہیں۔ اسکالرشپس اور کوچنگ سینٹرز کے ذریعے غریب مگر ذہین طلبہ کو آئی ٹی کے بڑے اداروں تک پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ طویل عرصہ سے یہ بات محسوس کی جارہی تھی کہ ملک کے مدارس کو بھی عصری تقاضوں کے مطابق اپنے نصاب میں تبدیلی کرنی چاہئے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ مدارس نے بھی اس اہم پہلو پر توجہ دی ہے اور وہاں بھی 'کمپیوٹر لیبز' قائم کی جا رہی ہیں۔ ندوۃ العلماء، دارالعلوم دیوبند جیسے شمالی ہند کے بہت سے مدارس کے فضلاء اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا استعمال کر کے اپنی بات کو جدید انداز میں پیش کررہے ہیں۔ یہ آئی ٹی اور مذہب کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے، جو منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے لیکن جنوبی ہند کی ریاستوں میں یہ کام منظم طریقے سے ہورہا ہے، جہاں مسلمانوں میں شرح خواندگی شمالی ہند کے مقابلے زیادہ ہے ۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے انقلاب نے مسلم خواتین کے لیے بھی ترقی کے وہ دروازے کھول دیے ہیں، جو پہلے بند تصور کیے جاتے تھے۔ وہ خواتین جو گھر سے باہر نکل کر کام کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہیں، وہ آئی ٹی کی بدولت گھر بیٹھے ویب ڈیزائننگ، کنٹینٹ رائٹنگ اور کوڈنگ کے ذریعے باعزت روزگار کما رہی ہیں۔
آئی ٹی ایک ایسا شعبہ ہے، جہاں جسمانی موجودگی سے زیادہ ذہنی صلاحیت اہمیت رکھتی ہے۔ بہت سی مسلم خواتین اپنے خاندانی اور مذہبی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے گھر بیٹھے بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے کام کر رہی ہیں۔ گرافک ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ٹیسٹنگ اور ڈیٹا انٹری جیسے شعبوں میں مسلم خواتین کی ایک بڑی تعداد 'فری لانسر' کے طور پر ابھری ہے، جس سے وہ معاشی طور پر خود کفیل ہو رہی ہیں۔
حالیہ برسوں میں بی ٹیک (بی ٹیک) اور بی سی اے (بی سی اے) جیسے کورسز میں مسلم طالبات کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ دقیانوسی تصورات کو توڑ کر آگے بڑھ رہی ہیں۔
ان تمام مثبت پہلوؤں کے باوجود کچھ چیلنجز اب بھی برقرار ہیں کیونکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے مسلم طلبہ کے پاس اب بھی کمپیوٹر اور تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی کی کمی ہے اور آئی ٹی کے اعلیٰ کورسز کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں اوربہت سے نوجوانوں میں ٹیلنٹ تو ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس سمت میں محنت کرنی ہے۔
ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل بڑی حد تک اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ اطلاعاتی ٹکینالوجی کو کتنی جلدی اور کس مہارت کے ساتھ اپناتے ہیں۔ آئی ٹی محض ایک پیشہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر میں ترقی کی کلید ہے۔ اگر مسلم نوجوان اپنی روایتی محنت کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ دیں، تو وہ نہ صرف ملک کی ترقی میں برابر کے شریک ہوں گے بلکہ امت کی معاشی اور تعلیمی حالت کو بدلنے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ مختصر یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اطلاعاتی ٹکنالوجی محض ایک نوکری پانے کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی برابری کا ایک طاقتوروسیلہ ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے